Friday , July 21 2017
Home / مضامین / مسلم پرسنل لا ، چند غور طلب مسائل و تجاویز

مسلم پرسنل لا ، چند غور طلب مسائل و تجاویز

رضوان سعید
اسلام دین رحمت ہے اور مسلمان خیر امت ہیں لیکن اس حقیقت سے مسلمانوں کی اکثریت واقف نہیں ہے۔ ان دو حقیقتوں کی بنیاد پر ملت کی اصلاح و تربیت کا بڑے پیمانہ پر کام نہیں ہوا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ مسلمان دین کی ضروری معلومات جیسے شادی بیاہ ، طلاق ، قانون وراثت و غیرہ سے کم ہی واقف ہیں جس کی وجہ ان سے چھوٹی بڑی غلطیاں سرزد ہورہی ہیں جس کو بنیاد بناکر حکومت ہند مسلم پرسنل لا میں اپنے منشاء کے مطابق تبدیلیاں لانا چاہتی ہے اور اس بہانے ملک میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ بھی کرنا چاہتی ہے۔ یہ اللہ پاک کا نہایت فضل و کرم ہے کہ آج ملت اسلامیہ ہند متحد ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے جھنڈے تلے بڑے ہی عزم وحوصلے کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سارے مسلمانان ہند اس تحریک کو بڑے پیمانے پر مدد کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ اتحاد ملت اسلامیہ ہند میں کسی درجہ کا بھی کوئی رخنہ نہ پڑنے پائے۔
مسلم پرسنل  کے تحت شادی بیاہ و طلاق کے مسائل کے سلسلہ میں جزوی طور پر میں نے بھی غور کیا ہے اور اپنے احساسات کو ذیل میں بیان کر رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ بورڈ بھی ان امور پر غور کرے اور مثبت فیصلے صادر کرے۔
دورِ اسلاف میں مطلقہ کا نکاح ثانی جلد ہوجاتا تھا اسی لئے ان دنوں طلاق کی وجہ روٹی روزی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ آج ہمارے مسلم معاشرہ میں کنواری لڑکیوں کا نکاح ہی بڑی مشکل سے ہورہا ہے ۔ متلقہ اور بیوہ خاتون کا نکاحِ ثانی اور مشکل ہوگیا ہے ۔ اس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مطلقہ اور بیوہ خواتین بے سہارا اور روزی روٹی سے محروم ہیں کیونکہ ہم مسلمانوں کی اجتماعی حس سو رہی ہے ۔ آزادی کے بعد سے آج تک ہم نے اس تعلق سے غور و فکر کیا ہی نہیں ، ان کی روزی روٹی کا کوئی معقول بندوبست کیا ہی نہیں۔ افسوس صد افسوس۔ ایسے ہی بے سہارا مطلقہ عورتوں کو سہارا دلوانے کیلئے خواتین کی نام نہاد مسلم اور غیرمسلم تنظیمیں عدالتوں سے رجوع ہوئیںاور عدالتوں نے مسلم پرسنل لا کے خلاف فیصلے صادر کئے ۔ ان فیصلوں کے پیچھے ان کا مقصد بظاہر بے سہارا مطلقہ عورتوں کو انسانی بنیادوں پر روزی روٹی اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا تھا لیکن اصل میں وہ مسلم پرسنل لا میں تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔
یہ ایک چبھتی ہوئی حقیقت ہے کہ جاہل ، ناسمجھ ، غیر تعلیم یافتہ چند ایک معاملہ میں تو پڑھا لکھا مسلمان بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے لڑاتے ایک ہی وقت میں تین طلاق دیکر اپنی زوجہ کو علحدہ کردیتے ہیں ۔ طلاق کے اصول اور طریقے اپنی جگہ ، اس خصوص میں مسلمانوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش اپنی جگہ اس سے پہلے کہ حکومت تین طلاق پر پابندی لگائے ہم سب کو (یعنی ساری امت مسلمہ) اس مسئلہ پر غور و فکر کرنی ہے اور چند مثبت فیصلے کر کے ملت مسلمہ کو اس ناسور سے نجات دلائی ہے۔
تجاویز
(1) میاں بیوی میں اختلاف بری بات نہیں ہے۔ اختلاف کی صورت میں وہ دونوں آپس میں گفتگو کے ذریعہ معاملہ کو حل کرلیں۔ ایسا نہ کرسکے تو گھر کے بڑوں سے رجوع ہوں، یہاں بھی مسئلہ کا حل نہ نکلے تو ہر دو کے دو ذمہ دار رشتہ دار ان دونوں میں صلح صفائی کی کوشش کریں۔ اگر یہ کوشش بھی ناکام ہوجائے تو پھر محلہ میں قائم شرعی کونسل (ہر محلہ کی بڑی مسجد میں وقف بورڈ کی مدد سے شرعی کونسل کا فوراً قیام عمل میں لایا جائے) سے رجوع ہوں۔ شرعی کونسل دونوں کو سمجھائے اور بتائے کہ طلاق سے نقصانات کیا ہیںاور شرعی حدود کیا ہیں۔ اگر صلح کی یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو تو ۔ شرعی کونسل حتمی فیصلہ کرے اور دونوں کو ان کے گواہوں کے سامنے زوجیت سے علحدہ کردے ۔ اس طرح یہ مسئلہ شرعی کونسل کے ذریعہ حل ہوپائے اور فریقین کورٹ کچہری سے رجوع نہ ہوں۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر دو کے خاندان والوں کو ان کے ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے خاص طور سے مطلقہ کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اسکے والدین یا خاندان کے دیگر ذمہ داروں پر ڈالی جائے ۔ اگر مطلقہ کے متعلقین غریب ہوں اس کے نان و نفقہ کی ادائیگی کے قابل نہ ہوں تو ناگزیر صورت میں اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری وقف بورڈ نبھائے ۔ وقف بورڈ یہ خصوصی فنڈ ملت کے دولت مندوں اور درد مندوں سے اپیل کر کے چندہ کی صورت میں حاصل کرے۔
(2) تعلیم یافتہ مطلقہ ہو یا بیوہ کے ملازمت کے حصول میں بھی وقف بورڈ ان کی مدد کرے اور دیگر اداروں سے بھی ان کی مدد کروائے۔
(3) ان پڑھ اور غیر ہنر مند مطلقہ یا بیوہ کو خود روزگار اسکیم کے تحت ٹریننگ دلواکر رو زگار کا انتظام کروایا جائے ۔ اس کام کو بھی وقف بورڈ اپنے ذمہ لے۔ دیگر مسلم جماعتیں ان معاملات میں وقف بورڈ کی مدد کریں۔
(4) بے سہارا ضعیف ، معذور خواتین کو وقف بورڈ ماہانہ وظیفہ دے اوراس تعلق سے بھی فنڈ ملت کے خوشحال، دولت مند اور درد مند اصحاب سے حاصل کرے۔
(5) مطلقہ یا بیوہ عورتوں کے (جو غریب و بے سہارا ہوں) کے بچوں کو دینی درسگاہوں میں حکومت کی جانب سے قائم کردہ اقامتی اسکولوں میں شریک کروائیں۔ ان کی ٹھیک ٹھیک تعلیم کا بندوبست ہو اور ان کی دیکھ ریکھ بھی ہوتی رہے ۔ یہ کام بھی وقف بورڑ اپنے ذمہ لے۔
(6) اس وقت اسلامیہ کا سب سے اہم مسئلہ لڑکیوں ، بیواؤں اور مطلقہ عورتوں کے نکاح کا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان بیاہی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابل زیادہ ہے ۔ ساری امت یک جٹ ہوکر کوشش کرے کہ بغیر جوڑے گھوڑے اور لین دین کے لڑکیوں کی لڑکوں سے شادی کر دی جائے تو بھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد ان بیاہی بچی رہے گی۔ ان کے علاوہ بیوہ اور مطلقہ بھی بڑی تعداد میں بغیر نکاح کے رہ جاتی ہیں۔ یہ بھی ایک تکلیف دہ حقیقت آج ہمارا منہ چڑا رہی ہے کہ وقت پر شادی نہ ہونے پر کئی مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہوکر ہندو رواج کے مطابق شادیاں رچا رہی ہیں اور یہ روز کا معمول بنتا جارہا ہے ۔ یہ صورتحال مسلم ملت پر ایک بدنما داغ ہے اور نہایت ہی شرم و افسوس کی بات ہے ۔ اسلام میں ان مسائل کا بہترین حل موجود ہے۔ اس کیلئے ہم سب کو دور نبوتؐ اور صحابہؓ کے دور سے اپنے آپ کو رجوع کرنا ہوگا ، جہاں سے ہم کو صحیح رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔ اس معاملہ میں ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو اللہ پاک کی رضا اور اس کی خوشنودی کی خاطر ، مسلم معاشرہ کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے ایثار و قربانی کے جذبہ کے ساتھ آگے آنا چاہئے ۔ دولت مند اور خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو آگے بڑھ کر اپنے اپنے بیٹوں ، بھا ئیوں اور شوہروں کا کم سے کم ایک یا صورت مال اجازت دے تو دو دو زائد نکاح کروائیں اور اس طرح اپنے اپنے گھروں میں آنے والی سو کنوؤں ، بھابیوں اور بہوؤں کو خندہ پیشانی ، خوشدلی ، نصح و خیر خواہی کے جذبہ کے ساتھ ان کا خیرمقدم کریں ، گلے لگائیں اور نباہ کریں تو یہ پہاڑ جیسا مسئلہ آسانی سے حل ہوجائے گا ۔
(7) میں نے بہت بڑی جرات کا مظاہرہ کیا ۔ آج تک کسی عالم ، مفتی یا کوئی سیاسی رہنما نے یہ حل بتانے کی ہمت نہیں کی  ۔ میں نے یہ تجویز تو رکھ دی لیکن اس کی عمل آوری بہت مشکل ہے لیکن ہماری مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں چاہیں تو میری تجویز کی عمل آوری مشکل  نہیں ہے کیونکہ آج ہمارے ملک میں اسلام اور مسلمان نہایت ہی آزمائش سے دوچار ہورہے ہیں۔ ہمارا شیرازہ بکھر رہا ہے ۔ ہمارے دین و عقیدہ پر قدغن لگایا جارہا ہے۔ باطل نظریات کو اپنانے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ ہماری زندگیاں تنگ کردی جارہی ہیں۔ ایسی صورت حال میں مسلم مرد ہی کیا مسلم عورت بھی دین اسلام اور مسلمانوں کی بقاء کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے سے ایک لمحہ کے لئے بھی تاخیر نہیں کریں گے ۔ انشاء اللہ۔
(8) دین اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ساری انسانیت کیلئے نور ہدایت ، ضابطۂ حیات  قانون فطرت اور صحیح طریقۂ زندگی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سارے انسانوں کا خالق اور پروردگار ہے ۔ تنہا وہی اپنی مخلوق کی ہر ضرورت سے واقف ہے۔ زندگی گزارنے کا صحیح راستہ وہی بتاتا ہے ۔ انسانی نفسیات ، اخلاقی اقدار ، رد و قبول کے معیارات سے بخوبی واقف ہے ۔ انسانی حیات کو قائم رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کیلئے مطلوب قانون اسی کا دیا ہوا ہے ۔ بہر کیف ہر لحاظ سے انسان کو پر امن ، مبنی بر انصاف زندگی گزارنے کی رہنمائی کا انتظام اسی نے کیا ہے ۔ اس خصوص میں رہنمائی کرنے والی قرآنی آیات اور احادیث کے حوالہ جات (References)  ایک کتابی شکل میں مرتب کیا جائے اور جلد سے جلد اس کی کاپیاں صدر ، وزیراعظم ، سپریم کورٹ ، ہائیکورٹس ، سارے وزرائے اعلیٰ ، پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا کے اسپیکرس اور وکلاء کے انجمنوں وغیرہ وغیرہ کو فراہم کی جائیں تاکہ یہ سب اس کا مطالعہ کریں اور اس حقیقت سے واقف ہوجائیں کہ اسلامی قانون ہی دنیا کا سچا قانون ہے  جو ناقابل ترمیم اور ساری انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔
(9) سپریم کورٹ میں تین طلاق کا جو مقدمہ چل رہا ہے، اس کی پیروی کے لئے سپریم کورٹ کے سینئر ترین ماہر قانون وکلاء کی خدمات حاصل کئے جائیں جو ہر دو قانون سے بخوبی واقفیت رکھتے ہوں اور ٹھیک ٹھیک انداز سے ججس کو قائل کرانے کا وصف اپنی زبان ، قلم اور قانونی نظائر سے رکھتے ہوں ۔ ان کو منہ مانگی فیس دی جائے اور سارے اخراجات ملت سے اعانتوں کے ذریعہ حاصل کی جائے۔
موجودہ حالات سے مسلم ملت کوکمہ حقہ واقف کرایا جائے اس کیلئے میڈیا ، اخباروں ، جلسوں اور اجتماعات کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ پبلسٹی کی جائے ۔ اس خصوص میں اس سے بہتر آرٹیکل ، مضامین شائع کئے جائیں ۔ یہ کام ملک کے سارے دینی و سیاسی جما عتوں کا ہے ۔ ساری جماعتیں جسد واحد بن کر اس کو انجام دیں۔ اللہ پاک اس کارِ خیر میں ہماری مدد فرمائے ۔ آمین

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT