Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / مسلم پارٹیوں کی آڑ میں مسلم ووٹوں کی تقسیم زعفرانی پارٹی کا ایجنڈہ

مسلم پارٹیوں کی آڑ میں مسلم ووٹوں کی تقسیم زعفرانی پارٹی کا ایجنڈہ

دولت یا مقدمات کی دھمکی سے مسلمانوں کے نمائندوں سے سودے بازی

حیدرآباد۔25مئی (سیاست نیوز) جمہوری نظام میں عوام کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن ہندستانی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کی چال بازیاں عوام کو منقسم کرتے ہوئے ان کی وقعت کو گھٹانے میں مصروف ہیں جو کہ جمہوری نظام کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ سال 2014میں ہوئے انتخابات نے ملک میں نئی سیاسی شیرازہ بندی کی ہے جو کہ ہندستان کو مذہبی خطوط پر منقسم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے۔2014عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 282نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہی اپنی تمام چالبازیوں کے ذریعہ مسلم ووٹ بینک کی سیاست اور سیکولر ووٹ کی تقسیم کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔ عام انتخابات کے فوری بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں منعقد ہوئے انتخابات میں جو سازشیں رچی گئیں ان سے ہر کوئی واقف تو نہیں ہیں لیکن سیاسی ماہرین اور حالات کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی درپردہ مسلم سیاستدانوں کا استعمال کرتے ہوئے مسلم ووٹ کی تقسیم کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کی آڑ میں ’’ کارپوریٹ بھکت بھارت‘‘ کی تشکیل میں مصروف ہے۔ ملک کے عوام کی تقسیم سے ان سیاسی جماعتوں کو کیا فائدہ حاصل ہوگا‘ اس بات پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ سیاستداں جن میں بیشتر کے کوئی کاروبار نہیں ہیں وہ کیسے کروڑہا روپئے کے مالک بن رہے ہیں؟ ملک میں جمہوری نظام حکمرانی در حقیقت کارپوریٹ گھرانوں کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے اور ان کارپوریٹ گھرانوں کی جانب سے عوام کو مذہبی منافرت جیسے مسائل میں الجھائے رکھتے ہوئے حقیقی مسائل پر متوجہ ہونے سے روکنا ہے۔دہلی میں یہ تجربہ ناکام ثابت ہوا جس کی بنیادی وجہ باشعور رائے دہندے اور وہاں مذہب کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعت کا نہ ہونا ہے۔ مذہبی جذبات کے استحصال کی گنجائش نہ ہونے کے سبب دہلی میں بی جے پی اور کانگریس کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ 2014عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار کا فائدہ حاصل ہو

ا لیکن ان انتخابات کے بعد ہندستان کے امن پسند و سیکولر شہریوں کا بھی بہت بڑافائدہ یہ ہوا کہ جنہیں وہ اپنا مسیحا سمجھتے تھے ان کے چہروں سے نقاب الٹ گئے۔ بی جے پی کو ملی بھاری اکثریت نے 2014سے قبل کانگریس کیلئے کام کرنے والے سیاسی خانوادوں کو بی جے پی اقتدار کی چوکھٹ پر لا کھڑا کردیا جس کے نتیجہ میں ان سیاسی خانوادوں کی حقیقت عوام کے سامنے کھلنے لگی چونکہ ان کی حرکتیں بالواسطہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔بہار انتخابات میں اے اے فاطمی کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں گھوم کر آر جے ڈی کے حق میں انتخابی مہم چلانے اور کالجس میں داخلے دینے کی باتیں کوئی بہت پرانی نہیں ہیں اور بہار میں گزشتہ انتخابات میںآر جے ڈی و عظیم اتحاد کے خلاف اپنے ہی امیدوار میدان میں اتارنے کے فیصلہ نے عوام کے شبہات کو یقین میں بدل دیا۔ مہاراشٹرا میں جو تجربہ کیا گیاتھا اس میں زبردست کامیابی ملنے کے نتیجہ میں بہار میں اسی تجربہ کو دہراتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ قومی سطح پر مخالف ہندو اور مخالف مسلم سیاسی گروپس کی تشکیل ہو سکے ۔

مہاراشٹرا میں مسلمانوں کی جماعت نے زائد از 20نشستوںپر مقابلہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف2نشستوں پر کامیابی ملی اننشستوں پر مقابلہ کا اثر یہ ہوا کہ کانگریس اور ین سی پی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔آسام کی کیفیت بھی کچھ الگ نہیں رہی بلکہ آسام میں بھائی کی مسلم جماعت نے جنوب کے بھائی کا کام انجام دیا۔اسی لئے جنوب کے بھائی کو آسام کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئی اور آسام کے بھائی نے مسلم اور سیکولر ووٹ کا کام تمام کر دیا۔آسام میں کانگریس کی ہٹ دھرمی بھی نقصاندہ رہی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں آسام کی مسلم جماعت کے بھائی کے دبئی و دیگر ممالک میں کاروبار اور انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کے خوف نے بھی انہیں بڑی حد تک مجبور کر دیاتھا جس کے سبب انہوں نے کامیابی کی راہیں ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔چند ایک مقامات پر بنک کھاتوں کو منجمد کرنے کی دھمکی کارآمد ہوئی ہے تو کسی مقام پر مقدمات اور غیر قانونی اثاثہ جات کو نشانہ بناکر دھمکایا جانے کی رپورٹ ملی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT