Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / مصر میں جمہوریت اور دستوری حکمرانی بحال

مصر میں جمہوریت اور دستوری حکمرانی بحال

اسلامی انتہاپسندی کی سرکوبی اور معیشت کی بحالی پر توجہ : السیسی
قاہرہ۔13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ ان کا ملک 2011 ء کے دوران عوامی بے چینی سے پیداشدہ شورش کے کئی سال بعد دوبارہ جمہوری و دستوری حکمرانی قائم کرچکا ہے۔ صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمنٹ سے 32 منٹ کے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ مصر میں جمہوری منتقلی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ 596 رکنی رپالیمنٹ میں سیسی کے حامیوں کی اکثریت ہے۔ مصر میں ماضی کے مطلق العنان حکومتوں کی روایات کی یادیں تازہ کرتے ہوئے سرکاری ٹیلی ویژن نے صدر سیسی کے خطاب کو اس کے آغاز سے قبل ہی تاریخی قرار دے دیا۔ چند ارکان پارلیمنٹ نے حب الوطنی کے مظاہرہ کے طور پر اپنے میزوں پر مصر کے سرخ، سیاہ و سفید پرچم لگا رکھا تھا۔ پارلیمنٹ میں سیسی کی آمد کے موقع پر کئی ارکان نے ’’جناب صدر ہم آپ کو چاہتے ہیں‘‘ کے نعرے بلند کئے۔ سیسی کے خطاب کے دوران جب وقفہ وقفہ سے یہی نعرے گونجتے رہے تو سیسی نے بھی جواباً کہا کہ ’’میں بھی آپ سب کو بہت چاہتا ہوں‘‘ السیسی نے اعتراف کیا کہ ان کا ملک اگرچہ اپنی معیشت بحال کرنے اور اسلامی انتہاء پسندی کو کچلنے کی کوششوں میں ہنوز مصروف ہے۔ اس کے باوجود وہ (ملک) ایک نمائندہ حکومت بحال کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ صدر سیسی کی تقریر مجموعی طور پر عام باتوں پر مبنی تھی اور ارکان کی کثیر تعداد وقفہ وقفہ سے ان کی تائید و ستائش میں نعرہ بازی کررہی تھی۔ صدر سیسی نے کہا کہ اس مقام سے، پارلیمانی گنبد تھے، مصری عوام ساری دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ دستوری اداروں کی دوبارہ تشکیل دے چکے ہیں اور جمہوری نظام کا سنگ بنیاد رکھے ہیں۔ السیسی نے جو سابق جنرل ہیں 2013 ء میں فوجی بغاوت کے ذریعہ اس ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے درمیان اقتدار سے بیدخل کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT