Thursday , May 25 2017
Home / اداریہ / ’’مسٹر کرپٹ‘‘

’’مسٹر کرپٹ‘‘

آج کل ان کے گلستاں میں بہار آئی ہے
میرا رسوا بھی نہ ہونا بڑی رسوائی ہے
’’مسٹر کرپٹ‘‘
ہندوستان کو کرپشن سے پاک بنانے کا ارادہ لے کر آگے بڑھنے والی عام آدمی پارٹی اب خود کرپٹ عنوان سے مشہور بنادی جارہی ہے۔ بی جے پی کی پے در پے کامیابیوں سے اس پارٹی کے ہر لیڈر اور رکن کو چرب زبانی میں ملکہ حاصل ہورہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کو ’’مسٹر کرپٹ‘‘ قرار دیا گیا اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ملک کے اندر بی جے پی کے بڑھتے قدم اور مضبوط ہوتی سیاسی ساکھ کے ساتھ اس حقیقت کی صداقت سے کوئی باشعور اور دردمند ہندوستانی انکار نہیں کرسکتا کہ ملک کے حق میں سوچنے والے لوگوں کی غالب اکثریت سماجی، اقتصادی، سیاسی حالات کے علاوہ سیکولرازم کی بگڑتی صورتحال سے مطمئن نہیں۔ اروند کجریوال نے سماجی جہدکار اناہزارے کی مخالف کرپشن مہم سے حوصلہ پاکر ملک میں بدعنوان سیاستدانوں کا صفایا کرنے کی ٹھان لی تھی اور عوام بھی ان سے قریب ہورہے تھے کہ اچانک عام آدمی پارٹی ہی اندر ہی اندر کرپشن کے الزامات کا شکار ہونے لگی۔ آج اس پارٹی سے نکالے گئے یا نکل جانے والوں نے ہی کرپشن کے الزامات کا شور مچایا ہے تو بی جے پی اس شور کا فائدہ اٹھانے کیلئے کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ کرپشن کے خلاف دہائی دینے والی عادل سیاسی شخصیتیں بھی اب کرپشن اور استحصال کا خاتمہ کرنے میں ناکام نظر آرہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی سے خارج شدہ لیڈر اس پارٹی کی قیادت کو بدنام کررہے ہیں تو دوسری طرف بی جے پی کے ناراض قائدین بھی اپنی پارٹی کو کرپشن کے معاملہ میں دوہرا معیار رکھنے کا الزام دے رہے ہیں۔ یہ بات نوٹ کی جاچکی ہیکہ کرپشن سے نمٹنے میں بی جے پی کا دوہرا معیار آشکار ہوچکا ہے اور اس مسئلہ پر دیگر پارٹیوں کے قائدین سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن میں 400 کروڑ کے اسکام کا مسئلہ اٹھایا گیا اور وزیرفینانس ارون جیٹلی کو نشانہ بنایا گیا تو بی جے پی نے نہ صرف ارون جیٹلی کی مدافعت کی بلکہ دیگر پارٹی قائدین کو جنہوں نے داخلی طور پر کرپشن کی نشاندہی کی تھی پارٹی سے دور کردیا۔ بی جے پی ایم پی کیرتی آزاد اس کی ایک مثال ہیں۔ بی جے پی کے کئی قائدین رشوت ستانی کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہیں بھی کرپٹ ہونے کی خاطر استعفیٰ دیدینا چاہئے۔ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے بارے میں بی جے پی کا ایک نکاتی ایجنڈہ یہی ہیکہ ان پارٹیوں کو کرپٹ قرار دیکر اتنا ڈھول پیٹا جائے کہ آئندہ ملک میں صرف واحد جماعتی طاقت بن کر وہ حکمرانی کرسکے لیکن بی جے پی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ عوام اس کی بدعنوانیوں کو نظرانداز کریں گے۔ دلت لیڈر پرکاش امبیڈکر نے حال ہی میں بی جے پی کی بدعنوانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت کارپوریٹ کرپشن میں ملوث ہے۔ ایک دن بی جے پی اور آر ایس ایس کی تمام بدعنوانیوں کو آشکار کیا جائے گا۔ بھارت رتن بابا صاحب امبیڈکر کے پوترے نے ملک میں مودی حکومت کی جن خرابیوں کی جانب عوام کی توجہ دلائی تھی اگر اس پر اپوزیشن سیاسی پارٹیاں توجہ دیتی ہیں تو اسے ایک مضبوط محاذ کھولنے کا موقع مل جائے گا۔ بی جے پی جس تیزی کے ساتھ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو کرپشن کے الزامات میں پھنساتے ہوئے نریندر مودی کو کلین امیج کے ساتھ پاک صاف لیڈر بنا کر پیش کررہی ہے ایک دن اپوزیشن صرف کرپٹ عنوان سے جانے جائے گی۔ اروند کجریوال کو ’’مسٹر کرپٹ‘‘ قرار دینے کے بعد عام آدمی پارٹی کے خاتمہ کیلئے بی جے پی اپنے اہداف کو پورا کرنے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے لہٰذا یہ وقت اپوزیشن پارٹیوں کیلئے غوروخوض کا لمحہ فراہم کرتا ہے۔ تشہیری ا ور گمراہ کن ہتھکنڈوں کے ذریعہ عوام کے ذہن کو تبدیل کرنے کی بی جے پی کی اس حکمت عملی کا مؤثر جواب تیار کرنا اپوزیشن کیلئے ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔ ویسے بی جے پی کو بھی یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ اپنی پشت خود کو دکھائی نہیں دیتی اگر اس نے اپوزیشن کے صفایا کا منصوبہ بنایا ہے تو یہ اپوزیشن کے بغیر حکمرانی کرنے کا خواب پورا ہونا جمہوری ملک میں ممکن نہیں ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ناراض ارکان کو گمراہ کرکے انہیں پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کرانے کیلئے استعمال کرنے کا عمل ایک دن خود بی جے پی کیلئے الٹ پلٹ کا باعث ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن کو آپسی بے کار محاذ آرائی اور انتقامی سیاست کا راستہ ترک کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT