Wednesday , September 27 2017
Home / ہندوستان / مغربی اترپردیش سے ہندوئوں کی نقل مکانی

مغربی اترپردیش سے ہندوئوں کی نقل مکانی

حقائق کا پتہ چلانے کمیٹی تشکیل دینے بی جے پی کا اعلان
الہ آباد۔3 جون (سیاست ڈاٹ کام) ان اطلاعات پر کہ مغربی اترپردیش کے علاقہ کیرانا میں ہندو فرقہ نقل مکانی پر مجبور ہوگیا ہے۔ آئندہ سال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے اس مسئلہ پر سیاسی ماحول کو گرمانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت کے حق مناسب نہیں ہے اور یہ یقین دیا کہ پارٹی ٹیم کی تحقیقات کے بعد اس حساس مسئلہ پر مناسب کارروائی کی جائیگی۔ بی جے پی سربراہ امیت شاہ نے کل ضلع شاملی پر علاقہ کیرانا سے لوگوں کی نقلی مکانی پر تشویش کا اظہار کیا تھا جہاں پر 2013 ء میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے ایک مرکزی وزیر نتیش گڈکری نے آج کہا ہے کہ ان کی پارٹی اس مسئلہ کو پوری سنجیدگی سے نمٹے گی۔ بی جے پی کی قومی عاملہ اجلاس کے دوسرے دن میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گڈکری نے کہا کہ پارٹی صدر نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اور یہ کمیٹی برسر موقع حالات کا جائزہ لے گی چوں کہ ایک مخصوص فرقہ کی نقل مکانی جمہوریت کے مفاد میں ٹھیک نہیں ہے اور اس مسئلہ پر پارٹی انتہائی حساس ہے اور بعد تحقیقات مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔ جبکہ 7 رکنی تحقیقاتی کمیٹی میں 4 ارکان پارلیمنٹ اور اترپردیش کے 3 پارٹی قائدین ہوں گے۔ نیشنل ایگزیکٹیو کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا تھا کہ کیرانا سے نقل مقامی تشدد کی وجہ بھی ہوسکتی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست میں ترقی اور حکمرانی کا فقدان پایا جاتا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ تاہم مرکزی وزیر روی شنکر جو کہ امیت شاہ کے خطاب کے اہم نکات سے میڈیا کو واقف کروائے تھے۔ میڈیا کے نمائندوں نے بیک وقت سوالات کو بوچھاڑ کردی کہ آیا زعفرانی پارٹی کیرانا سے ہندوئوں کی نقل مکانی جیسے مسائل چھیڑتے ہوئے فرقہ وارانہ صف بندی کرنا چاہتی ہے۔ یہ استدلال مسترد کرتے ہوئے کہاانہوں نے یہ دعوی کیا کہ اترپردیش کی ترقی کے عہد پر بی جے پی کاربند ہے لیکن متھرا اور کیرانا میں امن برقراری میں مساجوادی حکومت کی ناکامی کو توشناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ ہم فرقہ پرستی کی نہیں بلکہ قومی مفاد کی بات کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT