Monday , June 26 2017
Home / ہندوستان / مسلم پرسنل لا کیخلاف سازشوں کو ناکام بنانا ملت اسلامیہ کا فرض

مسلم پرسنل لا کیخلاف سازشوں کو ناکام بنانا ملت اسلامیہ کا فرض

مسلمانوں کی اکثریت شریعت اور دستوری حقوق سے ناواقف ۔ پورے ملک میں 23 اپریل تا 7 مئی بیداری مہم کا پروگرام
نئی دہلی 17اپریل(سیاست ڈاٹ کام )جماعت اسلامی ہند کے تحت پندرہ روزہ مسلم پرسنل لا بیداری مہم 23؍اپریل تا7مئی پورے ملک میں منائی جار ہی ہے ۔مہم سے قبل حلقہ کی سطح پر مسلم وکلاء کے لئے مرکز جماعت اسلامی ہند کی کانفرنس ہال میں ایک مذاکرہ بعنوان ’’صنفی عدل اور عائلی قوانین ‘‘ منعقد ہوا ۔جس میں ملک کے مسلم وکلاء مختلف یونی ورسٹیز میں تعلیم و تعلم سے وابستہ مسلم پروفیسر حضرات و گیسٹ فیکلٹی کے علاوہ وکالت کے شعبہ میں زیر تعلیم پی ایچ ڈی ،ایل ایم ایم اور ایل ایل بی کے مسلم طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔ اس موقع پر امیر حلقہ عبدالوحید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی اکثریت شریعت اور دستور میں دیئے اہم حقوق سے لاعلم ہیں۔ شادی، طلاق، وقف، وراثت، ہبہ، خلع، اجماع، قیاس جیسے مسائل سے ناواقف ہونے کی بنا پر آج اسے سیاسی بیان بازی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے ۔ مسلم خواتین و مرد سے اس سلسلے میں رائے مانگی جاتی ہے ۔جبکہ مسلم پرسنل لا قرآن اور حدیث سے ہی بنایا گیا ہے ،اس میں کسی طرح کی تبدیلی کی کوئی گنجائش قطعی نہیں ہے۔قرآن الکریم نے جس چیز کو حلال کر دیا وہ حلا ل ہے اور جس چیز کو حرام قرار دے دیا وہ حرام ہے اس میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑنہیں کی جاسکتی ہے ۔یہ صرف ایک سیاسی معاملہ اور اسلام کے خلاف پروپگنڈہ ہے ۔مسلمانوں کیلئے کرنے کے کام بہت کچھ ہیں جسے کرنا انتہائی ضروری ہے۔مسلم پرسنل لا کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانا ملت اسلامیہ کا فرض ہے۔ ایڈوکیٹ فیروز قاضی ہائی کورٹ نے کہا کہ قرآن و حدیث کی باتیں مسلمان تو مان لیتے ہیں لیکن غیر مسلم حضرات کو مطمئن کرنے کے لئے منطقی انداز گفتگو ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 1978ء میں اپنے موقف کا اظہار کیا کہ دنیا میں اگر امن اور فلاح چاہتے ہیں تو اسلامی تعلیمات کو اپنانا ہوگا یہی ایک نسخہ ہے جس کے ذریعہ عدل و انصاف اور امن قائم ہو سکتا ہے ۔پروفیسر غلام یزدانی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مہر کی تعریف کے سلسلے میں گفتگو کی اور کہا کہ مہر واضح اور یکساں ہونا چاہئے اور اس کی ادائیگی بھی تمام مسلمانوں پر طے ہونی چاہئے۔ کب اور کس صورت میں ادا کی جائے ۔فواد شاہین نے کہا کہ ہندوستان کے تمام ہائی کورٹ میں سال بھر کے اندر مسلمانوں کے طلاق کا مسئلہ صرف تین سے چار تک ہی آتے ہیں۔ گویا مسلمانوں میں طلاق کی شرح نا کے برابر ہے ۔اس موقع پر اعجاز مقبول ،ایم آر شمشاد سپریم کورٹ نے بھی خطاب کیا ۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری سلیم انجینئر سمیت ابو بکر سباق فلاحی ایڈوکیٹ اے پی سی آر نے بھی خطاب کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT