Wednesday , September 27 2017
Home / اداریہ / معرکہ کربلا اور مسلمان

معرکہ کربلا اور مسلمان

فنا فی اللہ کی تہہ میں بقاء کا راز مضمر ہے
جسے مرنا نہیں آتا، اسے جینا نہیں آتا
معرکہ کربلا اور مسلمان
سانحہ کربلا سے اسلام کو ایک نئی زندگی ملی اور ہر سال سانحہ کربلا عالم اسلام کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے، مسلمانوں کو کائنات کی تاریخ ساز اور عظیم قربانی اس بات کا درس دیتی ہے کہ وہ حق پر قائم رہ کر ہی باطل طاقتوں کو شکست فاش سے دوچار کرسکتے ہیں۔ آج کے دور میں معرکہ کربلا مسلمانوں کو ان کے فرائض دین کی طرف توجہ بھی دلاتا ہے۔ حق و صداقت کے علم بردار حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے دور ظلم و جور میں جس شان سے افضل جہاد کیا اور جرأت و شجاعت، عزم و اِستقلال، ایمان و عمل، ایثار و قربانی تسلیم و رضا کی جو بے مثال داستان رقم کی تاریخ انسان اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مسلم دنیا اس وقت جن مسائل اور ظلم و جور کا شکار ہے، اس کے سامنے حضرت امام حسینؓ کی حق و صداقت کی وہ لازوال شمع روشن ہے جس کو ہر مسلمان، ہر مسلم ملک اپنے اندر اس روشن شمع سے استفادہ کرکے کفر و باطل کی گھٹا ٹوپ ظلمتوں میں اپنے لئے راہ نجات اور چراغ راہ منزل حاصل کرسکتا ہے، مگر افسوس ہے کہ آج عالم اسلام بری طرح بھکرا ہوا ہے۔ دینی اعتبار سے مختلف گروہ وجود میں آکر اسلام کی بنیادی راہ سے بھٹک چکے ہیں۔ مغربیت نے اہم مسلم ممالک خاص کر عرب اقوام کو کمزور راہ پر ڈھکیل دیا ہے۔ شام، عراق، لیبیا، مصر، لبنان، افغانستان، یمن میں اس وقت جس طرح کی کیفیت پائی جاتی ہے، یہ مغربیت کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے کا ہی نتیجہ ہے۔کفر و باطل کو خود پر مسلط ہونے کی اجازت دے کر بعض مسلم ملکوں نے اپنے فریضہ دین اور معرکہ کربلا کی تاریخ کو فراموش کردیا جس کے نتیجہ میں ساری مسلم دنیا کو لہولہان کرکے نسل کشی کی بدترین سازشیں تیزی سے بروئے کار لائی جارہی ہیں۔ ملک شام میں لاکھوں افراد کو ہلاک کردیا گیا۔ لاکھوں بے گھر بنا دیئے گئے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والوں سے شام میں دواخانوں کو نشانہ بناکر انہیں تباہ کردیا۔ شام کا شہر حلب اس بربادی اور تباہی کی منہ بولتی تصویر پیش کرتا ہے۔ امام سیدنا حسینؓ کے فلسفہ شہادت نہ صرف مسلمانوں بلکہ کُل انسانیت کے لئے ایک دستورِ حیات کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن آج کے عالم اسلام کے ضمیر بیدار نہیں ہے۔ اس کے دلوں کو بدلنے، ذہنی انقلاب کی راہیں ہموار کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ انسانی اقدار کی عظمت و اہمیت ان پر پامال کردی جارہی ہے ۔ مسلمانوں کو اس وقت اسلام دشمنوں سے جو خطرات لاحق ہیں، اس کا سامنا کرنے کا جذبہ و حوصلہ اسی وقت مل سکتا ہے جب ہم سیدنا حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات و جرأت سن 60 ہجری کے دوران ہونے والی تبدیلیوں اور ان کا مقابلہ کرنے والی اسلامی طاقت کو مشعل راہ بنائیں۔ میدان کربلا میں حق و صداقت اور جرأت و نجات کی وہ بے مثال تاریخ رقم کی ہے کہ اس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ دنیا کی تاریخ کا ہر ورق انسانوں کے لئے عبرتوں کا مرقع ہے۔ عالم اسلام کی آج کی تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات کی وجوہات پر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ عالم اسلام باطل کے مقابلہ کیلئے صداقت اور جرأت و شجاعت کی عظیم تاریخ کو بھول چکا ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں کو شکست دینے کے لئے عالم اسلام کو اسوۂ شبیریؓ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ ہر سال کربلا کا نام اپنے لبوں پر لے کر حضرت امام حسینؓ اور آپ کے مقدس جاں نثاروں کی جرأتوں، ہمتوں اور شہادتوں کا تذکرہ سن کر اشکبار ہوتے ہیں، مگر اپنی عملی زندگیوں میں باطل سے خائف ہوکر زندگی گذارنے کا ثبوت بھی دیئے جارہے ہیں۔ معرکہ کربلا پر گھروں، محفلوں اور جلسوں میں بیٹھ کر آنسو بہانے والے تو بہت ہیں۔ تاریخ اسلام کا تذکرہ کرنا اور بات ہے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ایک اہم بات ہے۔ واقعہ کربلا پر غور کریں تو ساری مسلم دنیا کو سچائی، اُخوت اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ امام حسینؓ کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام کی سَر بلندی اور دین پر حق عظمت و بقاء کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ مسلمانوں کو اپنے اندر شعور و جذبہ و حریت کو پیدا کرنے کی فکر کرنی ہوگی۔ کفر و باطل طاقتوں کو شکست دینے کی صلاحیت انہیں حاصل ہوگی۔ آج یوم عاشورہ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو باطل طاقتوں کے خلاف معرکہ آراء ہونے کا عہد کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT