Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں آج تیسرے مرحلہ کی رائے دہی

مغربی بنگال میں آج تیسرے مرحلہ کی رائے دہی

KOLKATA, APR 20 (UNI)- Polling officials checking EVMs at Netaji Indoor Staduim, before leaving to their polling stations assigned, for the 3rd phase of West Bengal assembly polls, in Kolkata on Wednesday. UNI PHOTO-29U

62 حلقوں میں 1.37 کروڑ رائے دہندے 418 امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کرینگے
کولکتہ ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مغربی اسمبلی انتخابات کے تیسرے کلیدی مرحلہ کے تحت کل جمعرات کو 62 حلقوں میں رائے دہی ہوگی جن میں کولکتہ کے 7 حلقے بھی شامل ہیں۔ مرشدآباد، ناڈیا، بردوان اضلاع کے علاوہ شمالی کولکتہ میں محیط 62 حلقوں میں 1.37 رائے دہندے بشمول 34 خواتین، 418 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ 1,37,13,594 ووٹرس میں 65,79,331 خاتون ووٹرس بھی شامل ہیں جو صبح 7 بجے تا 6 بجے شام 16,461 پولنگ اسٹیشنوں پر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ تیسرے کلیدی مرحلہ میں مقابلہ کرنے والے چند اہم امیدواروں میں ترنمول کانگریس کے وزراء ششی پانجا اور ساجن پانڈے کے علاوہ بی جے پی کے قومی سکریٹری راہول سنہا، کانگریس کے پانچ مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے محمد سہراب، سی پی آئی ایم کے رکن اسمبلی انیس الرحمن اور ایک ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر نظرالاسلام بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس مرحلہ کے تحت 3,401 قریعوں کو مخدوش قرار دیا ہے۔ رائے دہندوں سے موصولہ شکایت کی بنیاد پر 6,095 ووٹرس کی مخدوش رائے دہندوں کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے اور شکایت موصول ہونے کے بعد گڑبڑ پیدا کرنے والے 4,094 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ریاست بھر میں 75,000 مرکزی فورسیس کے بشمول ایک لاکھ سیکورٹی فورسیس کی مدد سے انتہائی سخت ترین سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ رائے دہندے کل جب اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیلئے باہر نکلیں گے تو چلچلاتی دھوپ ایک سنگین مسئلہ رہے گی

کیونکہ کئی اضلاع شدید گرمی کی لہر اور لو کی زد میں ہیں۔ حتیٰ کہ شہر کولکتہ میں جہاں 7 حلقوں میں رائے دہی مقرر ہیں، محکمہ موسمیات نے پولنگ کے دن 39 ڈگری سلسیس درجہ حرارت کی پیش قیاسی کی ہے۔ ترنمول کانگریس، بائیں بازو ۔ کانگریس اتحاد کے علاوہ بی جے پی اس مرحلہ میں تمام 62 حلقوں سے مقابلہ کررہی ہے۔ سابق وزیر ہمایوں کبیر جنہیں مخالف پارٹی بیان بازی کے ضمن میں 6 سال کیلئے حکمران ترنمول کانگریس سے خارج کیا جاچکا ہے۔ ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے حلقہ ریجی نگر میں مقابلہ کررہے ہیں۔ ضلع مرشدآباد روایتی طور پر کانگریس کا طاقتور گڑھ رہا ہے جہاں حلقہ لال گولہ سے اس پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے سابق وزیر ابوحنا مقابلہ کررہے ہیں جو ماضی میں کانگریس کے ٹکٹ پر 5 مرتبہ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے تھے۔ منوج چکرورتی کی پارٹی کے ایک اہم امیدوار ہیں جو بہرام پور سے مقابلہ کررہے ہیں۔ سابق بینک عہدیدار مہوامئترا جو لندن میں جے پی مارگن جیسے باوقار عالمی مالیاتی ادارہ کی نائب سربراہ کے پرکشش عہدہ سے 2008ء میں مستعفی ہوگئی تھیں، بالآخر انہیں سیاسی میدان میں اپنا لوہا منوانے کا موقع مل گیا ہے جو ضلع ناڈیا کے کریم پور حلقہ سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہی ہیں۔ ترنمول کانگریس کو انتخابی مہم کے دوران دشوار گذار وقت سے گذرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس پارٹی کی سربراہ اور چیف منسٹر ممتابنرجی کو الیکشن کمیشن نے وجہ نمائی نوٹس دیتے ہوئے کہا ہیکہ انہوں نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کی ہے۔ الیکشن کمیشن حالیہ عرصہ کے دوران کئی آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کے تبادلے کرچکا ہے جن میں کولکتہ کے پولیس کمشنر راجیو کمار بھی شامل ہیں۔ الیکشن مہم کے آغاز کے بعد سے ہی ضلع بیربھوم کے ترنمول کانگریس صدر انوبرتا منڈال الیکشن کمیشن کے غیض و غضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT