Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی پالیسی

مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی پالیسی

غضنفر علی خان

صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے بیرونی دورہ کیلئے سعودی عرب کا انتخاب کرکے اشارہ دیا ہیکہ امریکی پالیسی ساز اب اپنی پہلے کی غلطیوں کا احساس کررہے ہیں۔ خاص طور پر ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد یہ اندیشے بڑھ گئے تھے کہ ان کی اسلام دشمنی ضرور رنگ لائے گی۔ اسلاموفوبیا کی ازکار رفتہ اصطلاح کو بین الاقوامی چلن امریکہ ہی نے دیا ہے اب تو سارا یوروپ ایک طرح سے اسلام کے بارے میں مختلف قسم کے فوبیا میں مبتلاء ہوگیا ہے۔ سعودی عرب سے امریکہ کے تعلقات ہمیشہ ہی استوار رہے ہیں لیکن گذشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک میں کسی قدر تلخی پیدا ہوگئی تھی۔ شاید بیرونی حکمت عملی کے مشیروں نے ٹرمپ کو سمجھایا کہ ہر وقت ہر مسئلہ پر وہ ’’صدر امریکہ‘‘ بن کر نہیں سو سکتے۔ وہ ایک بے حد طاقتور ملک کے صدر ہیں۔ انہیں اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہونا چاہئے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے کئی مرتبہ یہ تاثر دیاکہ وہ بعض عرب اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کی معاشی حالت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے سربراہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ان کی ملاقات اور 3 بلین کے معاہدات نے ان دونوں ممالک کو پھر ایک دوسرے سے قریب کردیا ہے لیکن امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ماضی کے پس منظر میں دیکھتے ہوئے یہ یقین کرلینا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پائیدار امن قائم کرنے کا جو عزم ٹرمپ نے ظاہر کیا ہے وہ لائق اعتنا ضرور ہے لیکن لائق اعتماد نہیں۔ چونکہ امریکہ دنیا کا طاقتور ملک ہے اور اس کی معاشی خوشحالی میں امریکی یہودی برادری کا بڑا عمل دخل ہے اس لئے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ اس علاقہ میں قیام امن کیلئے وہ کوئی ایسا قدم اٹھائے گی جو یہودی مملکت اسرائیل کو کسی بھی انداز میں نقصان پہنچائے گا۔ یہ توقع نہ تو امریکہ کے صدر سے کی جاسکتی ہے اور نہ امریکہ کے دیرینہ رفیق اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو سے کی جانی چاہئے۔ امریکہ اور اسرائیل دراصل ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔ امریکہ ہر علاقہ میں اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے اور اس کے مفادات کا تقاضہ ہیکہ وہ اسرائیل کو ناراض نہ کرے۔ اسرائیل کو ناراض کئے بغیر مشرق وسطیٰ میں  امن قائم نہیں ہوسکتا کیونکہ اسرائیل اس علاقہ میں تاریخی اعتبار سے اپنے وجود کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکتا۔ اسرائیلی سرزمین فلسطین پر ناجائز قبضہ اور تسلط کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ 1948ء میں ایک عالمی سازش کے تحت جس میں روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور یوروپ کے تقریباً تمام ممالک شامل تھے۔ فلسطینیوں کو ان کے آبائی  وطن سے نکال باہر کیا گیا تھا اور اس ظلم و استبداد کو یہودیوں نے متذکرہ ممالک کی پشت پناہی سے depalistination کا نام دیا تھا۔ اس تاریخی پس منظر میں اگر دیکھا گیا تو جس مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کا عہد ڈونالڈ ٹرمپ کررہے ہیں وہ اس وقت تک ممکن نہیںہے جب تک فلسطینی مملکت کو اسرائیل اور دیگر ممالک کی جانب سے تسلیم نہ کیا جائے اور وہ تمام علاقے جو اسرائیل نے ہڑپ لئے ہیں فلسطین کو واپس نہیں کئے جائیں۔ صدر فلسطین محمود عباس نے بھی ٹرمپ کے دورہ کے موقع پر یہ بے حد پُرمغز بات کہی کہ ’’ہم فلسطینیوں کی لڑائی یہودی عقیدہ سے نہیں ہے بلکہ اپنی سرزمین کی بازیابی اور اس کو تسلیم کرنے کیلئے ہے۔ یعنی محمود عباس نے اپنی طرف سے ٹرمپ کو امن کی علامت یا شاخ زینوں Olivebranch پیش کردی ہے۔ سوال یہ ہیکہ صدر امریکہ یہودی مملکت کی قیادت کو یہ سمجھا سکیں گے۔ اس بات پر آمادہ کرسکیں گے کہ فلسطین کو اپنے قبضہ میں موجود تمام علاقوں کو واپس کردے کیا ایسا کہنے کی صدر امریکہ کو جرأت ہوگی۔ پھر نتن یاہو سے مذاکرات کے دوران انہوں نے (صدر امریکہ نے) یہ کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ فلسطین گذشتہ ساڑھے چھ دہوں سے صرف اس علاقہ کا ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت کا مسئلہ رہا ہے اور اب یہ مسئلہ عالمی امن کیلئے ناسور بن گیا ہے۔ اس کا حتمی علاج جراحی (آپریشن) کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ اس سارے علاقہ میں اور بھی کئی مسائل ہیں لیکن فلسطین تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام، عراق، یمن اور کئی عرب ممالک میں حالات ابتر ہوگئے ہیں اور ہر جگہ یہاں کے ہر ملک میں جو جنگی ماحول پیدا ہوا ہے اس میں کسی نہ کسی طرح امریکہ کا کلیدی رول رہا ہے۔ لیبیا کی تباہی کی ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ افغانستان کی بربادی اور وہاں اس کے خاتمہ کا ذمہ دار بھی امریکہ ہے۔ کیا صدر ٹرمپ عرب ممالک کا اعتماد حاصل کرسکیں گے؟ کیا مشرق وسطیٰ کے ممالک ان کی یقین دہانیوں پر فی الواقعی کان دھریں گے؟ اور کیا ٹرمپ اپنی پالیسی میں ایسی بنیادی تبدیلی کرسکیں گے جس سے بیک وقت اسرائیل  اور اس علاقہ کے عرب ممالک مطمئن ہوسکیں گے؟ ان سوالات کا صحیح جواب تو  آنے والے چند برسوں میں ہی مل سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئے جنگی مہمات بھی امریکہ چلا کر دیکھ چکا ہے۔ اس حکمت عملی کے منفی نتائج برآمد ہوئے جہاں جہاں امریکہ نے بیجا فوجی مداخلت کی ہے وہاں مخالف امریکہ  جذبات بھڑک اٹھیں ہیں۔ کسی جنگی مہم کے نتیجہ میں امریکہ کو اپنا وہ خفیہ مقصد حاصل نہ ہوسکا جس کا تعلق علاقہ میں تیل کی دولت پر قبضہ کرنا تھا۔ امریکی پالیسی ہمیشہ یہی رہی کہ’’تیل اس کیلئے رگ جان‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا میں جتنی آمدنی دولت اور تیل کے ذخائر ہیں ان پر صرف امریکہ کا پیدائشی حق ہے چنانچہ ایک امریکی ماہر معاشیات نے ابھی چند سال پہلے یہ کہا تھا کہ ’’ہمارے تمدن کے فروغ کا انحصار تیل پر ہے اور ہم اس نایاب دولت پر کسی کے قابض رہنے کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ایک اور امریکی ماہر نے کہا تھا کہ ’’تیل کی دولت پر قابض ہونے کیلئے ہم ضرورت پڑنے پر ان ممالک کو ’’دورسنگ‘‘ Stoneage میں پہنچادیں گے جو تیل کی دولت پر قبضہ  کئے ہوئے ہیں۔ اس بدنیتی کے ساتھ امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی بات کہتا ہے تو اس سے بڑا فریب اور کیا ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب کو اس لئے بھی امریکی پالیسی میں ا ہمیت حاصل ہیکہ  یہ ملک عملاً مسلمانان عالم کا نمائندہ ہے۔ عالم اسلام میں سعودی عرب کی عزت و توقیر ناقابل تسخیر ہے۔ سعودی عرب کی مستحکم معیشت بھی امریکہ کو سعودی عرب کے خلاف کچھ کہنے کی طاقت سے محروم کئے ہوئے ہیں۔ صدر امریکہ نے ان ہی خارجی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے پہلے بیرونی دورہ کیلئے مملکت سعودی عرب کا انتخاب کیا۔ جو معاہدات امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے ہیں ان سے سعودی عرب کی دفاعی طاقت میں اضافہ ہوگا اور سارے علاقہ میں سعودی اثرورسوخ مزید بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ سے یہ توقع کرنا کہ اس کے مفید اور دور رس نتائج نکلیں گے آگے چل کر خوش فہمی ثابت ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT