Wednesday , April 26 2017
Home / اداریہ / مضطرب عوام کی قطاریں

مضطرب عوام کی قطاریں

تم نے پوچھا برہمی سے حالِ دل
خیر سے اب زندگی برہم نہیں
مضطرب عوام کی قطاریں
ملک کو بے چین اور افراتفری میں مبتلا کرنے والی حکومت کے خلاف اُف تک نہ کرتے ہوئے عوام گزشتہ ایک ہفتہ سے بنکوں اور اے ٹی ایمس کے سامنے طویل قطار میں کھڑے ہوکر قوت برداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ بعض مقامات پر رات بھر بینک کے باہر ہی سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے صبح بینک کھلنے کا انتظار کررہے ہیں۔ یہ مناظر ایک ایسے ملک میں دیکھے جارہے ہیں جہاں ترقیات ، سماجیات ، اخلاقیات کے شاندار مظاہروں کے دعوئے موجود ہیں۔ اے ٹی ایمس کے سامنے قطار بناتے ہوئے لوگ مشینوں میں پیسے ختم ہونے کے تجسس کے ساتھ دم بخود ہوکر اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔ اس طویل انتظار کے باوجود مایوسی کے عالم میں واپس لوٹ جاتے ہیں ۔ حکومت نے پیشگی انتظامات کئے بغیر عوام کو مشکلات میں مبتلا کردیا ہے ۔ وزیراعظم مودی کو اپنی کارکردگی پر زعم ہے ، ان کے حامی انھیں حوصلہ دے رہے ہیں ۔ ملک کی معیشت سے غیرقانونی مالیہ کو صاف کرنے کے لئے انھوں نے 1000 اور 500 کے نوٹوں کو ختم کردیا ۔ اس کے فوری متبادل کے طورپر موثر انتظام نہیں کئے ۔ بنکوں میں زائد اسٹاف ، اضافی اوقات میں کام کرنے کے اعلانات کے باوجود بنک کو تعطیل دیدی گئی ۔ رقم ختم ہوتے ہی بنک آدھے دن سے ہی بند کردئے جارہے ہیں اس طرح کی پریشان کن صورتحال میں بھی استحصالی طاقتیں اپنی آمدنی اور منافع کو دوگنا کرنے میں مصروف ہیں ۔ کئی تاجر اور دلال مل کر 500 اور 1000 کے نوٹوں کو قبول کرکے چھوٹے قدر والے نوٹس دے رہے ہیں۔ ان کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی اور بنکوں میں جو رقم نہیں ہے یا باہر مارکٹ کے بلیک مارکٹنگ والوں کے پاس کس طرح پہونچی یہ پتہ چلائے بغیر حکومت اور اس کی مشنری اپنے اقدامات کو درست قرار دیتے ہوئے مزید سخت کارروائیوں کے ذریعہ صرف عوام کو پریشان کرنا چاہتی ہے ۔ کسی بھی تبدیلی سے پہلے متبادل انتظامات کئے جاتے ہیں ۔ احتیاط کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو تکالیف دیئے بغیر آسانی کے ساتھ حکمرانی کے فرائض انجام دیئے جائیں۔ بے گناہ بے قصور معصوم شہریوں کو کرنسی کے حصول کے لئے سڑکوں پر دوڑانے کا عمل ایک دن اس معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی عوام کو صرف تیقنات پر تیقنات دے رہے ہیں کہ بنکس اور اے ٹی ایمس مکمل طریقہ سے کام کرتے ہوئے ضرورت مندوں کی خدمت انجام دیں گے ۔ چھوٹی قدر کی نوٹوں کی قلت کو دور کرتے ہوئے بنکوں کو بروقت سربراہ کیا جائے تو عوام کی پریشانیاں فی الفور دور کی جاسکتی ہیں مگر مختلف بینکوں نے 100 روپئے ، 50 روپئے کے نوٹوں کی قلت کی شکایت کی ہے ۔ بنکرس کا کہنا غور طلب ہے کہ اے ٹی ایمس کی مشینس نئی کرنسی کے نوٹس کے لئے کارکرد نہیں ہیں ۔ ان مشینوں کو نئی کرنسی کے استعمال کے قابل بنانے کے لئے بعض ٹکنیکل مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ اے ٹی ایم کے نٹ ورک میں خلل کو دور کرنے کے لئے مزید وقت درکار ہوگا ۔ سوال یہ ہے کہ آیا جب حکومت نے نوٹوں کو تبدیل کرکے نئی کرنسی لانے کا منصوبہ کئی ماہ قبل ہی کیا تھا تو اس کے دیگر عوامل کے بارے میں انتظامات سے لاپرواہی کیوں برتی گئی ۔ مثلاً کرنسی کی اشاعت اور بنکوں کو سربراہی ، اے ٹی ایم مشینوں کو نئی کرنسی نوٹوں کے استعمال کے قابل بنانے کا پیشگی بندوبست کیوں نہیں کیا گیا۔ تاجر طبقہ کو کرنٹ اکاؤنٹ رکھنے کے باوجود رقومات نکالنے میں پابندیوں سے گذرنا پڑرہا ہے ۔ کاروبار کو بری طرح متاثر کرکے اچھائی کے دعویٰ کرنے کی کوششیں مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے ۔ لوگوں کے صبر کو زیادہ مدت تک آزمایا جانے کی غلطی دیگر سنگین نتائج کو جنم دے سکتی ہے ۔ شہریوں کو خود اپنی رقم حاصل کرنے کیلئے نت نئے مسائل اور سخت آزمائشوں سے گذارا جارہا ہے تو یہ سراسر شہری حقوق کی یکسر خلاف ورزی ہے ۔اس تعلق سے عوام کا بڑا طبقہ سمجھداری کا مظاہرہ کررہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت اپنے اقدام کو منصفانہ قرا دے کر غلطیوں پہ غلطیاں کرتی چلی جائے ۔ بنکرس نے رقومات کو ایک سے زائد مرتبہ نکالنے سے روکنے کے لئے انمٹ سیاہی کا بھی استعمال کرنا شروع کیا ہے تاکہ کسی بھی فرد کو ایک بنک سے اپنی رقم تبدیل کرانے یا بنک میں جمع کرانے کا موقع ملنے کے بعد وہ کسی دوسرے بنک سے رجوع نہ ہوپائے ۔ اتنی چالاکی اور حاضر دماغی سے کام لینے والی حکومت دیگر انتظامی اُمور میں ناسمجھی اور لاشعوری کا مظاہرہ کررہی ہے تو اس کا نوٹ لینے کے لئے عوام کو دیر نہیں کرنی چاہئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT