Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / مصر میں تین ماہ کیلئے ایمرجنسی کا نفاذ اور تین روزہ سوگ

مصر میں تین ماہ کیلئے ایمرجنسی کا نفاذ اور تین روزہ سوگ

صدر السیسی کا ٹی وی پر قوم سے خطاب، جہادیوں کے خلاف جنگ ’’طویل اور دردناک‘‘ ہوگی
قاہرہ ۔ 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے ذریعہ دو عیسائی گرجاگھروں پر کئے گئے طاقتور بم حملوں کے بعد مصری حکومت نے تین ماہ کے لئے ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے اور خصوصی افواج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام مذہبی انفراسٹرکچر کا ہر ممکنہ تحفظ کریں۔ یاد رہے کہ گرجاگھروں میں کئے گئے حملوں میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد صدر عبدالفتاح السیسی کو گذشتہ شب قومی ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں تین ماہ کی ایمرجنسی کا ا علان کرنا پڑا۔ السیسی کو پارلیمنٹ میں ایمرجنسی ڈکلریشن اندرون ایک ہفتہ پیش کرنا ہوگا۔ ایمرجنسی کے اعلان سے قبل انہوں نے نیشنل ڈیفنس کونسل سے بھی مشارت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ دوسری طرف حکومت نے اپنی ابتدائی سرگرمیوں میں فوج کے خصوصی دستوں کو ہدایت کی ہیکہ ملک کی اہم تنصیبات کی حفاظت کے لئے وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں جس کے لئے سیکوریٹی فورسیس کو چوکس رکھا گیا ہے کیونکہ یہ اندیشے پائے جاتے ہیں کہ دولت اسلامیہ مزید حملے کرنے کا منصوبہ بناچکی ہے۔ دو گرجاگھروں پر حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے جو طنبطا اور اسکندریہ میں واقع ہیں۔ دھماکے اس وقت کئے گئے جب اتوار کو وہاں موجود عیسائی پام سنڈے منارہے تھے۔ بم دھماکوں میں زخمی مزید ایک شخص کے فوت ہوجانے سے مہلوکین کی جملہ تعداد 45 ہوگئی جبکہ مصری حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔ دریائے نیل کے ڈیلٹا سٹی میں واقع سینٹ جارج چرچ میں پہلا دھماکہ ہوا جو قاہرہ سے 120 کیلو میٹر دور ہے۔ کچھ گھنٹوں بعد ایک خودکش حملہ آور نے سینٹ مارک کے قدامت پسند چرچ میں خود کو دھماکہ سے اڑا لیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ 28 اور 29 اپریل کو پوپ فرانسس یہاں دورہ پر پہنچنے والے تھے تاہم ان کا دورہ برقرار ہے یا پھر ملتوی کیا گیا ہے، اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ دنیا کی جانی مالی اسلامی یونیورسٹی الازہر نے بھی دھماکوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز جرم قرار دیا۔ مصر میں امریکی سفارتخانے نے بھی حملوں کی مذمت کی ہے۔ یا رہیکہ مصر میں اقلیتی عیسائی برادری کو نشانہ بنانے کے واقعات اکثر و بیشتر ہوتے رہتے ہیں۔ صدر السیسی نے خبردار کیا کہ جہادیوں کے خلاف جنگ ’’طویل اور دردناک‘‘ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ تمام قانونی اور آئینی اقدامات کے بعد کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں اکثریت صدر کی حامی ہے۔ تین ماہ کی ایمرجنسی کے علاوہ مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تین دنوں کے سوگ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ مصر کی آبادی میں عیسائیوں کا تناسب 10 فیصد ہے۔ گذشتہ سال ڈسمبر میں دولت اسلامیہ کے ذریعہ کئے گئے ایک خودکش حملہ میں 29 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور یہ دلدوز واقعہ بھی اتوار کے روز چرچ میں دعائیہ اجتماع کے دوران رونما ہوا تھا۔ پام سنڈے ایسٹر سے پہلے آنے والے اتوار کو کہا جاتا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکام کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ بغیر وارنٹ کے کسی کے بھی مکان کی تلاشی لے سکیں گے اور شک کی بنیاد پر بھی کسی کو بھی محروس کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Top Stories

TOPPOPULARRECENT