Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت نہ کرنے راجناتھ سنگھ کی حقیقت آشکار

مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت نہ کرنے راجناتھ سنگھ کی حقیقت آشکار

ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی کی نمائندگی بھی اکارت ثابت
حیدرآباد۔/8اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہ کرنے سے متعلق مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے تیقن کی حقیقت اس وقت آشکار ہوگئی جب مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا کے خلاف حلف نامہ داخل کرتے ہوئے شریعت اسلامی میں راست طور پر مداخلت کی کوشش کی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں نئی دہلی میں ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی نے راجناتھ سنگھ سے ملاقات کے موقع پر مسلم پرسنل لا میں مداخلت اور یکساں سیول کوڈ کی تیاریوں کے بارے میں مسلمانوں میں پائے جانے والے شدید جذبات سے واقف کرایا تھا۔ راجناتھ سنگھ نے واضح طور پر تیقن دیا تھا کہ پرسنل لا میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور مرکزی حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ اس تیقن کے چند دن میں ہی مرکزی حکومت نے وزارت قانون کے ذریعہ سپریم کورٹ میں 26 صفحات پر مشتمل حلف نامہ داخل کیا جس میں طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج کی مخالفت کی گئی۔ مرکز نے ایک سے زائد شادی کے حق پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے دستور کے مغائر قرار دیا۔ مسلمانوں میں خواتین سے ناانصافی اور عدم مساوات کا دعویٰ کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں مرکز کے اس مخالف پرسنل لا موقف سے تلنگانہ کے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو متحدہ طور پر شریعت میں مداخلت کی ان ناپاک کوششوں کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ عوام کا یہ احساس ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے ذریعہ مرکز سے شریعت میں مداخلت کے خلاف نمائندگی کرانی چاہیئے۔ اگر ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں اور ان کی شریعت کے تحفظ کے حق میں ہے تو چیف منسٹر کو چاہیئے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کریں۔ کے سی آر نے اقلیتی بہبود اور مسلمانوں کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کرتے ہوئے خود کو سیکولر اور مسلم دوست ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن مسلم پرسنل لا کے مسئلہ پر انہیں مرکز کو اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے پھر ایک بار مسلم دوستی کو ثابت کرنا چاہیئے۔ مرکز نے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی تیاریوں کا خفیہ طور پر آغاز کردیا ہے۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین کا بھی احساس ہے کہ چیف منسٹر سے قربت رکھنے والے مسلم عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چیف منسٹر کے ذریعہ مرکز کو شریعت میں مداخلت سے باز رکھنے کیلئے نمائندگی کریں۔

TOPPOPULARRECENT