Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم پرسنل لا بورڈ کے جرأت مندانہ موقف کو مذہبی و ملی تنظیموں کی حمایت

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جرأت مندانہ موقف کو مذہبی و ملی تنظیموں کی حمایت

بورڈ کے فیصلہ پر عمل کرنے مسلمانوں سے اپیل ، لا کمیشن کو جواب دینے اسد الدین اویسی کا فیصلہ تشویشناک
حیدرآباد۔ 13اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں یکساں سیول کو ڈ کے نفاذ پر جاری ہنگامہ آرائیوں کے دوران آج مسلم پرسنل لاء بورڈ نے حکومت کی سازشوں کو محسوس کرتے ہوئے جرأت مندانہ موقف اختیار کیا ہے ، اس کی تمام گوشوں مذہبی و ملی تنظیموں نے حمایت کا اعلان کیا ہے اور بورڈ کے فیصلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی مسلمانوں سے اپیل کی ہے۔ بورڈ کے ذرائع کے بموجب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے دیگر تنظیموں کے ذمہ داران و ماہرین پرسنل لاء سے مشاورت کے بعد لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کو مسترد کرنے اور اس کے جواب نہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس مسئلہ پر متفقہ فیصلہ کے ذریعہ یہ تاثر دے دیا ہے کہ شریعت محمدیﷺ میں مداخلت کا کسی قانون ‘ عدالت یا مشاورتی عمل کو اختیار حاصل نہیں ہے اور وہ ایسے کسی عمل کا حصہ بھی نہیں رہیں گے جس عمل کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کی راہ ہموار کی جا رہی ہو۔ بورڈ کا یہ فیصلہ مسلمانوں کے جذبات کا مظہر ہے اور اس فیصلہ کی تمام بڑی تنظیموں کی جانب سے حمایت کا اعلان کیا جا چکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس مشتبہ طریقۂ کار کو ہی مسترد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملک کے مسلمانوں کی صحیح رہبری انجام دی ہے اور تحفظ شریعت کیلئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس فیصلہ کے برعکس لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ پر جواب داخل کرنے کا اعلان کیا ہے اور صدر مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی خود مسلم پرسنل لاء بورڈ سے وابستہ ہیں لیکن ان کی جانب سے کئے گئے اس اعلان سے طبقہ علماء میں تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ اب تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ شریعت محمدی ؐ کے تحفظ اور اس پر پڑنے والی ہر نگاہ بد کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے بنایا گیا پلیٹ فارم ہے اور اس کے فیصلے ملک کے تمام مسلمانوں کیلئے قابل قبول ہیں لیکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف سے اسد الدین اویسی کے انحراف کو مشتبہ تصور کیا جانے لگا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کو تمام مسالک کے علاوہ جمیعۃ علماء ‘ ملی کونسل‘ جماعت اسلامی ‘ جمیعت اہل حدیث ‘ مسلم مجلس مشاورت کے علاوہ دیگر نامور تنظیموں کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود مجلس اتحادالمسلمین کا علحدہ موقف اور لاء کمیشن کے سوالنامہ پر جواب دیئے جانے کا فیصلہ شریعت میں مداخلت کی راہ ہموار کئے جانے والے اس عمل میں حصہ بننے کے مترادف ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کو مکمل مسترد کرنیکا مقصد اسے غیر اہم بناتے ہوئے حکومت کی سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ مجلس کے موقف کے متعلق بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ مجلس اس دستوری عمل میں حصہ لیتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف پر دانشمند طبقہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ کے ذریعہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے سخت گیر موقف کا اظہار کر دیا ہے جبکہ اس موقف سے انحراف اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کے جواب ارسال کیا جانا حکومت کے اس عمل کا خود کو حصہ بنانے کے مترادف ہے اور اس بات کے خدشات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ حکومت اور کمیشن ان کی رائے کے حصول کے بعد اکثریتی رالے کی بنیاد پر شریعت میں مداخلت کر سکتی ہے اسی لئے بورڈ اس عمل کا حصہ نہ بننے کی اپیل کر رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT