Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوان اور دلت ، پولیس کا آسان نشانہ

مسلم نوجوان اور دلت ، پولیس کا آسان نشانہ

عثمانیہ یونیورسٹی میں آل انڈیا یونیورسٹی اسٹوڈنٹس فیاکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی کانفرنس ، ماہرین تعلیم اور صحافیوں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 6 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : سارے ملک میں انکاونٹرس کے نام پر ماویسٹوں ، دلتوں ، قبائیلوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ حکومتیں مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہوئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو بچانے میں مصروف ہیں ۔ اسی طرح وہ دستور کی توہین کی مرتکب ہورہی ہیں ۔ آج ہندوستان میں کمزور طبقات اور اقلیتوں پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حملے کئے جارہے ہیں اور اس ظلم و نا انصافی کا سلسلہ اسی وقت رک سکتا ہے جب سیول لبرٹیز کی تنظیمیں اور عوام حکمرانوں کا گریبان پکڑلیں انہیں جوابدہی کے کٹہرے میں لاکھڑا کریں ۔ ان خیالات کا اظہار عثمانیہ یونیورسٹی لائبریری کے ایس آر سی آئی سی ایس ایس آر میں آندھرا پردیش ۔ اڈیشہ سرحد پر ہوئے فرضی انکاونٹر پر منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں دانشور ، صحافیوں ، ماہر تعلیم اور حقوق انسانی کے جہدکاروں نے کیا ۔ کانفرنس کے دوسرے دن کے دوسرے سیشن میں صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا ۔ پروفیسر پدمجا نے اس سیشن کی صدارت کی ۔ انہوں نے مکہ مسجد بم دھماکوں کے حوالے سے بتایا کہ مکہ مسجد فائرنگ واقعہ کی رپورٹ آج تک پیش نہیں کی گئی ۔ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں مسلم نوجوانوں اور آدی واسیوں کو غلط طور پر ماخوذ کرتی ہیں ۔تلگو روزنامہ ساکشی کے ایڈیٹر مسٹر دلیپ ریڈی نے آندھرا پردیش ، اوڈیشہ سرحد پر 24 اکٹوبر کو پیش آئے انکاونٹر کو قتل عام سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سے لے کر حکمراں اور سیاستداں اسے حفاظت خود اختیاری کا نام دیتے ہیں ۔ اس دو روزہ سمینار میں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا لیکن دیگر مصروفیات کے باعث ان کی نمائندگی سب ایڈیٹر سیاست محمد ریاض احمد نے کی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی سطح پر سامراجی طاقتیں ایک نیو ورلڈ آرڈر پر عمل پیرا ہیں ۔ ان کا مقصد غریب اور قدرتی وسائل جیسے تیل گیس دھاتوں وغیرہ سے مالا مال ملکوں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کر کے ترقی اور خوشحالی کے نام پر انسانوں کو اپنا غلام بنانا ہے ۔ عراق ، افغانستان ، یمن ، سوڈان اور دنیا کے مختلف ملکوں میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اسی عالمی سازش کا حصہ ہے ۔ ہندوستان میں بھی سامراجی طاقتوں کے آلہ کار دلتوں ، آدی واسیوں اور مسلمانوں کی آواز دباکر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرنے کے خواہاں ہیں ۔ محمد رےآض احمد نے متحدہ آندھرا پردیش اور ریاست کی تقسیم کے بعد پولیس کے ہاتھوں مارے گئے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس میں موجود ایک مخصوص گوشہ اپنے آقاؤں کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے اپنے سینوں پر میڈلس سجالیتا ہے ۔ وقار الدین اور دیگر 5 مسلم قیدیوں کا ورنگل ، نلگنڈہ سرحد پر کئے گئے انکاونٹرس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ان مسلم نوجوانوں کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا ۔ تب ہی تو حقوق انسانی کے جہدکار اب بھی اسے فرضی انکاونٹر ہی قرار دے رہے ہیں ۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں سیمی کے مبینہ کارکنوں کی جیل سے فراری اور پھر ان کے انکاونٹر کو بھی ایک سازش کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ جیل سے بھاگنے والے مسلم قیدیوں کو قتل کردیا جاتا ہے جب کہ خالصتان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہرمیندر سنگھ منٹو کو جیل سے فراری کے بعد بڑے عزت و احترام کے ساتھ گرفتار کیا گیا جس سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور حکومتوں کا دوغلاپن اور دوہرا معیار و تعصب ظاہر ہوتا ہے ۔ محمد ریاض احمد نے میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا آج مودی حکومتوں کے ہاتھوں کھولنا بن چکا ہے ۔ تب ہی تو نوٹ بندی سے پریشان عوام کی کوئی سننے والا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دلت اور مسلمان پولیس اور فرقہ پرستوں کا آسان نشانہ ہیں ۔ مسٹر گوردھن ، پروفیسر اے ناگیشور راؤ اور صحافی لینن نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ اڈیشہ ۔ آندھرا پردیش سرحد پر پولیس نے 32 لوگوں کا قتل کیا جس میں 10 آدی واسی ہیں ۔ اس موقع پر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ، جے این یو ، دہلی یونیورسٹی ، انگلش اینڈ فارن لینگویج یونیورسٹی ، عثمانیہ یونیورسٹی اور کئی یونیورسٹیز کے 26 طلبہ پر مشتمل کمیٹی کی تیار کردہ حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جس میں اڈیشہ ۔ آندھرا پردیش سرحد پر ماویسٹوں کے انکاونٹر کو قتل عام قرار دیا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT