Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں کی صرف شبہ کی بنیاد پر اندھادھند گرفتاریاں نامناسب

مسلم نوجوانوں کی صرف شبہ کی بنیاد پر اندھادھند گرفتاریاں نامناسب

پولیس اور حکومت پر بھروسہ متزلزل ہوگا، سخت گیر اقدامات ناگزیر، 80% سے زائد مسلمان پسماندہ : سدھیر کمیشن
اہم سفارشات
l  یکساں مواقع کمیشن قائم کیا جائے
l   بجٹ میں علیحدہ سب پلان
l   اُردو کی محفوظ جائیدادوں کو غیرمحفوظ بناکر تقررات
عمل میں لائے جائیں
l   دینی مدارس کو سرکاری اسکول کے مساوی درجہ
l   سیول سرویسیس میں موثر نمائندگی
l   ریاستی سطح پر مدرسہ بورڈ کا قیام

حیدرآباد۔/27اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کا جائزہ لینے والے سدھیر کمیشن آف انکوائری نے شک کی بنیاد پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو روکنے کیلئے سخت گیر اقدامات کی سفارش کی ہے۔ کمیشن کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں اہم سفارش کے طور پر حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ تلنگانہ کی پولیس پر مسلمانوں کے اعتماد کو برقرار رکھے۔ مسلمانوں کو پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر صیانتی اداروں پر مکمل بھروسہ ہے۔ مسلمانوں میں اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے ان کی اندھادھند گرفتاریوں اور شبہ کی بنیاد پر دہشت گردی اور دیگر جرائم کے تحت گرفتاریوں کو روکنے کی  ضرورت ہے ۔اس سلسلہ میں پولیس کو ترغیب دی جائے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ دارالحکومت حیدرآباد میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو یقینی بنائیں۔ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں عوامی سماعت کے دوران اس بات کو محسوس کیا تھا کہ دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ صرف شبہ کی بنیاد پر گرفتاریوں کو جاری رکھنے سے پولیس اور دیگر اداروں پر سے مسلمانوں کا اعتماد متزلزل ہوجائیگا۔ سدھیر کمیشن نے تمام شعبہ جات میں مسلمانوں کی مناسب حصہ داری کیلئے ’’ یکساں مواقع کمیشن‘‘  کے قیام کی سفارش کی ہے تاکہ سرکاری ملازمتوں میں تقررات، مختلف فنی اور مسابقتی کورسیس میں تربیت اور ترقیاتی پروگراموں میں مسلمانوں کی دیگر طبقات کے برابر حصہ داری کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ کمیشن ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات میں مسلمانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے پر نظر رکھے گا۔ یکساں مواقع کمیشن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خانگی اور عوامی شعبہ جات میں بھی دیگر طبقات کے ساتھ مسلمانوں کو یکساں مواقع فراہم ہوں۔ یہ کمیشن خود مختار ادارہ کے طور پر کام کرے اور مسلمانوں کے خلاف کسی بھی تعصب یا جانبداری کی تحقیقات کرے چاہے وہ کسی معاشی، مذہبی، ذات پات، زبان یا کسی اور بنیاد پر ہو۔ یکساں مواقع کمیشن ہر شعبہ کا احاطہ کرے۔ تعلیم، روزگار، امکنہ، صحت اور ترقیاتی اسکیمات تک اس کی رسائی رہے ان تمام معاملات میں اصلاح اور ناانصافیوں کے تدارک کیلئے کمیشن کو کام کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کو قرضہ جات کی منظوری، مکانات کی فراہمی اور تعلیمی میدان میں ناانصافی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ بھی یکساں مواقع کمیشن کی ذمہ داری ہونی چاہیئے۔ سدھیر کمیشن نے ہر شعبہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف کرتے ہوئے ثابت کیا کہ 80 فیصد سے زائد مسلمان پسماندہ ہیں۔ کمیشن نے اردو مدارس کی زبوں حالی اور ان کے ناقص معیار تعلیم کی بھی نشاندہی کی ہے۔ کمیشن نے اردو ذریعہ تعلیم کے طلباء کو انگریزی بطور مضمون پڑھانے کی سفارش کی ہے تاکہ اردو میڈیم طلباء کے معیار میں اضافہ ہو۔ ہائی اسکول سے طلباء کو ذریعہ تعلیم تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے۔ کمیشن نے اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں کو فوری پُر کرنے اور ایس سی ، ایس ٹی زمرے کی محفوظ جائیدادوں کو غیر محفوظ کرتے ہوئے انہیں فوری پُر کرنے کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے اردو میڈیم کے سبجیکٹ ٹیچرس کے فوری تقررات کی سفارش کی ہے۔ سدھیر کمیشن نے ایس سی، ایس ٹی کی طرز پر مسلمانوں کیلئے بجٹ میں علحدہ سب پلان کی حکومت سے سفارش کی ہے تاکہ مسلمانوں کی ترقی پر مناسب رقمی گنجائش فراہم کی جاسکے۔ کمیشن نے مسلمانوں کی بھلائی کیلئے مختص کردہ بجٹ دیگر محکمہ جات کو منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے اور بجٹ کے مکمل خرچ کو یقینی بنانے کی سفارش کی۔ کمیشن نے مسلمانوں کی بہبود کی اسکیمات کے بجٹ کو دیگر اسکیمات میں منتقل کرنے کی بھی مخالفت کی ہے۔ کمیشن نے تعلیمی وظائف کے تحت غریب مسلم خاندانوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں تعاون کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ تعلیمی وظائف سے تعلیم ترک کرنے کے رجحان میں کمی واقع ہوگی۔ کمیشن نے ایس سی، ایس ٹی کی طرز پر مسلم طلباء کو بھی تعلیمی اداروں میں داخلے فراہم کرنے اور مقررہ وقت پر تعلیمی فیس اداروں کو جاری کرنے کی سفارش کی۔ کمیشن نے کہا کہ بعض خانگی تعلیمی ادارے مسلم طلباء سے پہلے فیس ادا کرنے کا اصرار کررہے ہیں یہ طریقہ کار ختم ہونا چاہیئے۔ کمیشن نے دینی مدارس کو سرکاری اسکولوں کے مساوی درجہ دینے اور انہیں اہم دھارے میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ کمیشن نے کہا کہ یہ کام دینی مدارس کے نصاب اور بنیادی ڈھانچہ میں کسی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کے بغیر کیا جائے۔ دینی مدارس کو سروا سکھشا ابھیان سے جوڑ کر مسلمانوں میں ناخواندگی کے فیصد میں کمی کی جاسکتی ہے۔ دینی مدارس میں سائنس، میاتھس جیسے مضامین کو نصاب میں شامل کرتے ہوئے سروا سکھشا ابھیان سے اساتذہ فراہم کرنے کی سفارش کی گئی۔ سدھیر کمیشن نے ریاست کی سطح پر مدرسہ بورڈ قائم کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ اس میں شمولیت کو  دینی مدارس کیلئے اختیاری رکھا جائے۔ کمیشن نے دوپہر کے کھانے کی اسکیم پر سختی سے عمل آوری کی سفارش کی اور کہا کہ اس اسکیم کی موثر نگرانی بھی کی جانی چاہیئے۔ کمیشن نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے کورسیس میں طلباء کو تعلیمی وظائف اور دیگر ترغیبات کی سفارش کی اور کہا کہ طالبات کیلئے زیادہ ترغیبات فراہم کی جائیں تاکہ لڑکیوں میں تعلیم ترک کرنے کا رجحان کم کیا جاسکے۔ سرکاری اور خانگی یونیورسٹیز میں مسلم اساتذہ کے تقرر کی سفارش کی گئی۔ کمیشن نے اڈمنسٹریٹو سرویسس جیسے آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس میں کم مسلم نمائندگی کی تلافی کیلئے اقدامات کی سفارش کی۔ تقررات کیلئے سلیکشن پیانل میں مسلمانوں کو شامل کیا جائے اور جہاں راست تقررات کا موقع ہو وہاں کم سے کم سلیکشن پیانل میں ایک مسلم نمائندہ شامل ہو۔ ڈپارٹمنٹل پرموشن کے سلسلہ میں ایک مسلم نمائندہ کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔ کمیشن نے محکمہ اقلیتی بہبود کو انتظامی سطح پر مستحکم کرنے اور اسٹاف کی کمی دور کرنے کیلئے بھی سفارشات پیش کی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT