Tuesday , August 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / دھونی زیرقیادت پونے ٹیم کی کارکردگی ، عرفان پٹھان کا رول؟

دھونی زیرقیادت پونے ٹیم کی کارکردگی ، عرفان پٹھان کا رول؟

کرکٹ جیسے ٹیم گیم میں قیادت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی! مہیندر سنگھ دھونی کی قائدانہ صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے، جو 50 اوور اور 20 اوور کے دو ورلڈ کپ خطابات جیتنے والے اولین کپتان ہیں۔ انھوں نے انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں بھی دو مرتبہ چینائی سوپر کنگس کو ٹائٹل جتوایا۔ آئی پی ایل میں راجستھان رائلز کے ساتھ چینائی ٹیم کی دو سالہ معطلی نے 2016ء کے ایڈیشن میں دو نئی ٹیمیں سریش رائنا زیرقیادت گجرات لائنز اور دھونی کی کپتانی میں رائزنگ پونے سوپر جائنٹس متعارف کرائے ہیں۔ آئی پی ایل 9 ایک تہائی مرحلہ طے کرچکا اور حیران کن طور پر پونے آٹھ ٹیموں کی مسابقت میں اتوار 24 اپریل کے نتائج ملنے پر دوسرے آخری مقام پر ہے ۔ دھونی کی ٹیم نے اب تک پانچ کے منجملہ چار میچز ہارے ہیں۔ پوائنٹس ٹیبل میں نچلی پوزیشن کنگس الیون پنجاب کی ہے۔ وہ بھی پونے کی طرح صرف ایک میچ جیت پائے ہیں اور یہ کامیابی دھونی زیرقیادت ٹیم کے خلاف درج ہوئی، جس کے قطعی گیارہ میں عرفان پٹھان بھی شامل رہے۔ عرفان کو ماضی قریب تک انڈیا کا ٹاپ آل راؤنڈر مانا جاتا تھا۔ وہ اپنے بڑے بھائی یوسف سے قبل ٹیم انڈیا کا حصہ بن کر انٹرنیشنل کرکٹ میں نام کمائے۔ یکایک وہ ڈرامائی انداز میں انٹرنیشنل اور نیشنل سرکٹ سے غائب ہوگئے۔ آئی پی ایل کی کارکردگی کا انٹرنیشنل اور نا ہی ڈومیسٹک پرفارمنس میں شمار ہوتا ہے۔ مگر یہ سلیکٹرز کیلئے اشاریہ کا کام ضرور کرتا ہے۔ عرفان کا تاحال پونے کی طرف سے صرف ایک میچ کھیلنا ، اُس میں تھسارا پریرا کے چوتھے نمبر کے مقابل ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنا (زیرنظر تصویر۔ عرفان پونے اننگز کی آخری گیند پر رن آؤٹ ہوئے)، پانچویں بولر کی حیثیت سے محض ایک اوور پھینکنا، کہیں نہ کہیں دھونی بحیثیت کپتان کی ناکامی کو پیش کرتا ہے۔ عرفان کا میدان سے باہر بیٹھنا اتفاق نہیں۔ گزشتہ سیزن وہ دھونی زیرقیادت چینائی اسکواڈ کا بھی حصہ تھے اور انھیں میدان سنبھالنے کا خاطرخواہ موقع نہیں دیا گیا تھا۔ پے در پے ناکامیوں پر مایوس پونے کے ہیڈ کوچ اسٹیفن فلیمنگ کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ میچ جتانے والی ترکیب ڈھونڈنے کوشاں ہے۔ رواں سیزن لیگ مرحلے میں پونے کے مزید 9 میچز باقی ہیں۔ دیکھنا ہے بقیہ مقابلوں میں دھونی کی پونے ٹیم کیا مختلف کرپاتی ہے کہ قطعی چار ٹیموں میں اپنی جگہ حاصل کرسکے!

TOPPOPULARRECENT