Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم پرسنل لا میں تبدیلی ناقابل برداشت

مسلم پرسنل لا میں تبدیلی ناقابل برداشت

اسلام کی بیخ کنی کی اجازت نہیں ، جناب محمد عثمان شہید کا سخت ردعمل

حیدرآباد۔ 10 اکتوبر (پریس نوٹ) جناب محمد عثمان شہید ایڈوکیٹ صدر آل انڈیا مسلم فرنٹ و صدر تحریک تحفظ مسلم پرسنل لا زیرسرپرستی جناب نواب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے اپنے صحافتی بیان میں حکومت ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں زیردوراں طلاق و کثرت ازدواج جیسے مسائل پر داخل کردہ درخواست رٹ میں کاؤنٹر داخل کرنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاؤنٹر ہمارے خدشات کا آئینہ دار ہے۔ ہم کو یقین تھا کہ مرکزی حکومت جو بی جے پی کے سیاسی نظریات کی حامل ہے اور آر ایس ایس کی چھتر چھایا میں پل رہی ہے۔ سہ بارہ طلاق اور کثرت ازدواج کے خلاف ضرور اپنے عزائم کو آشکار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر کو اس معاملے میں جو تیقن دیا تھا، وہ جھوٹا تھا تاکہ مسلمان خواب غفلت کا شکار ہوجائیں۔ جناب عثمان شہید نے کہا کہ جو مسلمان مرد و خواتین مسلم پرسنل لا میں تبدیلی چاہتے ہیںانہیں اسلام سے خارج کردیا جائے۔ وہ اگر کسی اور مذہب کو اپنالیتے ہیں تو بہت اچھا ہے لیکن مسلمان رہتے ہوئے اسلام کی بیخ کنی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مسلمان کا ایمان ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اس کتاب کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ اس کا ہر لفظ قابل تعظیم و قابل تعمیل ہے۔ کوئی مسلمان قرآن کے ایک بھی لفظ کے خلاف اگر یہ مطالبہ کرتا ہے تو اس کو تبدیل ، ترمیم یا تنسیخ کردیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ قرآن کو صحیح کتاب تسلیم نہیں کرتا پھر وہ مسلمان کیسے باقی رہ سکتا ہے؟ ایسے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خود ہی اسلام سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ طلاق ثلاثہ اگرچہ کے اسلامی قانون ہے لیکن ان اسلامی قوانین کی مخالفت ہماری حمیت و غیرت کو للکار رہی ہے۔ ایسا مطالبہ غیراسلامی و قابل مذمت ہے۔ عثمان شہید نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں اور مفتیان کرام سے اپیل کی کہ وہ کل ہند پیمانے پر ہر ملک کے نمائندوں کا اجلاس طلب کریں اور قرآنی تعلیمات میں ترمیم کے خواہاں مسلم مرد و خواتین کو اسلام سے خارج کردیں، انہیں غیرمسلم قرار دیں، ان کا سماجی مقاطعہ کیا جائے۔ ان کے بچوں سے کوئی شادی نہ کرے، ان کو مسلم قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور کو ایسا مطالبہ کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT