Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مطالبات اور اسراف والی شادیوں کا بائیکاٹ وقت کا تقاضہ

مطالبات اور اسراف والی شادیوں کا بائیکاٹ وقت کا تقاضہ

حیدرآباد /16 اگست (دکن نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے آج کہا کہ شادیوں میں بے جا مطالبات اور غیر اسلامی رسم و رواج کے باعث مسلمانوں کی معیشت کمزور اور غیر مستحکم ہو رہی ہے، جب کہ اس کا احساس ملت کے متمول طبقہ کو نہیں ہے۔ اگر شادیوں میں پیسے کی بچت کی جائے تو غریب لڑکیوں کی شادیاں انجام دی جاسکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیاست اور ایم ڈی ایف نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جو تحریک شروع کی ہے، وہ عالمگیر سطح پر مقبول ہو رہی ہے۔ امریکہ، کناڈا، آسٹریلیا اور دیگر کئی بیرونی ممالک سے والدین سیاست کی ویب سائٹ پر موزوں رشتے تلاش کرنے لگے ہیں اور اب تک 20 لاکھ سے زائد لوگوں نے اس ویب سائٹ سے استفادہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دولت و ثروت ہونے کے باوجود بچوں کی بڑھتی عمریں ان کے لئے سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک کھانا، ایک میٹھا تحریک کے مثبت اثرات رونما ہونے لگے ہیں، چنانچہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ صرف گولکنڈہ فنکشن ہال (رنگ روڈ پر) ایک کھانا ایک میٹھا کے تحت چار ولیمے انجام دیئے گئے اور کروڑ پتی مسلم شخص نے اپنی بیٹی کی شادی پر مہمانوں کی چائے سے ضیافت کی۔ یہ صورت حال نہایت خوش آئند ہے اور انھیں یقین ہے کہ مسلمانوں کی سوچ اور فکر میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے ملک میں حالات انتہائی ناسازگار ہوتے جا رہے ہیں اور ایسے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ کہ جس سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ کچھ دن پہلے پرانے شہر میں ایک گیارہ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کرکے اسے قتل کردیا گیا اور اس مجرمانہ حرکت میں مسلم نوجوان شامل تھے۔ اس دل سوز واقعہ سے ہمارا سر شرم سے جھک گیا۔ دراصل اس طرح کے واقعات ہماری قوم کی اخلاقی گراوٹ کی مثال ہیں۔ ادارہ سیاست نے جو تحریک شروع کی ہے، اس کا مقصد مسلم معاشرہ کو خرافات اور غیر اسلامی طرز زندگی سے بچانا ہے۔ موجودہ شادیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شادیوں میں تاخیر ایک عام بات ہو گئی ہے، نہ دولھا وقت پر آتا ہے اور نہ ہی دعوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ باجے کی بیہودہ لعنت بھی ہماری تقاریب کا حصہ بن چکی ہے۔ فجر کی نماز تک بارات گھر پہنچتی ہے، جس سے نہ صرف محلہ کے لوگ بلکہ شرکت کرنے والے بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ انھوں نے نوجوانوں سے درمندانہ اپیل کی کہ وہ مطالبات اور غیر اسلامی رسومات کے خلاف جاری اس تحریک میں شامل ہو جائیں۔ جب تک ہمارے مسلم نوجوان نہیں ہوں گے، اس وقت تک اس تحریک کو تقویت نہیں حاصل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ایسی مسلم شادیوں کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے، جن میں اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔ انھوں نے ایک کھانا ایک میٹھا تحریک کو موجودہ حالات میں ناگزیر قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ مسلمان اس طریقہ کار کو اپناتے ہوئے براہ راست مسلمانوں کی خدمت کریں گے۔ دریں اثناء جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے کہا کہ دوبدو ملاقات پروگرام جس آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوتا ہے، اس کی مثال پورے ملک میں نظر نہیں آتی۔ اس تحریک کے ذریعہ لڑکے اور لڑکیوں کے سیکڑوں رشتے طے پاچکے ہیں، اس کے لئے جناب زاہد علی خاں اور ان کے رفقاء قابل مبارکباد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ رشتوں کو جوڑنا بہت مقدس کام ہے۔ رشتوں کی بڑی عزت اور توقیر ہوتی ہے، جو لوگ رشتوں کے جوڑنے کا کام انجام دیتے ہیں، وہ اللہ تعالی کے بے شمار انعامات و اکرامات کے مستحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کے دور میں رشتوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ اسلام سے دوری ہے۔ انھوں نے مسلم شادیوں میں پیسہ اور ناقابل معافی برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے لئے لڑکے والوں کی جانب سے مانگنا حرام ہے، لڑکی کے خوددار والدین کو چاہئے کہ وہ فقیروں کے گھروں میں اپنی بیٹی نہ دیں، کیونکہ بھکاریوں کو بیٹی دینا اپنی عزت نفس کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ معیاری شادی کے نام پر جو فضول خرچی کی جاتی ہے، وہ مسلم معاشرہ کے لئے باعث شرم ہے۔ انھوں نے کہا کہ شادیوں میں ڈھول باجا، ناچ گانا، مہندی، سانچق اور اس طرح کی بیہودہ رسومات سے ہم اغیار کے سامنے بے عزت ہو رہے ہیں۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ملک میں ہماری معیشت اور معاشرت کو برباد کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف ہم خود اپنی بربادی کا سامان کر رہے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ شادیوں میں ایک کھانا ایک میٹھا کو رائج کرتے ہوئے حقیقی خوشیاں فراہم کریں۔ انھوں نے کہا کہ اسی شادی خانہ (گولکنڈہ فنکشن ہال) کے منیجر سید افتخار نے بتایا کہ حیدرآباد کی ایک متمول شخصیت نے اپنے لڑکے کا ولیمہ ایک کھانا اور ایک میٹھا پر کیا اور چار شادیاں ایسی ہوئی ہیں، جن میں مہمانوں کی تواضع چائے اور حلیم سے کی گئی
یہ ایسی مثالیں ہیں، جو ہمارے لئے سبق آموز ہیں۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دوبدو ملاقات پروگرام مسلم والدین اور سرپرستوں کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں اپنے پسند کے رشتے طے کرنے کی تمام تر سہولتیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایک طرف تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو آسان بنانے کی جو تلقین کی ہے، اس پیغام کو ہم فراموش کرتے ہوئے نکاح کو پیچیدہ اور مشکل بناتے جا رہے ہیں۔ اس صورت حال کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں، جو اپنی بناوٹی زندگی کے لئے وہ کام کر رہے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے ذہن و فکر میں تبدیلی لائیں اور ایک حقیقی اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں حصہ لیں۔ جلسہ کا آغاز قاری سید الیاس باشاہ کی قراء ت کلام پاک سے ہوا۔ احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کی۔ بارش کے باوجود تقریباً تین ہزار سے زائد والدین اور سرپرستوں نے دوبدو پروگرام میں شرکت کی۔ صبح کی اولین ساعتوں سے فنکشن ہال میں رجسٹریشن کا آغاز ہو گیا تھا۔ آج نئے رجسٹریشن کے تحت لڑکوں کے 76 اور لڑکیوں کے 220 رجسٹریشن ہوئے۔ لڑکوں کے والدین کو پیلے ریبن لگائے گئے تھے، جب کہ لڑکیوں کے والدین کو سبز ریبن لگائے گئے تھے، تاکہ ایک دوسرے سے ملاقات کی سہولت ہو۔ پروگرام میں جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر سیاست، ایم اے غفار نائب صدر تحریک مسلم شبان، اے اے کے جاوید چیف منیجر اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد، حیات حسین، غلام محی الدین (سعودی عرب) کے علاوہ دیگر کئی معززین نے شرکت کی۔ ایم ڈی ایف کے نائب صدر ایم اے قدیر، ڈاکٹر ایوب حیدری، سید الیاس باشاہ، ڈاکٹر دردانہ، سید اصغر حسین، اے اے امین، سید ناظم الدین، صالح بن عبد اللہ، محمد برکت علی، محمد فرید الدین، خدیجہ سلطانہ، محمد احمد، عابدہ بیگم، کوثر جہاں، ایم اے واحد، محمد احمد، ریحانہ نواز، محمد نذیر احمد، زاہد فاروقی، احمد صدیقی مکیش، منیر الدین، افسر سیدہ، امتیاز ترنم، رفیعہ سلطانہ، ثمینہ، رفیق النساء، آمنہ فاطمہ، محمد نصر اللہ خاں، ایم اے صمد خان اور 20 سے زائد کونسلرس اور والنٹیرس نے انتظامات کی نگرانی کی۔ آج کا دوبدو پروگرام شام پانچ بجے اختتام کو پہنچا۔ جناب عابد صدیقی نے شادی خانہ کے منتظمین، صحافت، محکمہ پولیس اور دیگر اداروں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT