Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / مصرف ِصدقات

مصرف ِصدقات

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا یہ ادعا ہے کہ از روئے حدیث وہ اپنا مال پہلے اپنی ضروریات پر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ پھر اس کے بعد اہل و عیال مقدم ہیں۔ ان سے جب زائد بچ جائے تو قرابتدار ان کے بعد دوسرے مداتِ خیر میں خرچ کریگا۔
آیا اس کا یہ ادعا درست ہے ؟ یہ حدیث کس کتاب میں ملے گی  ؟ بینوا تؤجروا
جواب :  حدیث شریف میں صدقات سے متعلق روایت ہے کہ آدمی پہلے اپنی ذات پر خرچ کرے اس کے بعد کچھ زائد رہ جائے تو اہل و عیال پر صرف کرے ان سے کچھ بچ رہے تو رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرے، آخر میں دیگر امور خیر میں حصہ لے چنانچہ کنزالعمال جلد تین صفحہ ۲۷۲ مطبوع قدیم  الفصل الثانی فی آداب الصدقۃ میں ہے، ابدأ بنفسک فتصدق علیھا فان فضل شیء فلأھلک فان فضل عن أھلک شیء فلذی قرابتک فان فضل عن ذی قرابتک شیء فھکذا و ھکذا۔ { عن جابر}
مہر کی معافی کے بعد مطالبہ کا حق نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوا۔ میت گھر لیجاتے وقت زید کی بیوہ نے زید کے بھائی بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کو گواہ رکھ کر روبرو میت پکار کر حسب ذیل الفاظ کہے ’’میں زرمہر معاف کی سب لوگ گواہ رہیں قیامت کے دن‘‘  ایسی صورت میں کیا اب زوجہ مہر طلب کرسکتی ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں زید کی بیوہ نے میت کے ذمہ سے اپنا مہر معاف کردیا ہے اور اس کے گواہ بھی موجود ہوں تو زید کے ذمہ سے مہر ساقط ہوگیا۔ اب زید کی بیوہ کو مطالبئہ مہر کا کوئی حق نہیں۔ عالمگیری جلد اول صفحہ ۳۱۶ میں ہے:  امرأۃ المیت اذا وھبت المہر من المیت جاز۔
بیوی کی عدم ِموجودگی میں طلاق کا حکم
سوال : ۱۔  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقوع ِطلاق کیلئے بیوی کو طلاق کی اطلاع ہونا ضروری ہے یا کیا ؟ اگر شوہر دوگواہوں کے روبرو اپنی بیوی کو زبانی طلاق دے اور بیوی کو طلاق کی اطلاع نہ ہوتو بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں ؟
۲۔ کیا طلاق بائن دینے کے بعد تفریق زوجیت کیلئے عدت کا گزرنا، زرمہر، نفقئہ عدت، نفقئہ اولاد اور سامان ِجہیز کی واپسی شرط ہے یا اِن امور کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے  ؟ بینوا تؤجروا
جواب :  وقوع طلاق کیلئے زوجہ کو خطاب کرنا یا اسکا نام لینا یا طلاق کی نسبت زوجہ کی طرف کرنا ضروری ہے۔ جب زوجہ کے طرف طلاق کو منسوب کردیا جائے تو اسکے وقوع کیلئے زوجہ کا روبرو رہنا یا الفاظ طلاق کو شوہر کی زبان سے سننا ضروری نہیں۔ لابد فی الطلاق من خطابھا أو الاضافۃ الیھا۔ بہجۃ المشتاق فی احکام الطلاق صفحہ نمبر ۱۵ اور بحر الرائق جلد۳ صفحہ نمبر ۳۷۲میں ہے وذکر اسمھا أو اضافتھا الیہ کخطابہ کما بینا ۔پس صورت مسئول عنہا میں شوہر نے دوگواہوں کے روبرو زبانی طلاق دیدی ہے تو وہ واقع ہوجائیگی خواہ بیوی کو اس کا علم ہو یا نہو۔
۲۔  طلاق ِبائن کا حکم یہ ہے کہ فوراً زوجین میں تفریق ہوجاتی ہے۔ زرمہر، نفقئہ عدت، نفقئہ اولاد کی ادائی یا سامان ِجہیز کی واپسی شرط نہیں۔ عالمگیری جلد اول صفحہ نمبر ۸۴۳ میں ہے :  وأما حکمہ فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی و بدونہ فی البائن کذا فی فتح القدیر۔                        فقط واﷲ اعلم بالصواب

TOPPOPULARRECENT