Tuesday , October 17 2017
Home / عرب دنیا / مطیع الرحمن نظامی کی ڈھاکہ سنٹرل جیل منتقلی، پھانسی کی تیاریاں مکمل

مطیع الرحمن نظامی کی ڈھاکہ سنٹرل جیل منتقلی، پھانسی کی تیاریاں مکمل

ڈھاکہ ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بنیاد پرست جماعت اسلامی سربراہ اور 1971ء میں جنگی جرائم کے مرتکب مطیع الرحمن نظامی کو مضافات میں واقع جیل سے ڈھاکہ سنٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتاہیکہ اب ان کو پھانسی پر لٹکایا جانا تقریباً یقینی ہے۔ دریں اثناء جیل کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایاکہ نظامی کو گذشتہ شب ڈھاکہ سنٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ کے سزائے موت کے فیصلہ پر عمل آوری کی جاسکے لہٰذا ہم ڈھاکہ سنٹرل جیل میں پھانسی کی تیاریاں کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ جیلوں کا طریقہ کار ہیکہ پھانسی پانے والے ملزم کو بالکل الگ تھلگ کوٹھری میں رکھا جاتا ہے اور نظامی کو بھی ایک علحدہ کوٹھری دی گئی ہے۔ البتہ جیل حکام کو اب تک سپریم کورٹ کے فیصلہ کی نقل موصول نہیں ہوئی ہے۔ دوسری طرف وزیرداخلہ اسدالزماں کمال نے کہا کہ فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پھانسی کس روز یا کس وقت دی جائے گی البتہ یہ بات  یقینی ہیکہ سزائے موت پر عمل آوری سے قبل تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے 5 مئی کو نظامی کی سزائے موت کے فیصلہ پر نظرثانی کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ انہیں ایک خصوصی پریزن ویان میں قاسم پور سے ڈھاکہ سنٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے اور اس وقت پولیس کی بھاری جمعیت بھی ان کے ساتھ تھی۔ قدیم ڈھاکہ میں پولیس کی گشت میں اضافہ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ڈھاکہ سنٹرل جیل کے اطراف و اکناف میں بھی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے جہاں پولیس کے ساتھ ریاپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کو بھی تعینات کیا گیا ہے جبکہ نظامی کے ارکان خاندان کو گذشتہ روز ہی ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ نظامی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے دورحکومت میں وزیر رہ رچکے ہیں۔ انہیں 2010ء میں جیل بھیج دیا گیا تھا جبکہ 29 اکوٹبر 2014ء کو انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی کیونکہ انہیں 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT