Sunday , April 23 2017
Home / مضامین / مسلم پرسنل لا کوئی مٹنے والی چیز نہیں ہے

مسلم پرسنل لا کوئی مٹنے والی چیز نہیں ہے

قاری ایم ایس خان
مسلم پرسنل لا کا طلاق ثلاثہ (تین طلاق) کا مسئلہ اس وقت سارے ملک میں ایک سلگتا ہوا مسئلہ اور عنوان بن چکا ہے۔
آخر مسلم پرسنل لا کیا ہے ؟ انسانی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ، ایک تو اس کی شخصی اور خاندانی زندگی ہے جس کا دائرہ محدود ہے ۔ اس میں انسان کے ذاتی معاملات آتے ہیں یا پھر وہ چیزیں جواس کے اور اس کے خاندان کے درمیان معاملات اور حقوق و فرائض سے متعلق ہوتی ہیں۔ مثلاً ازدواجی تعلق ، ماں باپ اور اولاد کا تعلق ، وراثت ، ایک دوسرے پر نفقہ اور حق پرورش وغیرہ۔
دوسری زندگی شہری اور اجتماعی زندگی ہے جس کا دائرہ خاندانی تعلقات کی حدود سے آگے بڑھ کر شہر ملک اور بین الاقوامی امور تک کو اپنے احاطہ میں لے لیتا ہے ۔ اسلام نے زندگی کے  ہر گوشہ کیلئے خواہ اس کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہو یا انفرادی زندگی سے ، اصول بتائے ہیں جن پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عہد میں اور اس کے بعد بھی عمل ہوتا رہا ہے لیکن جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا ، اجتماعی قوانین جن کی روشنی میں حکومت چلائی جاتی تھی ، عملاً ختم ہوتے رہے اور کتابوں میں محفوظ ہوتے چلے گئے ۔ چنانچہ ہندوستان میں جب انگریزوں کا غلبہ ہوا تو صرف ’’انفرادی زندگی‘‘ کے قوانین عملاً باقی رہے جسے بعد میں سرکاری عدالتوں کے حوالہ کردیا گیا ۔ انفرادی زندگی کے یہ اسلامی قوانین ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کہلائے گویا مسلم پرسنل لا کی اصطلاح انگریزوں کا عطیہ ہے جو قوانین اسلامی کا ہی ایک حصہ ہے جن کی تفصیلات فقہا اسلام کے ہاتھوں مرتب ہوئی تھیں اور جن کی بنیاد قرآن و حدیث ہے ۔ مسلم پرسنل لا مسلمانوں کی مستقل تہذیب اور عائلی نظام کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ مسلمانوں کی انفرادی سماجی زندگی سے مسلم پرسنل لا کا بہت گہرا تعلق ہیاور انہیں قوانین کی بنیاد پران کی انفرادی اور سماجی زندگی کی تشکیل ہوتی ہے ، مسلمانوں کا ایمانی جذبہ اسے برداشت نہیں کرتا کہ اسلامی احکام میں تبدیلی کی جائے۔ اسلام کے عائلی قوانین کے مقابلہ میں اگر دوسرے قوانین بنائے جائیں گے اور انہیں نافذ کر نے کی کوشش کی جائے گی تو مسلمانوں کی زندگی بڑی مشکلات سے دوچار ہوجائے گی ، اس طرح مسلمانوں کی داخلی زندگی ہر مرحلہ میں ملکی عائلی قوانین اور اسلامی قوانین کے درمیان ٹکراتی رہے گی اور وہ مجبور ہوں گے کہ ملکی عائلی قوانین کونظر انداز کر کے اسلامی قوانین کی پابندی کریں۔ کچھ مریض  ذہنیت مسلم پرسنل لا کی جگہ یکساں شہری قانون نافذ کرنا اور کرانا چاہتی ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں فرد کے ذاتی رجحانات ، افکار و عقائد اور تہذیب و تمدن کے تحفظ کی ضمانت دی گئی اور دستور کے بنیادی حقوق کی دفعات کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کو محفوظ کردیا گیا ۔

کہا جارہا ہے کہ ’’مسلم پرسنل لا‘‘ پر عمل کرنے سے معاشرتی دشواریاں پیدا ہوتی ہیں، خاص کر طلاق اور تعداد ازدواجی ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے عورتوں کی زندگی ہر وقت خطرات میں گھری رہتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسلم پرسنل لا کی رو سے مرد کوطلاق کا اختیار دیا گیا ہے اور اسے ایک سے ز یادہ شادی کی اجا زت دی گئی ہے لیکن یہ قانون کی خامی نہیں ہے ۔ شریعت نے شوہر اور بیوی میں علحدگی کی مختلف شکلیں بتائی ہیں، مرد کو طلاق کا ا ختیار دیا گیا ہے اور عورتوں کیلئے خلع اور فسخ نکاح کی راہ بتائی گئی ہے ، یہ صحیح ہے کہ مرد اپنے اس حق کا براہ راست استعمال کرسکتا ہے اور عورتیں اپنا حق بالواسطہ استعمال کرسکتی ہیں۔ مرد اور عورت کے حقوق میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کی ذمہ داریوں کی نوعیت جدا جدا ہے۔ نکاح کے بعد مرد پر جتنی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ عورتوں پر اتنی ذمہ داری نہیں رکھی گئی ہے ۔ مرد پر بیوی اور بچوں کے اخراجات کے علاوہ مہر کی شکل میں ایک رقم بھی واجب ہوتی ہے ۔ علحدگی کا فیصلہ اگر بلا واسطہ عورتوں کے بھی حوالہ کیا جاتا تو عورتیں اپنے اس حق کو استعمال کرتیں جس کے نتیجہ میں عورتوں پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی مگر مہر کی رقم کی فوری ادائیگی اور بچوںکی کفالت اور تر بیت کا نظم مرد کو ہی کر نا پڑتا اور مرد بلاوجہ دشواریوں میں مبتلا ہوتا طلاق کو شریعت نے گرچہ جائز قرار دیا ہے۔ مگر اسے ابغض المباحات (جائز چیزوں میں سب سے ز یادہ کریہہ) قرار دیا ہے اور یہ ہدایت دی ہے کہ جب نباہ ہونے کی کوئی  شکل باقی نہ رہے تو بہت سوچ سمجھ کر طلاق دی جائے ۔ شریعت نے تفصیل کے ساتھ طلاق کا طریقہ بتایا ہے۔ اس طریقہ پر عمل کرنے کے بعد اس کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ مرد اشتعال کے نتیجہ میں جذبات کی رو میں طلاق دیدے شریعت کی ہدایت کے مطابق دی ہوئی طلاق ایک عاقلانہ اور ٹھنڈا فیصلہ ہی ہوسکتی ہے ۔ شریعت نے عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ تعدد ازدواج کی اجازت بھی دی ہے ۔ اسلامی قانون عفت و عصمت کے پیش نظر مرد کے ایسے حالات ہوسکتے ہیں کہ وہ صاف ستھری اور بے داغ زندگی گزارنے کیلئے دوسرے نکاح کی ضرورت محسوس کرے۔
1937 ء میں ملک ہند کے خدا ترس ، مخلص اور اکابر علماء کی بڑی زبردست جدوجہد کے بعد اور مسلسل اور متحدہ کوششوں سے ’’شریعت اپلیکیشن ایکٹ‘‘ بنا اس قانون کے مطابق ’’نکاح، طلاق ، خلع ، ظہار ، مباراہ، فسخ نکاح، حق پرورش، ولدیت ، حق میراث، وصیت ، ہبہ اور شفعہ سے متعلق معاملات میں اگر دونوں فریق مسلمان ہوں تو شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ان کا فیصلہ ہوگا ۔ خواہ ان کا عرف اور رواج کچھ بھی ہو اور قانون شریعت کو عرف و رواج پر بالادستی ہوگی یہ ’’شریعت اپلیکیشن ایکٹ‘‘ ایک اہم اور دور رس نتائج کا حامل قانون تھا جو ہندوستان میں مسلمانوں کو پرسنل لا کا تحفظ فراہم کرتا تھا ۔ ملک کے آزاد ہونے کے بعد بنیادی حقوق میں ’’عقیدہ و ضمیر کی آزادی ‘‘ اور ہر مذہب والوں کیلئے اپنے مذہب  پر عمل کی آزادی کی دفعات رکھی گئیں، یہ دفعات مسلم پرسنل کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں۔ مسلمانوں کو تبدیلی قبول کرنے پرمجبور کرنا ان کو عقیدہ اور ضمیر کی آزادی سے بھی محروم کرنا ہے اور آئین ہند کے قوانین بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی کرنا ہے ۔

لیکن بدقسمتی سے دستور کے رہنما اصولوں میں ایک دفعہ ، دفعہ 44 یکساں سیول کوڈ سے متعلق رکھ دی گئی ہے، دستور ساز اسمبلی کے مسلم نمائندوں نے دستور بننے کے وقت بھی اس پر اعتراض کیا تھا لیکن بہرحال یہ شق دستور میں باقی رہی یہ بات قابل توجہ ہے کہ رہنما اصول میں بہت سی ایسی مفید ہدایات بھی موجود ہیں جن کے بارے میں حکومت نے کبھی  غور کرنے کی بابت سوچا بھی نہیں حالانکہ عوامی نقطہ نظر سے ان پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو روشن خیال اور دانشور کہتے ہیں ان کو بھی اس جانب توجہ نہیں ہوتی۔ موجودہ بی جے پی حکومت اس وقت فل یکساں سیول کوڈ کے موڈ میں ہے اور یہ دین بیزار ، شریعت بیزار اور تباہ و گمراہ فکر و نظر کے لوگوں کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے  جن کو نہ ا پنی قوم میں کوئی اعتماد حاصل ہے اور نہ قانون شریعت سے وہ صحیح اور مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ بقول اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سابق صدر کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ آپ کی (1913 to 1999) ۔  مدت صدارت 28 ڈسمبر 1983 ء تا 31 ڈسمبر 1999 ء ہے نے مسلم پرسنل کی مخالفت کرنے والوں کے بارے میں کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا کہ ’’مسلم پرسنل لا کی مخالفت میں غلط فہمی اور زیادہ تر ناقص واقفیت کو دخل ہے۔
حضرات … ! کسی بھی مسئلہ سے اختلاف یا کسی حقیقت سے گریز اور مخالفت کا باعث صرف مخالفت کا جذبہ ، عناد یا سیاسی مصالح اور مفادات ہی نہیں ہوتے اکثر غلط فہمی یا ناواقفیت یا ناقص واقفیت (جسے میں نا واقفیت سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں) اس کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ افراد اور خاندانوں کی سطح پر بھی ، ملتوں اور قوموں کی سطح پر بھی اور ملکوں اور سلطنتوں کی سطح بھی ایسی غلط فہمیاں ، ناواقفیت اور ناقص واقفیت بڑے ا ہم اور سنگین نتائج کا سبب بنی ہے اور قوموں ، تہذیب و تمدن ، سلطنتوں اور مذاہب کی تاریخ اس کی شہادتیں پیش کرتی ہے کہ بعض مرتبہ کسی غلط فہمی ، ناواقفیت یا ناقص واقفیت کی بناء پر بے ضرورت جنگیں برپا ہوگئی ہیں۔ سلطنتیں سلطنتوں سے ٹکرائی ہیں اور بعض اوقات وحشتیں وحشتوں سے نہیں وحدتیں وحدتوں سے ٹکرائی ہیں۔
مسلم پرسنل لا کے سلسلہ میں بھی نہ ہم کو اس کی ضرورت ہے نہ اس کا شوق ہے کہ ہم ان سب لوگوں کے بارے میں جو ملت اسلامیہ کے دائرے سے باہر ہیں یا ان گروہوں ، عناصر یا مکاتب خیال پر جو مسلم پرسنل لا کے مخالف ہیں اور جو ہندوستان پر یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذکے داعی اور اس کے حامی ہیں، یہ الزام لگائیں کہ ان میں مخالفت ہی کا جذبہ یا عناد کام کر رہا ہے ۔ میری دانست میں اس میں غلط فہمیوں اور ز یادہ تر ناقص واقفیت کو دخل ہے۔
جو حضرات مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے عادی ہیں اوران میں حب الوطنی کا جذبہ ہے اور جن کا ذہن تخریبی نہیں بلکہ تعمیری ہے اور حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں اور صداقت کو قبول کرنے کیلئے ہر وقت رہتے ہیں، ہمیں انہیں ساتھ لیکر قانونی جنگ لڑنی ہوگی اور حکومت سے بات چیت کرنی ہوگی۔ اصلی غلطی دین اور غیر دین میں فاضل امتیازی نشان کو ختم کر کے متحد ہوکر مسلم پرسنل لا کا تحفظ کرنا ہے ۔ صحافت اور ابلاغ عامہ (public media) کے سنجیدہ اور ذمہ دار ذرائع سے میں اپنے ان خیالات و نظریات اور تاثرات کو دور دور تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ مسلم پرسنل لا کے تحفظ پر ملک کے تمام طبقے ایک ہیں اور ان میں کوئی بھی جماعت ایسی نہیں ہے جو مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کو برداشت کرسکتی ہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ میں ہر طبقے کی نمائندگی اور اس کی مثالی خدمات اس کی ر وشن دلیل ہے اور تمام مسلمان تو بس یہی چاہتے ہیں کہ
سارا جہاں خلاف ہو پروانہ کیجئے
پیش نظر تو مرضیٔ جانا ناں چاہئے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT