Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مظفرنگر فسادات کی تحقیقاتی کمیٹی رپورٹ کا مقصد’آنسو پونچھنا‘

مظفرنگر فسادات کی تحقیقاتی کمیٹی رپورٹ کا مقصد’آنسو پونچھنا‘

بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کی تنقید ‘ رپورٹ پر سی بی آئی تحقیقات کا بی جے پی کا مطالبہ
لکھنو۔7مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آج ایک رکنی عدالتی کمیشن کی مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات کے بارے میں رپورٹ کو جو کل یو پی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی ‘ الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سماج وادی حکومت کو بچانے ’ آنسو پونچھنے‘ کی کوشش ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی دباؤ کے تحت حکومت وشنو سہائے عدالتی کمیشن تشکیل دینے پر مجبور ہوگئی تھی ۔ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ رپورٹ سے ثابت ہوچکا ہے کہ عدالتی کمیشن کا کام خاطیوں کو سزا دینا اور متاثرین کو انصاف رسانی نہیں بلکہ حکومت کو بے قصور قرار دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی حکومتوں نے ماضی میں یہی کیا تھا ۔ مایاوتی نے کہا کہ اکھلیش یادو حکومت ممکن ہے کہ اطمینان کی سانس لے رہی ہو لیکن انتباہ دیا کہ اُسے اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔ مایاوتی نے کہا کہ اب وقت آگیا کہ سروسماج خاص طور پر مسلم برادری اس بات پر غور کرے کہ ان کی زندگیوں ‘ جائیداد اور مذہب کی کیا قیمت ہوگی ‘ اگر سماج وادی اقتدار پر رہے ۔ غریبوں ‘ عورتوں ‘ کاشتکاروں ‘ بیروزگاروں ‘ دلتوں ‘ مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کیلئے حفاظت اور انصاف مرکز میں بی جے پی اور ریاست میں سماج وادی حکومت کے دوران مشکل ہوگیا ہے ‘ تقریباً ناممکن بن گیا ہے ۔ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات 2013 کے دوران محکمہ سراغ رسانی مکمل طور پر ناکام ہوگیا ۔ پولیس نے کوتاہی برتی جس کی وجہ سے پُرتشدد واقعات میں 62انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب بی جے پی نے آج مطالبہ کیا کہ مظفر نگر فسادات کی سی بی آئی تحقیقات کروائی جائے کیونکہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ سماج وادی پارٹی حکومت کی فسادات کے دوران کارروائی پردہ پوشی کے مترداف ہے۔

TOPPOPULARRECENT