Thursday , September 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / مسلم نوجوانوں کو غور و فکر کی دعوت

مسلم نوجوانوں کو غور و فکر کی دعوت

محمد مظہر حسین ورنگلی

آج کل مسلم گھرانوں میں ایسی مثالیں عام ہیں، جہاں یا تو غیر معیاری جہیز کے عنوان پر بحث و مباحثے اور جھگڑے روزانہ کا معمول بن گئے ہیں، یا پھر شادی کے بعد لڑکی والوں کی جانب سے متوقع مالی منفعت کے حصول میں ناکامی پر لڑکی کو ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کرنا جہیز کے لالچی لڑکے والوں کا مشغلہ بنا ہوا ہے۔ چنانچہ لڑکے والوں کی ناجائز خواہشات اور جہیز جیسی ناپائیدار اشیاء کے لئے دونوں خاندانوں میں تلخیاں اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ نوبت ’’جہیز ہراسانی‘‘ مقدمہ تک پہنچ جاتی ہے، پھر اس کے بعد طلاق یا خلع کے ذریعہ نوبیاہتا جوڑے کی علحدگی عمل میں آتی ہے۔ جہیز کی یہ لعنت نہ جانے کتنی زندگیوں کو اب تک برباد کرچکی ہے اور نہ جانے کتنے خاندان اب تک بکھر چکے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو اس پر غور کرنا چاہئے اور معاشرہ سے جہیز کی لعنت کے خاتمہ کی فکر کرنا چاہئے۔
تقریباً نصف صدی سے مسلم نوجوانوں میں روزگار کے لئے خلیجی ممالک جانے کا رجحان عام ہے۔ روز بروز بڑھتی ضروریات کی تکمیل اور معاشی استحکام کے پیش نظر والدین بھی اپنے بچوں کو خلیجی ممالک جانے کی ترغیب دیتے ہیں، اس طرح مسلم نوجوانوں کی اکثریت آج بھی خلیجی ممالک کا رخ کر رہی ہے۔ ملازمت حاصل کرنے کے سال دو سال بعد لڑکے کی شادی طے کی جاتی ہے۔ لڑکی کے والدین بھی اس رشتہ سے خوش رہتے ہیں کہ بیرون ملک ملازم لڑکے سے ان کی لڑکی کا رشتہ طے ہوا ہے۔ پھر شادی کے کچھ دن بعد لڑکا اپنی ملازمت پر واپس چلا جاتا ہے اور ادھر نوبیاہتا لڑکی اس امید میں رہتی ہے کہ شوہر نامدار جلد یا بدیر اسے اپنے پاس بلالیں گے، لیکن مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں شوہر کی جانب سے ٹال مٹول کے علاوہ ’’کچھ دن انتظار کرو، ابھی حالات سازگار نہیں ہیں‘‘ جیسے حیلے بہانوں سے لڑکی کو بہلایا جاتا ہے۔ اس طرح ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ لڑکے کے پاس فیملی ویزا کا استحقاق ہی نہیں ہے، یا اگر ہے بھی تو گھر کے معاشی مسائل اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی بیوی کو ساتھ رکھ سکے۔ چنانچہ ایسی لڑکیاں معلق زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں، وہ نہ تو شوہر کے پاس جاسکتی ہیں اور نہ ہی انھیں اپنے میکے میں رہنے کی اجازت ملتی ہے۔ اگر کوئی لڑکی اس زیادتی کی شکایت کرتی ہے تو شوہر کی جانب سے فون پر دھمکی دی جاتی ہے، جس پر لڑکی دل مسوس کر رہ جاتی ہے۔ ان حالات میں گھریلو اختلافات اور جھگڑے روزانہ کا معمول بن جاتے ہیں اور پھر کسی دن یہ ناعاقبت اندیش لڑکا والدین کی مسلسل شکایتوں پر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔
مسلم معاشرہ میں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ خلیج میں ملازمت کرنے والے لڑکوں کی شادی ہوکر دس پندرہ سال گزر گئے، اس مدت کے دوران وہ صرف سال میں ایک مہینہ کی چھٹی پر آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس طویل عرصہ میں انھوں نے ازدواجی زندگی کے صرف دس پندرہ مہینے ہی اپنی بیوی کے ساتھ گزارے، جب کہ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے مغائر ہے، اس طرح کی زیادتی کرنے والے لڑکوں سے یقیناً باز پُرس ہوگی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اسلامی فتوحات کا دائرہ کافی وسیع ہو گیا تھا۔ مجاہدین طویل عرصہ تک جہاد میں مصروف رہا کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان مجاہدین کی بیویاں غمگین رہنے لگیں۔ حضرت فاروق اعظم اس صورت حال پر متفکر تھے، چنانچہ آپ نے اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ ’’عورت اپنے خاوند کے بغیر زیادہ سے زیادہ کتنے عرصہ تک صبر کرسکتی ہے؟‘‘۔ انھوں نے فرمایا: ’’چار ماہ یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ‘‘۔ اس جواب کو سننے کے بعد امیر المؤمنین نے حکم جاری کردیا کہ کوئی بھی مجاہد چھ ماہ سے زائد اپنے اہل و عیال سے دُور نہ رہے۔ اس طرح چھ ماہ کے بعد مجاہدین اسلام کو اپنے اہل و عیال میں آنے کی رخصت دے دی جاتی تھی۔ بیرون ملک ملازمت کرنے والوں کو مذکورہ واقعہ سے رہنمائی حاصل کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT