Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / معمر پنشنرس کیلئے زائد وظیفہ کی رقم ادا کرنے کیلئے چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ

معمر پنشنرس کیلئے زائد وظیفہ کی رقم ادا کرنے کیلئے چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ

حیدرآباد ۔ /22 نومبر (راست) حکومت نے زائد عمر کے پنشنرس کیلئے زائد وظیفہ کی رقم کے ایصال کیلئے نویں پے رویژن کمیشن کی سفارش کے مطابق جی او ایم ایس نمبر 100 مورخہ 6-4-2010 کو جاری کیا تھا ۔ جس سے وظیفہ یابوں کو خاطر خواہ مالی فائدہ نہیں ہوا اور کئی بنیادی مطالبات بھی حل نہیں ہوئے ۔ اسی لئے اسوسی ایشن نے بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی کو پیش نظر رکھ کر دسویں پے رویژن کمیشن کے کمشنر پی کے اگروال کو زائد عمر کے وظیفہ یابوں کیلئے زائد وظیفہ کی رقم کی ادائیگی کیلئے حسب ذیل طریقہ کار جو کہ ریاست پنجاب میں رائج ہے اُس طریقہ کار کو روبہ عمل لانے کی غرض سے حکومت سے سفارش کرنے کیلئے پیش کیا گیا ۔ 65 تا 70 سال تک 5 فیصد اضافہ ، 70 تا 75 سال تک 10 فیصد اضافہ ، 75 تا 80 سال تک 15 فیصد اضافہ ، 80 تا 85 سال تک 25 فیصد اضافہ ، 85 تا 90 سال تک 35 فیصد اضافہ ، 90 تا 95 سال تک 45 فیصد اضافہ ، 95 تا 100 سال تک 55 فیصد اضافہ ، 100 سال کی عمر سے زائد کیلئے 100 فیصد اضافہ ۔ کمشنر نے مندرجہ بالا مطالبہ کیلئے تفصیلی طور پر اسوسی ایشن کے عہدیداروں سے مشاورت کی اور اسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کمشنر سے ریاست پنجاب کے طریقہ کار کو وظیفہ یابوں کیلئے یہاں پر بھی وہی طریقہ کا رائج کرنے اور عمل کرنے کیلئے حکومت سے سفارش کرنے کیلئے پرزور کوشش کی ۔ اس ضمن میں ریاست پنجاب کے احکامات کی تحریری دلیل بھی پیش کی ۔ کمشنر نے کافی غور و خوض کے بعد اس مطالبہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہوں نے حکمت عملی کے ساتھ حکومت سے 70 سال کی عمر کے بعد وظیفہ یابوں کو 15 فیصد بنیادی وظیفہ کی رقم کا اضافہ کرنے کے لئے حکومت سے سفارش کی تھی ۔ لیکن حکومت نے اس اہم سفارش کو قبول نہیں کیا جو کہ باعث تشویش ہے ۔ کیونکہ حکومت بذات خود اپنے ہی مقرر کردہ کمشنر کی سفارش پر عمل نہیں کرے تو حکومت کی یہ وظیفہ یابوں کے حق میں سراسر ناانصافی ہے اسی لئے چیف منسٹر کو چاہئیے کہ اس مطالبہ کو ازسرنو غور و خوض کرکے کمشنر کی جانب سے کی گئی سفارش کو انصاف پسندی کے ساتھ روبہ عمل لائیں تو یہ چیف منسٹر کی اولین عمدہ کارگزاری ہوگی اور وظیفہ یابوں کو ان کا جائز حق ملے گا جو راحت اور سکون کا باعث ہے ۔ اسی لئے چیف منسٹر سے مطالبہ ہے کہ وہ خصوصی دلچسپی کے ساتھ اس مطالبہ کو فوری حل کریں ۔

TOPPOPULARRECENT