Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / مصباح القراء حضرت مولانا عبد اللہ قریشی ازہری علیہ الرحمہ

مصباح القراء حضرت مولانا عبد اللہ قریشی ازہری علیہ الرحمہ

شیخ التجوید مولانا محمد عبد الغفور قادری

حدیث شریف میں ہے کہ ’’تم  لوگ علماء کرام کی اتباع و پیروی کرو، کیونکہ وہ دنیا کی روشنی اور آخرت کے چراغ ہیں‘‘۔
مصباح القراء حضرت علامہ حافظ و قاری عبداللہ قریشی الازھری بن حافظ عبدالرحیم بن علی بن احمد بن معافہ الیمنی حیدرآباد کے قریب موضع ڈنڈیگل میں ۱۹؍ ستمبر ۱۹۳۵ء کو تولد ہوئے۔ آپ کا گھرانہ علمی گھرانہ تھا، جس طرح آپ کا شمار حیدرآباد کے جید حفاظ اور عمدہ قراء میں ہوتا تھا، اسی طرح آپ کے والد گرامی کا شمار بھی حیدرآباد اور دکن کے جید حفاظ کرام میں ہوتا تھا۔ آپ عربی النسل تھے۔ آپ کے اجداد میں معافہ وہ ہستی ہیں، جنھوں نے یمن سے دکن کا رُخ کیا اور یہاں پر اشاعت دین کی غرض سے نظام حیدرآباد کی فوج میں شامل ہوگئے اور ایک عرصہ تک اسی خدمت سے وابستہ رہے۔
حضرت مصباح القراء نے چونکہ علمی گھرانہ میں آنکھ کھولی تھی اور آپ کے والد محترم جو علمی، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ایک خاص مقام کے حامل تھے، انہوں نے آپ کی اچھی تربیت کی۔ بچپن سے ہی والد محترم کی خاص توجہ آپ کی طرف تھی، اسی وجہ سے بچپن میں ہی آپ نے ناظرۂ قرآن کی تکمیل کرلی تھی۔ پھر آپ کے والد محترم نے آپ کو مدرسہ حفاظ شاہی مکہ مسجد میں داخلہ دِلوایا۔ آپ اپنے خداداد حافظہ کی وجہ سے بہت جلد اور بہت کم عمری میں، یعنی صرف گیارہ سال کی عمر میں آپ نے تکمیل حفظ قرآن مجید کرلیا۔ چونکہ آپ علمی گھرانہ کے فرزند تھے، اس لئے اردو نوشت و خواند کی تعلیم اپنے والدین ہی سے گھر میں حاصل کی۔ ابھی پندرہ سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ جامعہ نظامیہ سے قرأت سیدنا امام عاصم کوفی رحمۃ اللہ علیہ کا امتحان دے کر کامیابی حاصل کی۔ آپ نے فن تجوید کو اپنے والد کے علاوہ اس وقت کے مشہور مجود قاری عبدالرحمن بن محفوظ الحمومی الحضرمی سے بھی حاصل کیا۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ آپ بھی یمنی ہیں اور آپ کے قرآن مجید کے استاذ گرامی بھی یمنی، جس کی وجہ سے آپ کے تلاوت قرآن میں ایک خاص کیفیت تھی۔ آپ عربی لہجہ میں اور عربوں کی طرح تلاوت کیا کرتے تھے اور جب آپ سے قرآن مجید سناجاتا تو یہ حدیث مبارکہ یاد آجاتی کہ ’’ قرآن کریم کو عربوں کے لہجہ میں پڑھو‘‘۔

حفظ قرآن مجید اور ابتدائی اردو تعلیم کے بعد والد صاحب کے کہنے پر علوم دینیہ و مشرقیہ کے حصول کے لئے حیدرآباد کے یگانۂ روزگار اساتذہ کرام کی جانب متوجہ ہوئے اور علماء کرام کی خدمت میں زانوئے ادب تہہ کرتے ہوئے اکتسابِ علم میں مشغول ہو گئے۔ عربی علوم کی ابتدائی و بنیادی کتب مثلًا صرف و نحو اور عربی ادب مولانا سید حبیب اللہ عرف رشید پاشاہ قادری صدر مصحح دائرۃ المعارف العثمانیہ اور مفتی محمد ولی اللہ بانی دارالعلوم النعمانیہ العربیہ، شیخ الفقہ و مفتی جامعہ نظامیہ کے علاوہ مولانا مامون دمشقی کے قیام حیدرآباد کے زمانہ میں ان سے بھی اکتساب علم کیا۔ مولانا حصول علوم کی غرض سے ان علماء کرام کی قیامگاہ پر حاضر ہوتے اور فیض حاصل کرتے۔ اگرچیکہ مولانا جدید دور کے مدارس اور کلیات و جامعات کے قیام کے بعد دنیا میں تشریف لائے، مگر شوقِ علم میں اساتذۂ کرام کی خدمت میں حاضر ہونا، ان کی جوتیاں سیدھی کرنا اور خدمت کرکے اساتذہ کی دعائیں لینے کا عمل دیکھ کر ہارون رشید اور مامون کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔ اسی طرح پیرانِِ پیر حضرت غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کی پیروی کرکے آپ نے انعام یافتہ لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی سنت کو تازہ کیا اور اپنے شاگردوں کو یہ درس دیا کہ جب تک اساتذۂ کرام کی خدمت کرکے ان کی دعائیں حاصل نہیں کروگے، اس وقت تک ترقی ممکن نہیں۔ حضرت مصباح القراء کی پوری زندگی پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ نے بچپن میں اپنے اساتذۂ کرام کی خدمت کرکے جو دعائیں حاصل کیں، وہ دعائیں آخر وقت تک آپ کے کام آئیں۔ آپ کو کوئی اولاد نہیں تھی، یکے بعد دیگرے آپ نے تین شادیاں کیں، مگر کوئی اولاد نہیں ہوئی، اس کے باوجود آپ کی زندگی بہت ہی پُرسکون گزری۔ اگرچیکہ آپ کی کوئی نسبی و جسمانی اولاد نہیں تھی، مگر ہزارہا روحانی اولاد سے شاگردوں کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سرفراز فرمایا تھا، جنھوں نے آپ کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھا اور مولانا کو کبھی اولاد نہ ہونے کا احساس تک نہ ہونے دیا۔ یعنی آپ کے شاگردوں نے خدمت گزاری میں رمق برابر فرق نہ آنے دیا۔ کیا دن کیا رات، کیا سرما، کیا گرما، کوئی وقت ایسا نہیں ہوتا تھا کہ آپ کے دولت کدہ پر کوئی نہ کوئی روحانی اولاد موجود نہ رہتی ہو۔ کسی وقت میں نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ قدیم زمانہ میں طلبہ اپنے اساتذہ کرام کی اس طرح خدمت کرتے تھے، مگر اس مادی دور میں ہماری آنکھوں نے ان باتوں کا مشاہدہ کرلیا، جن کو پڑھنے کے بعد یقین کی کیفیت نہیں پیدا ہوئی تھی۔

عربی قواعد و ادب کے بنیادی کتب کی تدریس کے بعد آپ نے ناگپور یونیورسٹی سے مولوی کا امتحان کامیاب کیا اور بعد ازاں جامعہ نظامیہ کی جماعت عالم میں داخلہ حاصل کیا۔ آپ نے جامعہ نظامیہ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے علی گڑھ یونیورسٹی سے ادیب ماہر، ادیب کامل اور عثمانیہ یونیورسٹی سے بی او ایل کا امتحان کامیاب کیا۔
عربی ادب کی تعلیم اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی فکر آپ کو ہمیشہ رہتی۔ آپ کا یہ عزم تھا کہ کسی نہ کسی طرح جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کریں۔ اس مقصد کے لئے آپ نے کئی سال تک ممبئی میں قیام کیا اور ایک وقت وہ بھی آگیا کہ آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے آندھراپردیش سے منتخب ہوئے اور حکومت کی امداد پر آپ ۱۹۶۴ء میں مصر کے لئے روانہ ہوئے۔ جامعہ ازہر میں کلیہ اصول الدین میں داخلہ حاصل کیا اور آٹھ سال تک اس عظیم جامعہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جامعہ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ کے قواعد کے مطابق ایک مقالہ ’’الدعوات الاسلامیۃ المعاصرہ فی الھند‘‘ کے نام سے تحریر کیا، تاکہ ایم اے کی سند حاصل ہو جائے۔
آپ جب حیدرآباد تشریف لائے تو اپنے ساتھ عربی زبان کی خدمت اور اس کی اشاعت کا جذبہ لے کر آئے اور پھر اس جذبہ کو روبہ عمل لانے کے لئے کمربستہ ہوگئے۔ ابتداء میں آپ کی وابستگی کئی فلاحی اور علمی تنظیموں سے رہی اور کئی مساجد و مدارس میں زبانِ عربی کی اشاعت و ترویج کے لئے اپنا وقت صرف کیا۔ آپ کی دعوت پر اہلیانِ حیدرآباد بالخصوص طلبائے علوم دینیہ و عربیہ نے لبیک کہا اور آپ سے خوب استفادۂ علمی کیا۔ آپ سے عربی ادب اور جدید عربی ادب سے استفادہ کے لئے جامعہ نظامیہ نے ایک نیا عہدہ ’’عربی ادب جدید‘‘ کا نکالا، اس طرح اپریل ۱۹۷۷ء میں آپ کا بحیثیت نائب شیخ الادب جدید تقرر عمل میں آیا۔ کچھ ہی دنوں میں آپ نے اپنی قابلیت کا لوہا منوالیا اور شیخ الادب جدید اور پھر نائب شیخ الجامعہ کے عہدہ پر آخر وقت تک فائز رہے۔ مکہ مسجد کی خطابت کے لئے جب آپ کا نام پیش کیا گیا تو تمام اہل علم اور حیدرآباد کے عوام بہت خوش ہوئے۔ آپ نے خطیب مکہ مسجد کا عہدہ سنبھال کر اپنے والد کی آرزو اور دلی تمنا پوری کی اور ان کی روح کو خوش کردیا ، کیوں کہ آپ کے والد محترم حضرت حافظ و قاری عبدالرحیم صاحب امام و خطیب مکہ مسجد تھے۔ حضرت مصباح القراء کے تمام بردران حافظ قرآن اور قاریٔ قرآن تھے، جو والدین کی دعا کی برکت سے آخر وقت تک قرآن مجید سے اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے تھے۔
یہ قحط الرجال کا زمانہ ہے، علماء کاملین دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں، ایسے دور میں بھی پیرانہ سالی کے باوجود آپ محض علم کی خدمت کی غرض سے روزانہ جامعہ نظامیہ حاضر ہوتے اور طلبہ کو برابر استفادہ کا موقع عنایت فرماتے۔
بروزمنگل۲۵؍ صفرالمظفر ۱۴۳۷ھ مطابق ۸؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بعد نماز فجر معمول کے مطابق قراء ت کی جماعت اور قرآن مجید کے آیتوں کی مشق کے بعد طبیعت کی خرابی کی شکایت کی۔ شاگرد آپ کواسریٰ دواخانہ لے گئے، جہاں ساڑھے گیارہبجے دن آپ نے آخری سانس لی اوراس دارِفانی کو خیربادکہتے ہوئے دعوتِ اجل کو لبیک کہا۔ اناللّٰہ وانآ الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر رحمت و نور کی بارش فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT