Thursday , September 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مظالم کے خلاف آواز کو ایوانو ں تک پہنچانے کی ضرورت

مظالم کے خلاف آواز کو ایوانو ں تک پہنچانے کی ضرورت

نظام آباد میں کُل جماعتی مشاورتی اجلاس ، احتجاجی پروگرامس کو قطعیت، مختلف نمائندوں کی مخاطبت
نظام آباد:13؍ ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مینمار روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج ملی حمیت کا ثبوت فراہم کرے گا۔ مظلوم انسانوں کو ظلم سے نجات دلانے کیلئے ملک و بین الاقوامی سطح پر دبائو بنانے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار آج نظام آباد میں منعقدہ کل جماعتی مشاورتی اجلاس میں نمائندوں نے کیااور ایک احتجاجی جلسہ عام اوردوسرے احتجاجی پروگرامس کو قطعیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں برما کے علاقہ راگھین میں گذشتہ چند ماہ سے سرکاری و فوجی دہشت گردی کے ذریعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کی بھی سخت مذمت کی گئی اور انسانیت سوز واقعات اور ہزاروں انسانوں معصوم بچوں اور خواتین کو قتل کرنے اور تشدد اور انتہا پسند بودھ طبقہ کی جانب سے ظلم و بربریت پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ۔عبدالعزیز سکریٹری جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ مسلمانوں سے کہیں زیادہ انسانیت کا مسئلہ ہے اور اس مسئلہ پر ہم جہاں جمہوری انداز میں احتجاج درج کرائیں وہیں مسلمانوں پر ہونے والے ان مظالم کے خلاف آئینی طریقہ سے حکومت ہند اور اقوام متحدہ کے ذریعہ سے وحشت کے اس ننگے ناچ کو ختم کرائیں ۔ حافظ لئیق خان صدر جمعیت العلماء نظام آباد نے کہا کہ برما کے موجودہ حالات اور مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی کے پیش نظر ہم مسلمانان نظام آباد ملی حمیت کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے احتجاجی طور پر اپنا احتجاج درج کرائیں اور اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ جناب سید نجیب علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ حضور ؐ نے مسلمانوں کو ایک جسم واحد قرار دیا ہے اور جسم کے کسی عضو پر کچھ چبھ جائے تو اس کا احساس پورا جسم محسوس کرتا ہے آج کے حالات میں اقطاع عالم میں ہونے والے مظالم اور بالخصوص برما میں مسلمانوں پر قتل و غارت گری کا جو ماحول ہے اس پر آواز اٹھانے اور آواز کو ایوانوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔ میر مجاز علی نے کہا کہ مسلمانوں کو متحدہ موقف کے ساتھ اس طرح کے واقعات پر رد عمل کے اظہار کی ضرورت ہے انہوں نے اس سلسلہ میں کسی بھی انتشار کے بغیر متحدہ احتجاج و رد عمل کے اظہار کی ضرورت پر زور دیا ۔ مولانا کریم الدین کمال نے برما کے واقعات کی سخت مذمت کی اور احتجاجی جلسہ عام اور دوسرے پروگرامس کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا ۔ طارق انصاری نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں مظلوم برما کے مسلمانوںکے حق میں آواز اٹھانے اور ملی حمیت سے سرشار ہوکر جذبہ اخلاص کے ساتھ آگے آنے کی ضرورت ہے۔ نوید اقبال صدر ٹی آرایس نے کہا کہ ذرائع ابلاغ سے جو کچھ دیکھا جارہا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت دم توڑ چکی ہے اس موقع پر ثناء اللہ ، وجہہ اللہ خان (اہلحدیث) ، احمد عبدالعظیم (جماعت اسلامی ) نے بھی تجاویز پیش کی ۔ اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں ملک معتصم خان ( رکن ریاستی وقف بورڈ ) ، محمد عبدالحکیم ( معتمد جمعیت العلماء)، سمیر احمد چیرمین اقلیتی ڈپارٹمنٹکانگریس، شیخ علی صابری ، محمد مجاہد خان ( سابق کارپوریٹر) ، شیخ علی صابری ، مولوی حافظ محمد ایوب اشاعتی ، حافظ سعید ، محمد افضل تیجان ( صدر سعداللہ حسینی کمیٹی ) ، محمد عبدالقیوم ( این آر آئی) ، محمد عبدالباری کے علاوہ آئمہ ، علماء ، حفاظ اکرام ، سیاسی ، سماجی ، مذہبی قائدین نے شرکت کی اور با اتفاق آراء 16؍ ستمبر کو ایک احتجاجی جلسہ عام کا انعقاد عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں تمام جماعتوں کے قائدین شرکت کریں گے ۔ مزید احتجاجی پروگرامس کو بھی قطعیت دی جارہی ہے۔ جلسہ عام میں دلت نمائندوں اور کمیونسٹ جماعتوں کے نمائندوں کے قائدین کو بھی مدعو کیا جائیگا۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT