Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں اقلیتوں کا معیار زندگی انتہائی ابتر

مغربی بنگال میں اقلیتوں کا معیار زندگی انتہائی ابتر

معاشی پالیسیوں میں تبدیلی سے بنیادی ایجنڈہ بے اثر، ارون جیٹلی کا خطاب
نئی دہلی ۔ 23 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اقلیتوں کے مصائب و مشکلات پر سوالات اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ حال ہی میں جاری کردہ اعداد و شمار (ڈاٹا) سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان کی حالت زندگی انتہائی ابتر ہے ۔ مسٹر جیٹلی نے کہا کہ حکومت کے عمل پیرا طریقہ کار سے سماج کے تمام حلقوں کی معیار زندگی بہتر نہیں ہوسکی، جس کا اثر اقلیتوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مرکزی وزیر فینانس نے آج یہاں قومی اقلیتی کمیشن کے زیر اہتمام اقلیتوں کیلئے معاشی اختیارات پر لکچر دیتے ہوئے کہا کہ 1990 ء سے قبل ہندوستان میں تیز رفتار ترقی دیکھی گئی جس کے نتیجہ میں غربت میں قابل لحاظ کمی واقع ہوگئی تھی۔ اس موقع پر ارون جیٹلی نے کولکتہ میں حالیہ جاری کردہ نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں مغربی بنگال کے مسلمانوں کی حالت زار پیش کیا گیا ہے اور مسلمانوں میں غربت ، بیروزگاری ناخواندگی اور کسمپرسی اور نیم فاقہ کشی کی وجوہات بیان کی گئی ہے جس پر وزیر فینانس نے یہ سوال اٹھایا کہ مغربی بنگال جیسی ریاست میں یہ حالات کیوں پیدا ہوئے ہیں جہاں پر آزادی کے بعد سیاسی استحکام اور اقلیتوں کی قابل لحاظ آبادی پائی جاتی ہے لیکن اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے اقلیتیں عرصہ دراز سے پسماندگی کا شکار ہیں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اقلیتوں کی ترقی اور خوشحالی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ مسٹر ارون جیٹلی نے کہا کہ ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ معاشی نمو کو ہی ترقی تصور کرلیا گیا ہے، جس کے نتیجہ میں مجموعی ترقی میں تیزی پیدا نہیں ہوسکی۔ واضح رہے کہ امرتیہ سین کی جاری کردہ رپورٹ میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں دوسرے فرقوں سے زیادہ مسلمان معاشی طور پر پسماندہ ہیں ۔ وزیر فینانس نے وقتاً فوقتاً پالیسیوں کی تبدیلی کے باعث معاشی ترقی سے توجہ غیر مرکوز ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک کارکرد اور فعال جمہوری نظام میں رہتے ہیں جس کا بنیادی ایجنڈہ ہر ایک کی ترقی اور خوشحالی ہونا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT