Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں کانگریس اور کمیونسٹ جماعتوں کا اتحاد قوس قزح کے مانند

مغربی بنگال میں کانگریس اور کمیونسٹ جماعتوں کا اتحاد قوس قزح کے مانند

ترنمول کانگریس ناقابل تسخیر طاقت۔ چیف منسٹر ممتابنرجی کا ادعا
سوتی( مغربی بنگال )۔/10مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس اور بائیں بازو کی حماعتوں کے خلاف اپنی تنقیدوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے آج کہا ہے کہ ریاست میں مجوزہ اسمبلی انتخابات کیلئے دونوں جماعتوں نے ایک قوس قزح ( دھنک ) تشکیل دیا ہے جو کہ موسم بہار میں کچھ وقفہ کیلئے نمودار ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جماعتیں ترنمول کانگریس کے خلاف تنہا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ لیکن چیف منسٹر نے کہا کہ ہم نے ایک عرصہ قبل ہی یہ دعوی کیا تھا کہ بعض کانگریس لیڈروں نے پارٹی کا پرچم سی پی ایم کے حوالے کردیا ہے، لیکن اب یہ صحیح ثابت ہورہا ہے۔ قبل ازیں دونوں جماعتوں ( کانگریس۔ سی پی ایم ) نے اپنے اتحاد کو راز کے پردہ میں رکھا تھا لیکن اب یہ اتحاد کھلے عام کیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے آج یہاں ایک انتخابی ریالی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا بعض حلقوں میں کانگریس، سی پی ایم اور بی جے پی نے ٹی ایم سی کو شکست دینے قوس قزح کا اتحاد قائم کیا ہے کیونکہ وہ تنہا مقابلہ نہیں کرسکتے محض ہمیں ( ٹی ایم سی ) کو شکست دینے کیلئے متضاد طاقتیں یکجا ہوگئی ہیں لیکن ان کا یہ اتحاد بھی کمزور ثابت ہوجائے گا کیونکہ عوام نے انہیں شکست دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات (2011) میں کانگریس کے ساتھ ترنمول کانگریس کے اتحاد کا تذکرہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ اگرچیکہ ہم نے اسوقت نشستوں پر مفاہمت کی تھی

لیکن پارٹی نے ہمیں شکست دینے کیلئے کئی حلقوں میں آزاد امیدواروں کو نامزد کیا تھا۔ چیف منسٹر نے کل بھی پڑوسی ضلع مالڈا میں کہا تھا کہ کانگریس اور سی پی ایم کے بنیادی کارکنوں کی جانب سے دونوں پارٹیوں کے غیر اصولی اتحادکی تائید کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ اگرچیکہ انتخابی اتحاد قیادت کی سطح پر قائم ہوا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے کارکنان میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ یہ وقت آگیا ہے کہ از سر نو وار کیا جائے کیونکہ ہم دہشت گردی اور تشدد پر ایقان نہیں رکھتے۔ ہم نے ترقیاتی کام انجام دیئے ہیں اور سیاسی وابستگیوں کے قطع نظر عوام کو فائدہ پہنچائیں۔ ممتابنرجی نے سوال کیا کہ اضلاع مرشد آباد اور مالدا سے منتخبہ کانگریس اور سی پی ایم کے ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ گزشتہ سال کیا کرتے رہے اور آیا انہوں نے عوام کی کوئی خدمت کی ہے۔ انہوں نے یہ ادعا کیا کہ کانگریس لیڈر اے بی اے غنی خاں چودھری مرحوم نے مالدا کی ترقی کیلئے سخت محنت کی تھی ، اگر وہ زندہ ہوتے تو مذکورہ اتحاد کی ہرگز حمایت نہیں کرتے۔ چیف منسٹر نے یہ اعتراف کیا کہ ٹی ایم سی نے 2011کے اسمبلی انتخابات میں کمیونسٹ جماعتوں کو بیدخل کردیاتھا لیکن پارٹی اضلاع مرشدآباد اور مالدا توقع کے مطابق کام نہیں کرسکی۔ تاہم اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کو بہت ہی کم نشستیں ملیں گی تو وہ غلط سوچتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT