Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور ترقی کیلئے 12 فیصد تحفظات لازمی

مسلم نوجوانوں کی تعلیم، روزگار اور ترقی کیلئے 12 فیصد تحفظات لازمی

بی سی کمیشن کی سفارشات سے ہی مسلمانوں کو دستوری حق کی فراہمی ممکن، مسلم نمائندوں کے وفد سے جناب زاہدعلی خاں کا خطاب
حیدرآباد 6 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کے لئے بی سی کمیشن کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں نے آج مختلف مقامات پر نمائندگیاں پیش کیں۔ ضلع عادل آباد میں آج سدھیر کمیشن کے دورہ کے پیش نظر مسلمانوں نے کمیشن کو اپنی حالت زار سے واقف کرایا اور کمیشن سے درخواست کی کہ وہ جلد از جلد مسلمانوں کے تعلق سے رپورٹ پیش کریں اور رپورٹ میں مسلمانوں کے اس مطالبہ کو پیش رکھنے کی درخواست کی گئی جس میں ترقی کے اقدامات کے علاوہ بی سی کمیشن کا قیام سرفہرست اہم مطالبہ ہے۔ ضلع عادل آباد سے قبل کمیشن تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں اپنا دورہ کرچکا ہے۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک اور مسلمانوں میں شعور بیداری کے زبردست نتائج برآمد ہورہے ہیں اور مسلمانان تلنگانہ اپنے مسائل بالخصوص حقوق کے لئے آواز بلند کررہے ہیں۔ خانہ پور ضلع عادل آباد میں ملی، مذہبی، سیاسی، سماجی تنظیموں سے وابستہ مسلمانوں نے سدھیر کمیشن سے رجوع ہوکر تعلیمی پسماندگی اور معاشی پسماندگی سے متعلق شکایات درج کروائیں جبکہ تحریک کے ثمرآور نتائج اور بہترین عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے مختلف تنظیموں کی جانب سے سیاست کے ذمہ داروں کو مبارکباد، تہنیت اور گلپوشی اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس خصوص میں آج آل انڈیا مسلم تھنک ٹینک اسوسی ایشن نے ایڈیٹر سیاست و 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کے سرپرست اعلیٰ جناب زاہد علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کی۔ تحریک کی شروعات اور مسلمانوں میں شعور بیداری کرتے ہوئے حصول تحفظات پر اقدامات کی ستائش کی اور انھیں تہنیت پیش کی۔ اس موقع پر جناب زاہد علی خاں نے مسلم تھنک ٹینک اسوسی ایشن کے وفد کو مشورہ دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ نمائندگیوں پر توجہ مرکوز کریں۔ انھوں نے وفد سے کہاکہ بی سی کمیشن کے قیام کے مطالبہ میں شدت پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے بی سی کمیشن کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ بی سی کمیشن کی سفارش پر حاصل تحفظات کو ملک کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ جناب زاہد علی خاں نے کہاکہ نوجوان مسلم نسل کی تعمیر اور ترقی کے لئے تحفظات ناگزیر ہیں۔ تحفظات کے ذریعہ تعلیمی پسماندگی کو دور کرتے ہوئے روزگار کے مواقع سے معاشی پسماندگی کو بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ اس وفد میں نور محمد، ایم ایم شریف، شیخ احمد، سید خلیق الدین، سہیل احمد، محمد رحیم الدین، مرزا شاکر بیگ، محمد خلیل، عبدالمجید صدیقی، خالد منان کے علاوہ صدر آل انڈیا مسلم تھنک ٹینک سید شمشاد قادری و دیگر موجود تھے۔ ضلع رنگاریڈی کے مومن پیٹ تحصیلدار دفتر پہونچ کر المومن ٹرسٹ کے وفد نے یادداشت پیش کی۔ صدر ٹرسٹ محمد اشفاق المومن کے علاوہ اس موقع پر محمد حاجی، عتیق، محمد اقبال، جعفر، نواب، بابا و دیگر موجود تھے۔ گمبھی راؤ پیٹ میں مسلمانوں کے ایک وفد رکن ایم پی ٹی سی محمد حمیدالدین خالد، صدر ٹاؤن کانگریس اقلیتی سیل، قطب الدین سماجی قائد محمد ایوب خان صدر انتظامی کمیٹی جامع مسجد گمبھی راؤ پیٹ سید آصف علی سعادت و دیگر نے ایک پروگرام کے دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے ملاقات کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے یادداشت پیش کی۔ نظام آباد میں مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا شاخ نظام آباد کی جانب سے ضلع کلکٹر کو ایک یادداشت پیش کی۔ اس موقع پر ایم ایس او کے محمد سہیل، ڈاکٹر عرفان، عارف حسین، محمد عزیز، حسین رضا و دیگر موجود تھے۔ روزنامہ سیاست کی 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کے تحت آج تلنگانہ کے اضلاع میں یادداشتیں پیش کی گئیں اور بی سی کمیشن کے فوری قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT