Sunday , May 28 2017
Home / مذہبی صفحہ / مشیت الہٰی کے خلاف شکایت مت کر

مشیت الہٰی کے خلاف شکایت مت کر

محبوب سبحانی قطب ربانی  ؒنے ارشاد فرمایا: ہم تجھے تاکیدکرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو امور تیرے لئے ظاہر ہوں ان کے خلاف کسی کے سامنے شکایت نہ کر اور اللہ تعالیٰ نے جیسا اور جو سلوک تجھ سے کیا ہو اس فعل کے باعث مخلوقات میں اسے متھم نہ کر( تہمت نہ لگا)۔اگر کسی دور میں تو مبتلائے مصائب و آلام رہا ہو تو یہ تجھے سمجھنا چاہئے کہ مصیبت کے بعد راحت و آرام ہے اور غم و الم کے بعد مسرت و شادمانی بھی اللہ کی طرف سے موعود ہے۔ جیسا کہ اس نے اپنے کلام مقدس میں فرمایا: بلاشبہ مصیبت کے بعد راحت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بہت وسیع و بسیط ہیں۔ اتنی بسیط کہ بندہ انہیں شمار نہیں کر سکتا۔ حق تعالیٰ نے فرمایا: اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو انہیں ہرگز شمارنہ کر سکو گے۔پس جب اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتیں نوع انسانی کیلئے مقدر ہیں کہ تو ان کا احاطہ بھی نہیں کر سکتا تو اس فیاضی اور رحمت و بخشش سے ہرگز مایوس نہ ہو۔ خالق کے علاوہ مخلوق سے باطنی ربط و تعلق نہ رکھ ۔ تیری محبت ہو تو پھر اسی سے ہو عرض حاجت ہو تو اسی کے حضور ہو اور کسی قسم کا شکوہ و شکایت نہ ہو کیونکہ دنیا میں جتنے اور جس نوعیت کے بھی عوامل اور واقعات ہیں وہ سب اس کے اذن اور حکم سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ پس احوالِ تقدیر پر شکوہ شکایت نہ کر اور مشیت ایزدی کے خلاف واویلا چھوڑ دے کیونکہ مختلف مصائب میں کتنے مصائب ہیں جو انسان پر اپنے پر وردگار کی شکایت کے باعث نازل ہوتے ہیں۔ پیران پیر فرماتے ہیں : میں حیران ہوں کہ تو ایسے پروردگار کی شکایت کس طرح سے کرتا ہے جو ارحم الراحمین ، خیرالحاکمین ،فیاض و مہربان ،بندوں پر رحمت و بخشش فرمانے والا اور ان پر والدین سے زیادہ شفقت و کرم کرنے والا ہے۔ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا کہ والدین اپنی اولاد پر ہوتے ہیں۔پس تم بھی اللہ کا ادب و احترام اختیار کرتے ہوئے زندگی میں جو مصائب در پیش آئیں ان پر صبر و تحمل کرتے ہوئے اللہ سے عفو و کرم کے خواستگار رہو کیونکہ توبہ اور طلب عفو پر معاف کر دینا اورمشکلات رفع فرمانا اس کا دستورہے۔ (فتوح الغیب)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT