Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال بلدی انتخابات میں ترنمول کی شاندار کامیابی

مغربی بنگال بلدی انتخابات میں ترنمول کی شاندار کامیابی

عوام کے رجحان کی عکاسی: ترنمول ، بی جے پی دوسرے اور بائیں بازو جماعتیں تیسرے مقام پر

کولکتہ ۔ 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ترنمول کانگریس نے آج مغربی بنگال کے بلدی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ تمام 7 بلدی انتخابات میں اس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بی جے پی بیشتر علاقوں میں دوسرے مقام پر رہی۔ بائیں بازو کو تیسرا مقام حاصل ہوا۔ بی جے پی نے تین بلدی انتخابات میں 6 نشستیں بشمول دھوپوری (شمالی بنگال) میں چار اور شمالی بنگال کے بنیاد پور اور پنس کورا (جنوبی بنگال) میں فی کس ایک نشست شامل ہے۔ 13 اگست کو بلدی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا جن کے بموجب ترنمول کانگریس نے پنس کورا اور ہلدیا (مشرقی مدناپور ضلع)، نل ہٹی ضلع بیرپور، بنیادپور، ضلع دیناجپور اور دھوپوری ضلع جلپائی گڑی، حاصل کیں۔

پارٹی میں درگا پور مجلس بلدیہ بردوان کڑبی ضلع میں بھی زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے تمام 43 وارڈس میں کامیابی حاصل کی۔ علاوہ ازیں اوپرس کیمپ میں بھی اس نے تمام 12 نشستیں حاصل کرلیں۔ ہلدیا مجلس بلدیہ میں بھی ترنمول کانگریس تمام 29 نشستوں پر کامیاب رہی۔ آج معلنہ نتائج کے بموجب اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ ریاست کی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ بی جے پی ترنمول کانگریس کا اہم چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔ مبصرین کے بموجب بائیں بازو میں فارورڈ بلاک کے ساتھ جو اس کا سب سے بڑا شراکت دار تھا، کمزور مظاہرہ کیا۔ اس نے نل ہٹی بلدیہ میں صرف ایاک نشست حاصل کی۔ کانگریس انتخابات میں ایک بھی نشست حاصل کرنے سے قاصر رہی۔ ہلدیا مجلس بلدیہ جسے کبھی بائیں بازو کا مستحکم گڑھ سمجھا جاتا تھا، ترنمول کانگریس تمام 29 وارڈس میں کامیاب رہی۔ اس نے جملہ مستعملہ ووٹوں کا 50 فیصد سے زیادہ حاصل کیا۔ بھوپوری بلدیہ میں 16 نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوا۔ ترنمول کانگریس کے 12 اور بی جے پی کو 4 نشستیں حاصل ہوئیں۔ بنیاد پور میں 14 وارڈس میں سے ترنمول کانگریس نے 13 اور بی جے پی نے ایک پر قبضہ کرلیا۔ نل ہٹی بلدیہ نے ترنمول کانگریس نے 16 واڈرس پر قبضہ کیا۔ بائیں محاذ اور آزاد امیدوار کو فی کس ایک وارڈ میں کامیابی حاصل ہوئی۔ 18 رکنی بنس پورہ بلدیہ میں ترنمول کانگریس 17 وارڈس میں کامیاب رہی اور بی جے پی ایک وارڈ میں کامیابی حاصل کرسکی۔ ترنمول کانگریس نے جھارگرام بلدیہ کے ایک وارڈ کے ضمنی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی۔ نتائج سے عوام کے ترنمول کانگریس حکومت پر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ ہمارے خلاف پروپگنڈہ کا منہ توڑ جواب ہے۔

ترنمول کانگریس کے سکریٹری جنرل پارتھا چٹرجی نے بلدی انتخابات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ بی جے پی کی کارکردگی سینئر ترنمول کانگریس کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے قائد گوتم دیب نے کہا کہ بایاں محاذ اپنا ووٹ بی جے پی کو منتقل کرچکا ہے۔ ترنمول کانگریس کا حصہ محفوظ ہے بلکہ ہم نے ووٹوں میں اپنے حصہ میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بایاں بازو بی جے پی کے بائیں بازو کے ساتھ مفاہمت کا ان انتخابی نتائج سے ثبوت ملتا ہے۔ ریاستی صدر بی جے پی دلیپ گھوش نے تاہم کہا کہ ہم تمام جانتے ہیں کہ ترنمول کانگریس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے زر اور زور کا استعمال کیا ہے۔ ہم نے جمہوریت کی اہمیت ترنمول کانگریس کی جانب سے کم کرتی ہوئی دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا بازار گرم ہونے کے باوجود ہم نے نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور دوسرے مقام پر رہے۔ اپوزیشن نے بلدی انتخابی نتائج کو ’’ڈھونگ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے رجحان کی حقیقی عکاسی ہے۔ صدر پردیش کانگریس ادھیر چودھری نے کہا کہ برسراقتدار ’’آمرانہ‘‘ ہے۔ بنگال میں انتخابات کا فائدہ ہی کیا ہے۔ ترنمول کانگریس آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی اجازت نہیں دیتی۔ اگر ایک اپوزیشن امیدوار کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ اس کا شکار کرلیتی ہے۔ سی پی آئی ایم کے سینئر قائد سدن چکرابورتی نے کہا کہ ہمارا احساس ہیکہ یہ نتائج عوام کے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ انتخابات کے انعقاد کے بعد ہم نے پورے انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ یہ آزادانہ و منصفانہ نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT