Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں آخری مرحلہ کی رائے دہی 84.24 فیصد

مغربی بنگال میں آخری مرحلہ کی رائے دہی 84.24 فیصد

103 سالہ رائے دہندہ بھی شامل ، ترنمول اور حریفوں کا تشکیل حکومت کا ادعا، دونوں گروپس کی الزام تراشی

کولکتہ 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے چھٹے اور آخری مرحلہ میں 5 بجے شام تک 84.24 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس کی توثیق کردی۔ مشرقی مدنا پور ضلع میں 85.09 ، کوچ بہار میں 82.71 اور بحیثیت مجموعی 84.24 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ کوچ بہار میں ترنمول کانگریس کے دو امیدواروں کو انتخابی کمیٹی کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ اُنھوں نے مبینہ طور پر انتخابی عمل میں مداخلت کی تھی اور ووٹ دینے والوں کو دھمکیاں دی تھیں۔ رابندر ناتھ گھوش ماتا باری اور اودین گوہا دن باتا سے امیدوار تھے۔ اُن کے خلاف متعلقہ ریٹرننگ آفیسرس نے شکایات درج کرلیں۔ دن باتا نے الیکشن کمیشن میں پریسائیڈنگ آفیسر کو برطرف کردیا کیوں کہ وہ رائے دہی کے دوران بوتھ میں داخل ہونے سے گوہا کو روکنے سے قاصر رہے تھے۔ مقامی مسائل پر بعض افراد نے دو مراکز رائے دہی معینا اسمبلی حلقہ میں رائے دہی کا بائیکاٹ کیا۔ پولیس کے بموجب بحیثیت مجموعی آج 30 افراد جن میں سے 29 کو احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لیا گیا، گرفتار ہوئے۔ پہلی بار آزادی کے بعد سے 9776 سرحدی رائے دہندوں نے کوچ بہار میں حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ اِس علاقہ کو گزشتہ سال ہندوستانی سرزمین کا ایک حصہ قرار دیا گیا ہے۔ 103

 

سالہ اصغر علی نے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ جو اُن کی تین پشتوں پر مشتمل ہے، پہلی بار ووٹ ڈالا۔ ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر سنیل گپتا نے کہاکہ پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ مراکز رائے دہی پر 80 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ 58 لاکھ اہل رائے دہندوں نے 6774 مراکز رائے دہی پر 25 انتخابی حلقوں میں 6 بجے شام تک ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جملہ 170 امیدوار بشمول 18 خواتین انتخابی مقابلہ میں تھیں۔ 1500 شکایات درج کروائی گئیں جن میں سے 40 زیرالتواء ہیں۔ مشرقی مدناپور کے علاقہ بھوپتی نگر میں رائے دہندوں نے رائے دہی سے روکنے کی شکایات کیں۔ ترنمول کانگریس کے ارکان نے کانگریس کارکن کے خلاف ایک شکایت درج کروائی کہ وہ مرکز رائے دہی نمبر 236 کے قریب ہتھیاروں کے ساتھ موجود تھا۔ مرکز رائے دہی نمبر 14 ، 107 اور 247 معینا پور حلقہ میں راستے روک دیئے گئے تھے۔ رائے دہندوں کو غذا فراہم کرنے کے الزام میں صیانتی عملہ نے 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔ ٹی ایم سی اور کانگریس کے دو گروپس مبینہ طور پر رائے دہندوں کو غذا فراہم کررہے تھے۔ صیانتی عملہ نے اُن کا تعاقب کرکے اُنھیں فرار پر مجبور کردیا۔ تاہم 5 افراد گرفتار ہوگئے۔ سی پی آئی (ایم) نے نندی گرام کے 52 مراکز رائے دہی پر اپنا پولنگ ایجنٹ مقرر نہیں کیا۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سویندو ادھیکاری نے کہاکہ اس کی ذمہ داری ترنمول کانگریس پر نہیں ہے۔ مشرقی مدناپور ضلع میں سی پی آئی ایم کے حامی کے ایک مکان پر شنکر پور رام نگر میں حملہ کیا گیا۔ ترنمول کانگریس کے دو لیڈرس الوک برمن اور اشوک برمن کو سی پی آئی ایم کارکن نے تملوگ مشرقی مدنا پور ضلع میں زدوکوب کیا۔ دونوں قائدین اسپتال میں شریک ہیں۔ پریسائیڈنگ آفیسر کو بیماری کی وجہ سے علیحدہ کردیا گیا۔ دریں اثناء ترنمول کانگریس اور بایاں بازو ۔ کانگریس اتحاد دونوں نے یقین ظاہر کیاکہ وہی آئندہ حکومت تشکیل دیں گے۔ جبکہ سی پی آئی ایم نے ترنمول کانگریس پر الزام عائد کیاکہ اُس نے مابعد انتخابات تشدد کا آغاز کردیا ہے جبکہ ترنمول کانگریس نے اس الزام کی تردید کی۔

TOPPOPULARRECENT