Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / معاشی خسارہ پر قابو پانے کیلئے مرحلہ وار سبسیڈی اصلاحات

معاشی خسارہ پر قابو پانے کیلئے مرحلہ وار سبسیڈی اصلاحات

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور وظائف میں اضافہ پر ارون جیٹلی فکرمند

نئی دہلی 12 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہاکہ سبسیڈی اصلاحات کے عہد پر وہ کاربند ہے تاکہ غریبوں اور مستحقہ افراد کو سبسیڈی کے فوائد مؤثر طریقہ سے فراہم کئے جاسکیں اور بنیادی سہولیات اور ترقی کی ضروریات کی تکمیل مالیاتی وسائل کو مجتمع کئے جائیں۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہاکہ مالیاتی خسارہ پر بتدریج قابو پانے کیلئے سبسیڈی اصلاحات کے ذریعہ مصارف میں کٹوتی ناگزیر ہوگئی ہے جبکہ ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات بھی ایک امکانی جوکھم بن گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ تنخواہوں کا منصوبہ مصارف سال 2016-17 ء میں ایک لاکھ کروڑ اور سال 2017-18 ء میں 1.28 لاکھ کروڑ تک پہنچ جائیں گے جوکہ فی الحال ایک لاکھ کروڑ ہے اور وظائف کے مصارف سال 2016-17 ء میں 1.2 لاکھ کروڑ اور سال 2017-18 ء میں 1.12 لاکھ کروڑ ہوجائیں گے جوکہ فی الحال 88.521 کروڑ ہے۔ پارلیمنٹ میں منصوبہ مصارف کے تختہ جات پیش کرتے ہوئے مسٹر ارون جیٹلی نے بتایا کہ اعلیٰ شرح ترقی اور افراط زر میں کمی کے باعث معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ اُمید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں شرح سود میں مزید کمی واقع ہوجائے گی۔

انھوں نے کہاکہ معاشی صورتحال اب بحران سے بہتری کی سمت گامزن ہے جس کے باعث معاشی ترقی کا احیاء اور افراط زر کے رجحان میں گراوٹ آگئی ہے۔ علاوہ ازیں مجموعی شرح ترقی (GDP) میں 2013-14 ء میں 6.9 فیصد سے 2014-15 ء میں 7.3 فیصد تک اضافہ ہوگیا اور توقع ہے کہ جاریہ مالی سال یہ 8-8.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ سرکاری مصارف پر قابو پانے کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہاکہ حکومت مرحلہ وار سبسیڈی میں اصلاحات لاکر حقیقی مستحقین تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ پر قابو پانے کے نتیجہ میں افراط زر کے دباؤ میں کمی آئی ہے اور مستقبل قریب میں شرح سود میں مزید گراوٹ آجائے گی اور حکومت اس عہد پر کاربند ہے کہ مالیاتی خسارہ کو سال 2016-17 ء میں 3.5 فیصد، سال 2017-18 ء میں 3 فیصد تک گھٹادیا جائے جو کہ فی الحال 3.9 فیصد ہے۔ معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے حکومت کی حکمت عملی کے بارے میں انھوں نے کہاکہ محصولیات کی شرح میں اضافہ کی تجاویز زیرغور ہے تاکہ حکومت معاشی پروگرام کو تقویت پہنچایا جاسکے اور حکومت گھریلو کفایت شعاری اور سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کیلئے توجہ مرکوز کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT