Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی کوشش ناقابل برداشت

مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی کوشش ناقابل برداشت

مختلف تہذیبوں پر مشتمل سماج میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ناقابل قبول
حیدرآباد۔/27اکٹوبر، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی تلنگانہ کے بیانر تلے عیسائی اور سکھ نمائندوں نے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف تہذیبوں پر مشتمل سماج میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ناقابل قبول ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا حامد محمد خاں صدر جماعت اسلامی تلنگانہ و اڑیسہ، سردار نانک سنگھ نشتر، فادر ایلکس راجو، محترمہ ناصرہ خانم ناظم شعبہ خواتین جماعت اسلامی اور محترمہ طلحہ جبین رکن شریعت کمیٹی مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی جانب سے مسلم پرسنل لا میں مداخلت اور یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب بھی اس مساعی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مسلم خواتین سے ہمدردی کے نام سے مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے۔ لا کمیشن کے ذریعہ جو سوالنامہ عوام کے درمیان پیش کیا گیا ہے وہ دراصل یکساں سیول کوڈ کے حق میں عوام کی تائید حاصل کرنے کی ایک چال ہے جسے محسوس کرتے ہوئے مسلم پرسنل لا بورڈ نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا حامد محمد خاں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے یکساں سیول کوڈ اور شریعت میں مداخلت کے خلاف دستخطی مہم کا آغاز کیا ہے اور پرسنل لا بورڈ کے فیصلہ کے مطابق ملک میں مسلمانوں کو کسی بھی احتجاج سے گریز  کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس مسئلہ پر درج فہرست اقوام و قبائیل کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عظیم اتحاد قائم کرے گی تاکہ مختلف طبقات کی جانب سے متحدہ آواز اٹھائی جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کے بارے میں آج تک مرکزی حکومت نے اپنے ماڈل اور منصوبہ کو عوام کے درمیان پیش نہیں کیا ہے۔ اگر حکومت کا منصوبہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے تو مسلمان اس پر مباحث کیلئے تیار ہیں۔ یکساں سیول کوڈ کی باتیں صرف ہوا میں چل رہی ہیں جس سے مسلمانوں میں  شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے نام پر مسلم خواتین سے ہمدردی کرنے والوں کو جاننا چاہیئے کہ ملک میں مسلمانوں سے زیادہ طلاق کے واقعات دیگر طبقات میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ایسی خواتین ہیں جنہیں طلاق کے بغیر ہی معلق کیا گیا ہے۔ اس طرح کی خواتین میں خود وزیر اعظم کی اہلیہ شامل ہیں اور نریندر مودی کو چاہیئے کہ وہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ انصاف کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین جن کی زندگی کو طلاق دیئے بغیر کئی برسوں تک اجیرن بنادیا جاتا ہے ان کے لئے طلاق زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے اس طرح کے کئی واقعات برسوں سے عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔ مولانا حامد محمد خاں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کا بہانہ بناکر مرکزی حکومت مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کے علاوہ 1700 زبانیں بولی جاتی ہیں اور 125کروڑ کی آبادی میں 6000 علحدہ ذاتیں موجود ہیں۔ دنیا کے 6 اہم نسلی گروپ ہندوستان میں موجود ہیں ایسے ملک میں جہاں ایک ہی گاؤں میں مختلف مذاہب اور نسلوں کے لوگ بستے ہیں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ممکن نہیں۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کی اس تقریر کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے تکثیری سماج کو بدلنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہ کہ دفعہ 44کے تحت یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کو دستور کے رہنمایانہ اصول میں شامل کیا گیا ہے لیکن اس پر عمل آوری لازمی نہیں ہے برخلاف اس کے دستور کی دفعہ 25 میں تمام شہریوں کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ عوام کے اس دستوری حق کو کوئی بھی طاقت چھین نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ رہنمایانہ اصولوں میں ملک میں نشہ بندی کی سفارش کی گئی ہے۔ طلاق کے معاملات میں اکثر نشہ کرنے والے زیادہ ملوث پائے گئے ہیں لہذا حکومت کو چاہیئے کہ وہ طلاق پر قابو پانے کیلئے ملک میں نشہ بندی نافذ کرے۔ حامد محمد خاں نے کہا کہ ملک میں طلاق اور کثرت ازدواج کی شرح مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں میں ہے۔ انہوں نے صدر مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا رابع حسنی ندوی کے بیان کی تائید کی جس میں انہوں نے مسلمانوں کو احتجاجی جلسوں، ریالیوں اور دیگر پروگراموں کے انعقاد سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام مسالک مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور یکساں سیول کوڈ کی مخالفت پر متحد ہیں۔ پریس کانفرنس میں جناب ایم این بیگ زاہد  جنرل سکریٹری ، جناب محمد اظہر الدین اور جناب محمد عبدالمجید موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT