Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / معرض التواء مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کی ضرورت

معرض التواء مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کی ضرورت

جوڈیشیل آفیسرس کانفرنس سے کے سی آر اور چندرا بابو کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ مارچ : ( این ایس ایس) : آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے جوڈیشیل آفیسرس کی 3 روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں اس وقت خوشگوار مناظر دیکھے گئے جب دونوں ریاستوں کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور این چندرا بابو نائیڈو یکجا ہوگئے ۔ ہوٹل میرٹ میں منعقدہ کانفرنس میں سپریم کورٹ کے ججس اے آر داوے ، دیپک مصرا ، این وی رمنا ، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلیپ بھوسلے ، گجرات کے چیف جسٹس آر سبھاش ریڈی بھی شریک ہیں ۔ کے سی آر اور چندرا بابو نائیڈو نے شمع روشن کر کے اس کانفرنس کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آندھرا پردیش کے نئے دارالحکومت امراوتی میں جدید سہولیات سے آراستہ ہائی کورٹ کی عمارت تعمیر کی جائے گی اور ریاست کے دیگر عدالتوں کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کی جائے گی بعد ازاں کے چندر شیکھر راؤ نے مخاطب کیا ۔ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس کی شرکت پر کانفرنس کے شرکاء نے تالیاں بجاکر خیر مقدم کیا ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کی عدالتوں میں تقریبا 5 لاکھ مقدمات معرض التواء ہیں ۔ انہوں نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عدلیہ کو نمایاں رول ادا کرنے کی ضرور کو اجاگر کیا ۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے جج مسٹر این وی رمنا نے کہا کہ عدلیہ میں خدمات انجام دینا بھی سماج کی خدمت کے مترادف ہے ۔ انہوں نے بھگوت گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ حق کی جیت ہوتی ہے جب کہ انصاف رسانی میں امیروں اور غریبوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا ۔ مذکورہ کانفرنس 10 سال کے عرصہ کے بعد منعقد کی جارہی ہے ۔ جس کا مقصد معرض التواء مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کے لیے حکمت عملی پر غور و خوص کرنا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT