Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مصباح القراء کے انتقال سے علمی حلقوں میں خلاء

مصباح القراء کے انتقال سے علمی حلقوں میں خلاء

حیدرآباد /16 ڈسمبر ( راست ) حیدرآباد دکن ایک عظیم عالم دین سے محروم ہوگیا ۔ مصباح القراء حضرت مولانا عبداللہ قریشی الازہری کے انتقال سے علمی و دینی حلقوں میں کافی خلاء محسوس ہو رہا ہے ۔ وہ نیک صفت اور قابل ترین شخصیت تھے ۔ انہیں قرآن پاک سے بے انتہاء رغبت تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے درس قرآت قرآن کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھا ۔ ان خیالات کا اظہار روحانی علاج کے مستند عالم دین عارف بااللہ حضرت مولانا عبداللطیف رشادی ( متوطن کودار ، ضلع نلگنڈہ ( نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ امت محمدیہ ﷺ کی نئی نسل کو تعلیمات قرآنی اور فن قرات کیلئے تیار کرنے مولانا ازہری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ میری اطلاع کے مطابق شدید ناسازی صحت کے باوجود جس دن حضرت کا انتقال ہوا اس دن بھی انہوں نے کلام ربانی کی قرات کا درس دیا ۔ یہ قرآن سے ان کے بے انتہا و لگاؤ کا نتیجہ تھا ۔ مولانا عبداللہ ازہری نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک دکن میں معلم و ادب کا چراغ جلایا ۔ آج ان کے سینکڑوں شاگرد دنیا کے مختلف مقام پر اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ حضرت علم و ادب اور عربی زبان کے ماہر تھے ۔ حضرت انتقال سے ملت اسلامیہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔ مولانا عبداللطیف رشادی صاحب نے مولانا ازہری کے قرآنی مشق کو جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ حضرت ازہری کے جتنے شاگرد ہیں اور ان کے متعقدین و مریدین ہیں سبھوں کو چاہئے کہ وہ قرآن کریم سے اپنے رشتہ کو مضبوط کریں ۔ اس کی تعلیم کو عام کریں ۔ حضرت کے قرآت قرآن کیلئے اس کے سلسلے کو جاری رکھیں تاکہ لوگوں کو قرآن مجید صحیح اور تجوید کے ساتھ پڑھنا آجائے ۔ حضرت کو یہی سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا اور حضرت سے وابستگی کا ثبوت ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT