Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / مشی گن پرائمریز میں ہلاری کلنٹن کو سینڈرس کے ہاتھوں شکست

مشی گن پرائمریز میں ہلاری کلنٹن کو سینڈرس کے ہاتھوں شکست

حکومت ہلاری کو انتخابات لڑنے کی اجازت نہ دے: ٹرمپ کو امریکی صدر بننے کی پوری اُمید
واشنگٹن؍ ڈیٹرائٹ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ڈیموکریٹک حریف ہلاری کلنٹن نے امریکی ریاست مسی سپی میں اپنی اپنی پرائمریز میں کامیابی حاصل کی ہے اور اس طرح وائیٹ ہاؤز پر قبضہ جمانے کیلئے دونوں کا ہی موقف مستحکم ہوگیا ہے۔ علاوہ ازیں 69 سالہ ٹرمپ کو مشی گن میں بھی سبقت حاصل ہے، جہاں گورنر اوہائیو جان کیسچ نے ابتداء میں ٹرمپ کے ساتھ زبردست مقابلہ آرائی کی تھی۔ اس موقع پر اپنے ٹوئٹر پیغام پر ٹرمپ نے ’’مسی سی پی تھینک یو‘‘ تحریر کیا۔ 68 سالہ ہلاری کلنٹن کو مشی گن میں اپنے ہی پارٹی کے حریف 74 سالہ برلی سینڈرس سے ہزیمت اُٹھانی پڑی ۔ اس طرح مسی سپی کی کامیابی سے ہلاری کو 21 ڈینی گیٹس حاصل ہوئے اور ان کی مجموعی تعداد 1134 ہوگئی جبکہ 4,765 ڈیلی گیٹس کے منجملہ انہیں صدارتی انتخابات میں نامزدگی کے لئے 2384 ڈیل گیٹس کی ضرورت ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے دو اہم کامیابیوں کے بعد خود اپنی ہی پارٹی کے ان قائدین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ان کے (ٹرمپ) خلاف منفی تشہیر کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ مشی گن میں ٹرمپ کو 37.2% ووٹس حاصل ہوئے جبکہ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹیڈ کروز کو تیسرا مقام حاصل ہوا

کیونکہ دوسرا نمبر کسی اور نے نہیں بلکہ اوہائیو گورنر جان کیچ کو حاصل ہوا جنہیں 23.7% ووٹس حاصل ہوئے۔ موجودہ صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ ٹرمپ اور ہلاری کے درمیان کانٹے کے مقابلے کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔ ٹرمپ کے بعد ٹیڈکروز ہیں جنہیں 300 ڈیلی گیٹس ان کے بعد فلوریڈا سینیٹر مارکو روہیو کا نمبر ہے جنہیں 151 ڈیلی گیٹس حاصل ہوئے ہیں۔ اس طرح اب ٹرمپ نے متاثرکن کامیابیوں کے بعد یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ نومبر میں منعقد شدنی انتخابات میں وہ اپنے کٹر حریف ہلاری کلنٹن کو یہ آسانی شکست دے دیں گے کیونکہ انہیں (ہلاری) انتہائی آسانی کے ساتھ ہرایا جاسکتا ہے تاہم انہوں نے فلوریڈا میں رات دیر گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہلاری کو ہرانا ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے تاہم اگر حکومت اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو اسے ہلاری کو انتخابات لڑنے کی سِرے سے اجازت ہی نہیں دینی چاہئے۔ صدر بننے کے بعد وہ امریکہ کو بالکل پاک و صاف کردیں گے۔ ٹرمپ نے اُمید ظاہر کی کہ وہ نیویارک میں بھی کامیابی حاصل کریں گے جہاں عام طور پر ری پبلیکن پارٹی کا امیدوار نہیں جیت پاتا۔ امریکہ میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو نوجوان امیدوار مارکو روہیو کو امریکی صدر کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے لیکن اب تک سخت مقابلوں میں مارکو روبیو دور دور تک کہیں نظر نہیں آئے۔ دوسری طرف ہلاری کلنٹن نے اب تک 12 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور سینڈرس نے صرف نو ریاستوں میں بہرحال اب آنے والی پرائمریز اور ڈیلی گیٹس کے بعد تصویر مزید واضح ہوجائے گی۔ اس وقت امریکی عوام کو بھی صحیح فیصلہ کرنے میں کچھ مشکلات کا سامنا ضروری ہے لیکن اس وقت تک تو ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ والی پالیسی اپنانا ہے، جبکہ سینڈرس کے حوصلے مشی گن پرائمریز جیتنے کے بعد بلند ہیں۔

TOPPOPULARRECENT