Monday , August 21 2017
Home / دنیا / مصنوعی سورج سے شمسی توانائی کا تجربہ

مصنوعی سورج سے شمسی توانائی کا تجربہ

کولون ۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جمعرات 23 مارچ سے جرمنی کے شہر ڑیولش میں دنیا کے سب سے بڑے مصنوعی سورج نے کام شروع کردیا ہے۔ یہ ’سورج‘ ایک سو انچاس بڑے بڑے لیمپوں پر مشتمل ہے۔ اس تجربے کا مقصد توانائی کے نئے ماحول دوست ذرائع تلاش کرنا ہے۔ جرمن ایرواسپیس کا ایک کارکن ایک سو انچاس بڑے بڑے لیمپوں سے بنے ’مصنوعی سورج‘ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ یہ دیوہیکل لیمپ اسی طرح کے ہیں، جیسے فلم پروجیکٹرز کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ’مصنوعی سورج‘ کا Synlight نامی یہ تجربہ جرمن شہر کولون سے تیس کیلو میٹر مغرب کی جانب ڑیولش میں کیا جارہا ہے۔ جرمن ایرواسپیس سینٹر ڈی ایل آر کے سائنسدان اس ’مصنوعی سورج‘ کی تیز روشنی اور حرارت کے ساتھ تجربات کرتے ہوئے یہ پتہ چلانا چاہتے ہیں کہ سورج سے جو بے پناہ توانائی روشنی کی صورت میں زمین تک پہنچتی ہے، اسے کیسے زیادہ مؤثر طریقے سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ان تجربات کے دوران جن نکات پر توجہ مرکوز کی جائے گی، ان میں سے ایک کا تعلق مؤثر طور پر ہائیڈروجن پیدا کرنا ہے جوکہ طیاروں کیلئے مصنوعی ایندھن تیار کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ تجربات کا مقصد پانی کے خلیوں کو توڑ کر آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تقسیم کرنا ہے۔ ہائیڈروجن کو خاص طور پر مستقبل کی ماحول دوست ترین توانائی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ سورج بنیادی طور پر توانائی فراہم کرتا ہے لیکن اس ’مصنوعی سورج‘ کو چلانے کیلئے توانائی استعمال کرنا پڑتی ہے۔ ان تجربات میں استعمال ہونے والے لیمپ بجلی سے چلتے ہیں۔ چار گھنٹوں کے اندر اندر ان تجربات میں اتنی بجلی استعمال ہوتی ہے، جتنی کہ چار ارکان پر مشتمل ایک گھرانہ پورے ایک سال میں استعمال کرتا ہوگا۔ یہ تجربات قدرتی ماحول میں اس لئے نہیں ہوسکتے کہ دھوپ کی شدت مختلف مقامات پر بار بار بدلتی رہتی ہے اور اسی لئے لیباریٹری کے اندر ’مصنوعی سورج‘ تیار کیا گیا ہے تاکہ تجربات کے لئے مسلسل ایک ہی شدت کی روشنی اور حرارت میسر آسکے۔ جرمنی میں ڑیولش کے مقام پر جرمن ایرواسپیس سنٹر کی وہ عمارت جہاں ’مصنوعی سورج‘ کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ لیباریٹری کے اندر تجربات سے زیادہ ٹھیک ٹھیک نتائج حاصل ہونے کی امید کی جارہی ہے۔ اسی طرح یہ توقع بھی کی جارہی ہیکہ پانی کے خلیات کو توڑ کر ہائیڈروجن حاصل کرنے کا ایسا طریقہ معلوم ہوسکے گا جو آج کل رائج طریقوں کے مقابلے میں کافی سستا بھی پڑے گا۔ اس ’’مصنوعی سورج‘ کی روشنی اصل سورج کی روشنی سے ملتی جلتی ہے۔ اس کے اندر استعمال کئے جانے والے اور اندر سے چمکدار سطح رکھنے والے لیمپوں میں سے ہر ایک کا قطر ایک میٹر سائز کا ہے۔ تمام ایک سو انچاس لیمپوں کو ایک چودہ میٹر اونچے اور سولہ میٹر چوڑے تختے پر شہد کی مکھیوں کے جتھے جیسی شش پہلو شکل میں نصب کیا گیا ہے۔ ان تمام لیمپوں کو ایک نقطے پر مرکوز کرنے سے اتنی زیادہ روشنی حاصل ہوتی ہے، جو دس ہزار سو درجوں جتنی تیز ہوتی ہے۔ اس ’مصنوعی سورج‘ سے دیواروں پر پڑنے والی بالواسطہ روشنی کی حدت بھی اتنی شدید ہیکہ انسان اسے محض ایک سیکنڈ تک ہی برداشت کرسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT