Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / مشرف بہ اسلام ہونے پر مقتول ہندو شخص کا سارا خاندان مسلم ہوگیا

مشرف بہ اسلام ہونے پر مقتول ہندو شخص کا سارا خاندان مسلم ہوگیا

سارے خاندان کی محفوظ مقام کو منتقلی، مسلمانوں کی طرف سے نومسلموں کی کفالت
ملاپورم 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کیرالا کے مسلم اکثریتی علاقہ ملاپورم میں گزشتہ سال نومبر کے دوران مشرف بہ اسلام ہونے والے 31 سالہ ہندو شخص کو آر ایس ایس کارکنوں کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے کے بعد اس کے خاندان کے آٹھ ارکان نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے۔ انیش کمار عرف فیصل پانی کی دو بہنوں، بہنوائی اور ان کے پانچ بچے گزشتہ ہفتہ مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ فی صل پانی کی ماں میناکشی امیں (جمیلہ) بھی اپنے بیٹے کی ہلاکت کے ایک ماہ بعد مشرف بہ اسلام ہوچکی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حملوں کے خوف سے پلانی خاندان ایک محفوظ مقام کو منتقل ہوگیا۔ اس کے قریبی رشتہ دار نے کہاکہ پونانی کے ایک دینی مدرسہ معاونت الاسلام سبھا نے ان کے مشرف بہ اسلام ہونے کی توثیق کی ہے۔ فیصل سعودی عرب میں ڈرائیور کی حیثیت سے برسر خدمت تھا جس کے مشرف بہ اسلام ہونے کے ایک سال بعد 19 نومبر 2016 ء کو کوڈھنی گاؤں میں اس کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ بعدازاں پولیس نے 12 افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں اس کا ایک برادر نسبتی کے ونود بھی شامل تھا۔ پلانی کے خاندان نے کہا ہے کہ ونود جو وشوا ہندو پریشد کا سرگرم رکن تھا اور ماضی میں بھی تبدیلی مذہب کے خلاف اُس کو دھمکی دی تھی۔ ونود نے پلانی کو سعودی عرب واپسی سے تین دن قبل ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد فیصل پلانی کی بہن اپنے شوہر سے طلاق لے چکی تھی اور اسلام قبول کرلی۔ ان کے ایک رشتہ دار نے کہاکہ مقامی مسلمان اس خاندان کی کفالت کررہے ہیں۔ اب چونکہ قتل کے تمام ملزمین ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں، کوڈانی گاؤں میں صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لئے ایک امن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کوڈانی گاؤں میں 3000 مسلم اور 200 ہندو خاندان ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے کہا ہے کہ مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکرس پر اعلان کیاکہ ہندوؤں کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر روی تہلت نے کہاکہ ’’ہم تبدیلی مذہب کے مخالف نہیں ہیں لیکن رقم کے لالچ میں مذہب کی تبدیلی کی مخالفت کی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ عام واقعہ ہے جس پر کشیدگی پیدا نہیں ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT