Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / مصر کا طیارہ بحیرۂ روم میں گر کر غرقاب ، 66 ہلاک

مصر کا طیارہ بحیرۂ روم میں گر کر غرقاب ، 66 ہلاک

راڈر سے غائب ہونے سے قبل 37,000 فیٹ بلندی
پر اُڑ رہا تھا، دہشت گردکارروائی حادثہ کا سبب
قاہرہ۔ 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مصر کا طیارہ جو پیرس سے قاہرہ آرہا تھا، 26 بیرونی مسافروں سے بشمول 66 افراد سوار تھے، بحیرۂ روم میں گرکر غرقاب ہوگیا۔ مصر کے فضائی پٹی میں راڈر اسکرین سے غائب ہونے کے بعد یہ حادثہ ہوا۔ ہوا بازی عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ وزیراعظم مصر شریف اسمعیل نے کہا کہ دہشت گرد حملہ سے حادثہ کے امکانات فنی خرابی کی بنسبت زیادہ ہیں ۔ہم اس بارے میں کسی بھی امکان کو مسترد نہیں کرسکتے۔ انہوں نے قاہرہ ایرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایربس A 320 جب مقامی وقت کے مطابق 2 بجکر 45 منٹ کو مصر کے فضائی حدود میں داخل ہوا۔ اس کے فوری بعد وہ راڈر اسکرین سے غائب ہوگیا۔ اس وقت وہ 37 ہزار فٹ بلند پر اُڑ رہا تھا۔ مصر ایر فلائٹ 804 کا راڈر سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ طیارہ جب مصر کے فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، اس وقت وہ ملک کی ساحلی پٹی سے 280 کیلومیٹر دور تھا جو شمالی بحیرہ روم کے بندرگاہ شہر الیگزینڈر سے پرواز کررہا تھا۔ ہوا بازی کے عہدیداروں نے کہا کہ طیارہ کے حادثہ کے بعد ملبہ کی تلاش شروع کی گئی ہے۔ اس تلاش کے بعد ہی حادثہ کی اصل وجوہات کا پتہ چلا گا۔ مصر ایر نے کہا کہ راڈر اسکرین سے غائب ہونے کے دو گھنٹوں اور طیارہ سے کال وصول ہوا ہے تاہم مصر کی فوج نے اس طرح کے ہنگامی کالس کی وصول کی تردید کی ہے۔ مصر کی فوج نے ملبہ کی تلاش شروع کی ہے اور طیارہ کے ملبہ کے گرنے کے مقام کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ اس طیارہ میں 56 مسافر دو شیر خوار اور ایک بچہ سفر کرہے تھے۔ ان کے ہمراہ عملہ کے 10 ارکان بھی تھے۔ 30 مصری شہریوں کے علاوہ طیارہ میں 15 فرانسیسی مسافر، 2 عراقی اور ایک برطانوی، بلجیم، کویت، سعودی عرب، سوڈان، چھاڈ ، پرتگال، الجیریا اور کینیڈا کے شہری بھی سوار تھے۔

TOPPOPULARRECENT