Friday , August 18 2017
Home / مضامین / مسلم پرسنل لاء بورڈ کا قابل ستائش فیصلہ

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا قابل ستائش فیصلہ

غضنفر علی خان
ملک کے بدلتے ہوئے حالات اور فرقہ پرستوں کے جارحانہ تیور کو دیکھ کر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یہ دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک کے دستور اور ہندستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی دینی شناخت کو بچانے کے لئے ایک تحریک سارے ملک میں چلائے گا ۔ پرسنل لاء بورڈ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے مسلمانوں کا سب سے بڑا اور نمائندہ ادارہ ہے اس کی بنیادیں بہت وسیع ہیں ۔ بورڈ میں مسلم اقلیت کی تمام شاخیں شامل ہیں اور اس طرح بورڈ کا فیصلہ سارے مسلمانوں کے لئے قابل قبول بھی ہوتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں دین اور دستورکے تحفظ کا احساس بورڈ کو ہوا ۔ پچھلے 14 ماہ سے مرکزی حکومت کی پالیسیاں اقلیت کے لئے پریشان کن ہوگئی ہیں ۔ ان کی سماجی ، دینی شناخت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ اپنی منفرد سی شناخت کو محفوظ رکھنے اور تمام خطرات کا جم کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ملک کی آزادی کے 69 سال بعد کبھی محسوس نہیں کی گئی تھی ۔ بی جے پی حکومت میں شامل بعض وزراء اور پارٹی کے ذمہ دار لیڈر مسلمانوں کی دینی پہچان مٹانے کے لئے کچھ نہ کچھ بیان بازی کررہے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے دستور میں تمام مذاہب اور عقائد کو کامل آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہیں ، لیکن آج کی مذموم فضا میں مسلمانوں کو بلاشبہ یہ خطرہ درپیش ہے کہ کوئی ان کی دینی شناخت کو ختم کرنے کے درپے ہے ۔ یہ بات یہ روش ہمارے دستو رکی اصل اسپرٹ کے برعکس ہے  ۔تاہم بعض عناصر دستور کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ماورائے دستور بیان بازی کررہے ہیں ۔

یہ دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اگر آج ان طاقتوں کو من مانی کرنے سے نہیں روکا گیا تو ہمارے عظیم الشان دستور کی جمہوری اور سیکولر شناخت ہی ختم ہوجائے گی ۔ ماورائے دستور باتیں کہنے اور اقلیتی طقبہ کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرنے والوں کو آج ان کی ابتدائی کوشش سے انھیں روکا نہیں گیا تو آئندہ ان سے واقعی خطرہ ہوسکتا ہے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنی اس دستور بچاؤ تحریک میں تنہا نہیں ہے اور اس بات کا احساس بورڈ کے سربراہوں کو بھی ہے ۔ اس لئے تحریک شروع ہونے سے قبل ہی بورڈ نے دستور کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے والی تمام طاقتوں کو بھی اپنا ساتھ دینے کی دعوت دی ہے ۔ یہ پہلو اور بھی بہت اہم ہے دستور بچاؤ جدوجہد میں ملک کی قانون پسند اور دستور کا احترام کرنے والی طاقتوں کو بھی ساتھ لیا جائے ۔ ہمارے ملک میں ایسی طاقتوں کی بھی کمی نہیں ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ قانون پسند اور دستور کا احترام کرنے کے لئے ساری ہندوستانی قوم تیار ہے ۔ بورڈ کی اسکیم میں بڑی اور مؤثر کامیابی حاصل کرنے کیلئے قانون پسند طاقتوں کا شامل ہونا ضروری ہے  ۔اس سلسلہ میں پرسنل لاء بورڈ نے اپنا فریضہ ادا کردیا اور تمام ایسی جماعتوں اورگروہوں کو اپنی اس جد وجہد شامل کرنے کا اعلان کیا ۔ دستور ہند کی جو خلاف ورزیاں روز کا معمول بن گئی ہیں  ۔بی جے پی قیادت ایسے ہر حملہ کو دستور ہند پر کیا جارہا ہے ، نظر انداز کررہی ہے جس کی وجہ سے قانون دشمن اور خلاف دستور کام کرنے والوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں ۔ ’’گُربہ کشتن روز اول‘‘ کے مصداق اگر ان منفی اور قوم دشمن طاقتوں کی آج سرکوبی نہیں کی گئی تو آئندہ چند ہی برسوں میں خدانخواستہ صورتحال بیحد دھماکو بھی ہوسکتی ہے ۔ وقت کے ایک اہم تقاضہ کو بورڈ نے پورا کیا ہے ۔ گھر واپسی کی مہم زور زبردستی یا پھر طمع اور لالچ کے ذریعہ اقلیت کو اپنے عقیدہ کو بدلنے کے لئے مجبور کرنے کا سلسلہ فی الحال تھم گیا ہے لیکن بی جے پی کے زیر سایہ وشوا ہندو پریشد جیسی جماعتیں اب بھی مصروف  جدو جہد ہیں ۔ یہ خطرہ ایک ٹائم بم کی طرح ٹک ٹک کررہا ہے اور کبھی بھی ایک زبردست دھماکہ ہوسکتا ہے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کو ان کی متاع عزیز ان کی اپنی شناخت کی ثقافتی حیثیت کو مٹانا اتنا آسان کام نہیں ہے ۔ بورڈ کو بھی اس بات کا یقین ہے کہ ایسی کوششوں کا قبل از وقت انسداد کرنا ضروری ہے ۔

اس لئے بورڈ نے دستور ہند کے ساتھ ’’دین کو بچاؤ‘‘ کی تحریک شروع کی ہے ۔ اس تحریک میں مسلمان تو خیر ساتھ ہی ہیں ، کئی معقولیت پسند اور سیکولر غیر مسلم بھی جڑ جائیں گے ۔ ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ جب بھی مسلم اقلیت پر کوئی افتاد پڑی ہے سیکولر اور صاف ستھرا ذہن رکھنے والے غیر مسلم عناصر نے اسکا ساتھ دیا ہے ۔ گجرات کے رسوا کن اور مسلم کش فسادات کے وقت بھی سیکولرازم پر یقین رکھنے والوں نے اقلیتوں پر ہوئے مظالم کی مذمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔ آج بھی ان فسادات کے بعض مقدمات عدالتوں میں جاری ہیں ۔ مشہور سماجی کارکن اور وکیل تیستا سیتلواد جیسی شخصیتیں حق و انصاف کا ساتھ دینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں ۔ ایسے افراد ہر فرقہ میں موجود ہیں جو ہر مذہب کی اپنی شناخت قائم رکھنے کے لئے آواز اٹھاتے ہیں۔ اس طرح سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ بورڈ کی تحریک میں دین بچاؤ کی جو بات کہی گئی ہے اس میں بھی بورڈ یکا و تنہا نہیں ہوگا لیکن اقلیتی طبقہ میں اپنی شناخت برقرار رکھنے کا شعو رپیدا کرنا تو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ہی کام ہے  ۔بورڈ مسلمانوں کو اپنے مذاہب پر قائم رہنے کے لئے کیسی تلقین کرے گا اور عام مسلمان پرسنل لاء بورڈ پر کتنا اعتماد کرتے ہیں اس بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ بورڈ کی تشکیل ہی اس مقصد سے کی گئی تھی کہ شریعت کے حدود میں رہتے ہوئے ہندوستانی مسلمان اپنی زندگی گذاریں ۔ عائلی مسائل پر بھی بورڈ نے ہر وقت اپنی مسلمہ رائے کا اظہار کیا ۔ بورڈ کا امیج بہت اونچا ہے ۔ اس لئے دینی شناخت کی برقراری کے بارے میں بورڈ جو بھی پیام ہندوستانی مسلمانوں کو دے گا اس کو پوری دیا نتداری سے ہندوستانی مسلمان سنیں گے اور اس پر عمل کریں گے ۔ اسکولوں میں وندے ماترم کا مسئلہ بڑی شدت سے اٹھایا جارہا ہے ۔

علمائے کرام نے اجتماعی طور پر مسلم طلبہ کو وندے ماترم پڑھانے یا پڑھنے کے لزوم کی مخالفت کرتے ہوئے اس اجتماع کا سمجھتے ہیں کہ یہ ترانہ مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ توحید کے خلاف ہے ۔ اس طرح اسکولوں اور دوسری جگہوں پر ’’یوگا‘‘ کو لازمی قرار دینے کا مسئلہ ہے خاص طور پر ’’سوریہ نمسکار‘‘ کا مسئلہ ہے ۔ مسلمان کسی بھی مظاہر قدرت کے آگے نہیں جھکتا یہ تمام ایک ذات واحد اللہ کے حکم کے تابع ہیں ۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے ۔ اس لئے وندے ماترم کی طرح سوریہ نمسکار کے لئے بھی مسلمانوں کو مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ ان ہی یا ایسے ہی مسائل پر توجہ دے کر مسلمانوں کو اپنی علحدہ پہچان برقرار رکھنے میں مدد کرسکتا ہے ۔ بورڈ کی وسعت اور اس کی مضبوط بنیادوں کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ’’دین بچاؤ تحریک‘‘ کامیابی سے ہمکنار ہوگی صرف اخلاص کی ضرورت ہے ۔ لیکن بورڈ کی مساعی میں عام مسلمانوں کا تعاون بھی ہونا چاہئے ۔ مسلمانوں یہ تاثر دیں کہ کم از کم ایک ادارہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ہندستانی مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے اور مسلمان اپنے دینی اور دستوری حقوق کے بارے میں بورڈ کی بات ہی مانیں گے ۔ بظاہر امید ہے کہ بورڈ کو کوئی دشواری نہیں ہوگی بشرطیکہ سارے مسلمان اس کے فیصلوں کو تسلیم کریں ۔ ایسا ہوسکتا ہے بلکہ ہوا بھی ہے کہ بورڈ کے فیصلوں پر کسی بھی گوشے سے کوئی مخالفت نہیں کی گئی اور سبھی کامیاب ہوئے ۔ انشاء اللہ بورڈ اپنی اس نئی تحریک ’’دین بچاؤ تحریک‘‘ میں پوری طرح کامیاب ہوگا ۔ اور سارے ہندوستان کو یہ پیام ملے گا کہ اپنے مقتدر اور معتبر اداروں کا ہم احترام کرتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT