Thursday , October 19 2017
Home / اداریہ / مشکلوں کا اعتراف لیکن راحت نہیں

مشکلوں کا اعتراف لیکن راحت نہیں

رات کے گذرتے ہی ایک اور رات آئی
آپ تو یہ کہتے تھے دن نکلنے والا ہے
مشکلوں کا اعتراف لیکن راحت نہیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کے مسئلہ پر ساری قوم کو مایوس کردیا ہے ۔ انہوں نے جب بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا اعلان کیا تھا اس کے تین دن بعد انہوں نے عوام کو تیقن دیا تھا کہ لوگ صرف پچاس دن تک مشکلات کا سامنا کریں ۔ اس کے بعد عوام کی ساری تکالیف کو دور کردیا جائیگا ۔ اب جبکہ منسوخ شدہ کرنسی نوٹوں کو بینکوں میں جمع کروانے کا وقت بھی ختم ہوگیا ہے اور وزیر اعظم نے عوام سے جو پچاس دن کی مہلت طلب کی تھی وہ بھی ختم ہوگئی ہے ۔ کل جب مودی نے قوم سے خطاب کیا تو یہ امیدیں کی جا رہی تھیں کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق عوام کی تکالیف کو ختم کرنے اورانہیں راحت پہونچانے کے اقدامات کا اعلان کرینگے تاہم ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ کل مودی نے جو تقریر کی وہ بالکل غیر متعلقہ تقریر تھی اور اس میں عوام کی مشکلات کا اعتراف ضرور کیا گیا لیکن ان مشکلات کو ختم کرنے حکومت نے کچھ بھی کرنے کا اعلان نہیں کیا ۔ مودی نے کہا کہ وہ بینکوں کو ہدایت دے چکے ہیں کہ وہ عوام کی تکالیف کو جلد از جلد ختم کرنے اقدامات کریں ۔ مودی یہ فراموش کرچکے ہیں کہ بینکوں کی جانب سے حکومت کی مقررہ حد کے مطابق رقومات ہی عوام کو جاری نہیں کی جا رہی ہیں تو ان کی مشکلات کو ختم کرنے کیلئے بینکس کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ جب تک حکومت حالات کو بحال کرنے کے اقدامات نہ کرے اس وقت تک بینکوں کی جانب سے کچھ بھی کئے جانے کی امید رکھنا بیکار ہی ہوگا ۔ مودی کی کل کی تقریر کسی وزیر اعظم کی اور ایک ذمہ دار شخص کی تقریر نہیں تھی بلکہ ایک الجھن کا شکار فرد کے خیالات کا اظہار تھا ۔ انہوں نے اصل مسئلہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے دیگر ایسے اعلانات کئے جس کے نتیجہ میں عوام کی مشکلات میں کمی ہونے کی بجائے الٹی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے عوام کو قرض کے جال میں پھانسنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ عوام کو قرض بھی ان رقومات سے دیا جائیگا جو رقومات عوام نے ہی اپنے کھاتوں میں جمع کروائے ہیں اور پھر عوام سے ان ہی کی جمع کردہ رقومات پر حکومت اور بینکوں کی جانب سے سود حاصل کیا جائیگا ۔ یہ ایک جال ہے جس میں عوام کو پھانسا جا رہا ہے ۔ یہ اعلانات عوام کو راحت پہونچانے کے نام پر انہیں مقروض کرنے کے مقصد سے کئے گئے ہیں۔
سارے ملک میں مسئلہ ہے نوٹ بندی کا ۔ کرنسی کی قلت کا ۔ نقد رقم کے دستیاب نہ ہونے کا ۔ اور اسی مسئلہ پر ایک لفظ تک وزیر اعظم نے نہیں کہا ہے ۔ انہوں نے ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلہ کو فراموش کردیا ہے ۔ انہوں نے یہ اعتراف تو کیا کہ عوام کو اپنا ہی پیسہ نکالنے کیلئے کئی کئی گھنٹوں تک بینکوں کی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا ہے لیکن اب اس صورتحال کو ختم کرنے کیلئے کسی بھی اقدام کا مودی نے اعلان نہیں کیا ہے ۔ اس کی بجائے وہ سیاسی فائدے حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ ملک میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت کروانے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے ۔ اس مسئلہ کا ملک کے عوام کی معاشی حالت اور نوٹ بندی سے پیدا ہوئے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ عوام کی فکر یہ نہیں ہے کہ ملک میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات بیک وقت ہوتے ہیں یا پھر الگ الگ ہوتے ہیں۔ مودی اور ان کے حواری چاہتے ہیں کہ ملک کی ہر ریاست میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوجائے اور اسی لئے وہ یہ تجویز رکھتے ہیں ۔ انہیں اپنے اقتدار کی فکر لاحق ہوئی ہے جبکہ عوام کیلئے دو وقت کی روٹی اور مریضوں کیلئے وقت پر دوا حاصل کرنا تک مشکل ہوگیا ہے اور اس پر حکومت یا وزیر اعظم نے توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا ۔ حکومت نے اب عوام کے مسائل سے لا تعلقی کا اظہار کردیا ہے اور اسے صرف اپنے اقتدار کی اور اپنے عزائم و منصوبوں کی تکمیل کی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔
مودی کی کل کی تقریر میں امید کی جا رہی تھی کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک بھر میں جو افراد فوت ہوئے ہیں ان کے تعلق سے مودی افسوس کا اظہار کرینگے لیکن انہوں نے تقریبا 100 اموات پر ایک جملہ تک کہنا ضروری نہیں سمجھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے عوام کی ان کی نظروں میں کوئی اہمیت اور وقعت نہیں رہ گئی ہے ۔ جو لوگ فوت ہوئے ہیں وہ نوٹ بندی کی مشکلات کی وجہ سے ہوئے ہیں اور اس کی راست ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ نریندر مودی نے اس کا احساس تک کرنا ضروری نہیں سمجھا ۔ بحیثیت مجموعی نوٹ بندی کے 50 کی تکمیل کے بعد وزیر اعظم کی تقریر کسی مواد اور عوام کو راحت سے خالی تھی ۔ نہ بینکوں سے رقومات نکالنے کی حد میں اضافہ کیا گیا اور نہ ہی نئی کرنسی کو تیزی سے مارکٹ میں لانے کی بات کہی گئی ہے ۔ مودی کی تقریر صرف وقت کا زیاں تھی اور اس سے ملک کے ان کروڑوں عوام کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے جو نوٹ بندی کی وجہ سے پیدا ہوئے مسائل کے خاتمہ کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT