Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں کی گرفتاری سے پیدا شدہ بے چینی دور کریں

مسلم نوجوانوں کی گرفتاری سے پیدا شدہ بے چینی دور کریں

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی کمشنر پولیس حیدرآباد مہیندر ریڈی کو ہدایت
حیدرآباد۔/20اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کمشنر پولیس مہیندر ریڈی کو ہدایت دی کہ سعیدآباد اور کرما گوڑہ کے علاقوں میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں سے پیدا شدہ بے چینی کی فضاء کو دور کرنے کے اقدامات کریں۔ انہوں نے 13سال قبل کے واقعہ میں مبینہ طور پر شمولیت کے نام پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کمشنر پولیس سے کہا کہ سعیدآباد اور کرما گوڑہ میں پولیس کی جانب سے 3 نوجوانوں کو حراست میں لینے اور انہیں عدالتی تحویل میں دینے کے واقعہ نے عوام میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ انہوں نے ماتحت عہدیداروں کو گرفتاریوں سے گریز کرنے کی ہدایت دینے کا مشورہ دیا۔ واضح رہے کہ مقامی افراد کے وفد نے جماعت اسلامی کے ذمہ داروں کے ساتھ آج ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے ملاقات کی اور انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ 13 سال قبل مولانا نصیر الدین کی گرفتاری کے موقع پر پولیس فائرنگ میں جاں بحق مجاہد سلیم کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسپیشل انوسٹگیٹیو ٹیم نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لارہی ہے ان میں کئی نوجوان ایسے ہیں جنہیں صرف شبہ کی بنیاد پر گرفتار کیا جارہا ہے کیونکہ ان کے نام پولیس کے پاس موجود ناموں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ 3 نوجوانوں کو پولیس نے عدالتی تحویل میں دے دیا اور مزید 15 نوجوانوں کی تلاش کیلئے مختلف علاقوں میں ایس آئی ٹی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کمشنر پولیس مہیندر ریڈی سے ربط قائم کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کی جانب سے نوجوانوں کو ہراسانی بند کرنے کی ہدایت دی۔ وفد نے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو سے بھی نمائندگی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد ایس آئی ٹی عہدیداروں نے گرفتار کئے گئے نوجوانوں کی ضمانت کی مخالفت نہ کرنے کا تیقن دیا ہے جس سے ان کی رہائی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس آئی ٹی کی جانب سے نوجوانوں کو نوٹس کی اجرائی کے باوجود وہ تحقیقاتی ٹیم سے رجوع نہیں ہوئے جس کے باعث ناموں کی مماثلت کے شبہ میں گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ ایس آئی ٹی کے پاس جن 15 نوجوانوں کے ناموں کی فہرست ہے ان میں کسی کا رہائشی پتہ درج نہیں ہے لہذا ایس آئی ٹی حکام ناموں کی مماثلت رکھنے والے نوجوانوں کو ہراساں کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو فوری واضح ہدایات جاری کرنے چاہئے تاکہ کرما گوڑہ اور سعیدآباد میں مزید گرفتاریوں کو روکا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT