Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / مغربی بنگال میں کانگریس بائیں بازو کیساتھ ممتا بنرجی کی گٹھ جوڑ

مغربی بنگال میں کانگریس بائیں بازو کیساتھ ممتا بنرجی کی گٹھ جوڑ

چیف منسٹر کو عوام کی بہبود کی فکر نہیں، ترقی کیا ہوتی ہے اُنھیں پتہ نہیں، مودی کی تقریر
مداری ہٹ (مغربی بنگال) 7 اپریل ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے کانگریس اور بائیں بازو اتحاد پر تنقید کی اور چیف منسٹر ممتا بنرجی پر الزام عائد کیاکہ انھوں نے (دونوں پارٹیوں کانگریس اور بائیں بازو نے)سمجھوتہ کرلیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے ساتھ ممتا بنرجی نے ساز باز کرلیا ہے اور ریاست کو تباہ کردیا جارہا ہے۔ ریاست میں یکم اپریل کو ہونے والی دوسرے مرحلہ کی رائے دہی سے قبل ایک انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے ممتا بنرجی اور بائیں بازو دونوں پر الزام عائد کیاکہ انھیں بنگال کی ترقی و بہبود یا مستقبل میں دلچسپی نہیں ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بیدل کرتے ہوئے بی جے پی کو ایک موقع دیں اور ریاست میں ترقی کی رفتار کو ملاحظہ کریں۔ مغربی بنگال کے شاندار ماضی اور روشن تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہاکہ آزادی کے بعد کانگریس، بائیں بازو اور اب دیدی (ممتا) نے بنگال کو تباہ کردیا ہے۔ یہ پارٹیاں آپ کی قسمت کے محافظ نہیں ہیں، انھیں ترقی کی فکر نہیں ہے

اور نہ ہی یہ پارٹیاں ترقی چاہتی ہیں۔ بائیں بازو اور دیدی مل کر عصمت ریزی، کرپشن، تشدد پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہے ہیں بلکہ یہ الزام تراشیوں کا کھیل صرف ایک دکھاوا ہے۔ ان طاقتوں سے مغربی بنگال کو کون بچائے گا؟ بنگال نے اچھے اور بُرے دونوں چہروں کو دیکھا ہے۔ بنگال کی حکومت میں جو لوگ بُرے ہیں اُنھیں گھر میں بٹھادیا جائے۔ کانگریس اور بائیں بازو نے اتحاد قائم کرلیا ہے تاکہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کا مقابلہ کرسکیں اور حکمراں ترنمول سے اقتدار حاصل کرلیں۔ مودی نے ممتا بنرجی پر تنقید کی کہ انھوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ لیکن دہلی میں انھوں نے (دیدی) صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ملاقات کی۔ یہ ایک ایسی چیف منسٹر ہیں جو سمجھتی ہیں کہ وزیراعظم سے ملاقات کرنے کے لئے دہلی نہیں جائیں گی لیکن انھوں نے سونیا گاندھی سے ملاقات کرنا نہیں بھولا۔ ہم ایسے تعلقات کو سمجھ نہیں سکتے۔ یہاں کانگریس اور بائیں بازو کا اتحاد ہے لیکن جب دیدی دہلی جاتی ہیں تو وہ سونیا گاندھی کا آشیرواد ضرور لیتی ہیں۔ دونوں لیڈرس مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ فوٹو لیتے ہیں۔ آخر ممتا بنرجی کس طرح کی چیف منسٹر ہیں۔ ریاست میں ترقی کی فکر کرنے کے بہانے مرکز سے ریاستی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے بجائے اہم اجلاسوں کا بائیکاٹ کرتی ہیں۔
مودی کا رویہ ’’شاکھاپرمکھ‘‘ جیسا: ترنمول کانگریس
کولکتہ ۔ /7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ترنمول کانگریس نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ’’شاکھا پرمکھ ‘‘جیسارویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور وزیراعظم کے عہدہ کا وقار گٹھا رہے ہیں ۔ ترنمول کانگریس پر الزامات عائد کرنا وزیراعظم کے شایان شان نہیں ہے ۔ ترنمول کانگریس کے قومی ترجمان ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم نریندر مودی کے ہماری پارٹی پر تبصرے سنے ہیں ۔ ان کے الزامات میں ہماری سیاسی پارٹی کے مخفف کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ وزیراعظم کی شان کے خلاف ہے ۔ مودی کی جانب سے ممتابنرجی اور ٹی ایم سی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ٹی سے ٹیرر ، ایم سے موت اور سی سے کرپشن ہوتا ہے ۔ ڈیرک نے کہا کہ ہندوستانیوں جیسی عظیم قوم کے وزیراعظم کو اس قسم کا تبصرہ زیب نہیں دیتا ۔ وہ چاہے کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھتے ہوں انہیں خود کو ’’شاکھا پرمکھ ‘‘کی سطح تک نہیں گھٹانا چاہئیے ۔مرکز نے مغربی بنگال کو محروم کر رکھا ہے اور مودی بابو کہتے ہیں کہ ہم ریاست کی ترقی کیلئے زیادہ جدوجہد نہیں کررہے ہیں ۔ سابق بائیں بازو حکومت نے دو لاکھ کروڑ روپئے کے قرض کا بوجھ مغربی بنگال پر عائد کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT