Monday , May 1 2017
Home / اداریہ / مسلم پرسنل لا کا موقف

مسلم پرسنل لا کا موقف

دل نے سوچا تو بہت کچھ تھا مگر کیا کہئے
تیری نظروں کے بدلتے ہی شکایت بدلی
مسلم پرسنل لا کا موقف
ہندوستان میں مسلمانوں کو محبت کے بجائے اذیت ملتی ہے۔ محرومیاں ملتی ہیں، ان کے مسائل کی یکسوئی نہ ہو اور حکمرانوں پر سے عدل کی توقع اٹھ جائے تو ایسے میں یہ خیال کرنا بھی فضول ہے کہ انہیں ملک کی ترقیات میں حصہ دار بنایا جائے گا۔ اقتدار میں احساس شرکت کو بھی نظرانداز کردیا جارہا ہے تو ایسی نفرت کی سیاست کے درمیان مسلمانوں کی درست اور قوی تر رہنمائی کے لیے ایک مضبوط مسلم ادارہ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کے لیے مسلم پرسنل لا بورڈ موجود ہے اس کی کوشش ایک حد تک سمٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ جب سے طلاق ثلاثہ کا ہوا کھڑا کرکے مرکز کی نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے مسلم خواتین کے تحفظ کے بہانے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا نیا طریقہ اختیار کیا ہے تو اس کے بڑھتے قدموں کو روکنا ضروری ہے۔ مسلم پرسنل لا نے اس تناظر میں لکھنو میں اپنی عاملہ کمیٹی کا دو روزہ اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں تین طلاق کا موضوع ہی غالب رہا۔ بورڈ کا احساس ہے کہ ہر وقت تین طلاق دینا غلط ہے لیکن یہ عمل ایک ازدواجی رشتہ کو ختم کرنے کے لیے ہنوز کار آمد ہے لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے یہ بھی انتباہ دیا کہ جو مسلمان تین طلاق کے اختیار کا غلط یا بیجا استعمال کریں گے، مسلم طبقہ ان کا سماجی بائیکاٹ کرے گا۔ مسلم خواتین کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے کو روکنے کے لیے مسلم طبقہ میں پہلے سے زیادہ شعور بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ بورڈ نے اگرچہ کہ اس جانب موقف کو سخت کرتے ہوئے 8 نکاتی ضابطہ اخلاق وضع کیا ہے اس پر عمل آوری کے ساتھ ساتھ مسلم خواتین کی حق تلفی کو روکنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس دو روزہ اجلاس میں بابری مسجد کیس پر بھی غور کیا گیا بورڈ نے سپریم کورٹ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایودھیا تنازعہ اور ملکیت کے کیس کی عاجلانہ یکسوئی پر زور دیا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کا شروع سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ بابری مسجد رام مندر بھومی تنازعہ پر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس کو تسلیم کیا جائے گا۔ اس بات کو باربار دہرانے کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ کی چیف جسٹس جے ایس کیہر نے اس معاملہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کا مشورہ دیا تھا۔ اس طرح کی تجویز یا مشورہ نیا نہیں ہے۔ سابق میں ایسی تجاویز پر عمل کرنے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ مذاکرات اور صلاح مشورہ کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنے کی سابق کوششوں کو ناکام بنانے میں فرقہ پرستوں نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے اگرچہ کہ مسئلہ کی یکسوئی کے لیے دونوں فریقین میں ثالثی کا رول ادا کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔ یہاں ایک بار پھر یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ عدالت کے باہر اس تنازعہ کا تصفیہ قابل قبول نہیں ہے، صرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی قبول ہوگا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے موجودہ حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ہی ملک بھر کے مسلمانوں سے دستخطیںحاصل کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر ہندوستانی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والی مرکزی حکومت کے قدموں کو روکنے کے لیے پرسنل لا بورڈ کی دستخطی مہم ایک اہم اور مستند قدم تھا۔ ملک بھر میں 5.81 کروڑ دستخطیں حاصل کی گئی جن میں 2.71 کروڑ خواتین کی دستخطیں بھی شامل ہیں۔ یہ کوشش قابل ستائش تھی کیوں کہ اس مسئلہ پر غلط فہمیاں پیدا کرنے والی طاقتوں کو ناکام بنانا اور انہیں آگے بڑھنے سے روکنا ضروری تھا۔ منظم انداز میں کروڑہا مسلمانوں کے دستخط حاصل کرنے سے اس سمت میں مدد ضرور ملی ہے اور ایک واضح پیام بھی دیا جاسکا ہے۔ ہندوستانی مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی رکھنے کا مظاہرہ کرنے والی حکمراں طاقت کو یہ بتانا ضروری ہے کہ مسلمان اپنی شرعی امور میں مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کرتے اور ان کی خواتین کے حقوق کی آڑ میں باغیانہ ماحول پیدا کرنے کی سازشوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ جو حکمراں مسلم خواتین کے تحفظ کی بات کررہا ہے پہلے اسے اپنے دستوری فرائض پر توجہ دے کر شہری مساوات اور ترقیات میں برابر کا موقع دینے میں کوئی امتیازی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ مسلم خواتین کے حقوق کے نام جن گوشوں سے مہم چلائی جارہی ہے ان کے کوئی مثبت ارادے نہیں ہیں بلکہ وہ منافرت کو ہوا دینا اور اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ سارے ملک کے عوام کو بھی ان پس پردہ محرکات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انہیں سمجھنے کے بعد ہی ان عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT