Friday , September 22 2017
Home / سیاسیات / مغربی بنگال کے ارکان اسمبلی کی آمدنی میں زبردست اضافہ

مغربی بنگال کے ارکان اسمبلی کی آمدنی میں زبردست اضافہ

حکمران ترنمول کانگریس کے بیشتر امیدوار کروڑ پتی بن گئے
کولکتہ۔/14 اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) سیاسی وابستگیوں کے قطع نظر 45 موجودہ ارکان اسمبلی جو کہ مغربی بنگال اور اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں دوبارہ مقابلہ کررہے ہیں ان کے اثاثہ جات میں گذشتہ 5سال کے دوران دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ جبکہ یہ انتخابات 17اپریل کو منعقدہوں گے۔ الیکشن کمیشن کو پیش کردہ حلفناموں کا جائزہ لینے پر پتہ چلا ہے کہ دوبارہ مقابلہ کرنے والے امیدواروں کے اثاثہ جات 34.76کروڑ تک پہنچ گئے ہیں جوکہ سال 2011میں 17.44 کروڑ تھے۔ تناسب کے اعتبار سے جملہ اثاثہ جات میں 90.44فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ویسٹ بنگال الیکشن واچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دوبارہ انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے حلف ناموں کا جائزہ لینے پر پتہ چلا ہے کہ سال 2011 میں صرف 4کروڑپتی امیدوار تھے اور ان کی تعداد بڑھ کر 2016میں 16 تک پہنچ گئی۔ مغربی بنگال اسمبلی میں جملہ 294 نشستیں ہیں اور اضلاع علی پورو اور جلپائی گوڑی، دارجلنگ، اترادیناج پور، دکھشن دیناج پور، مالڈا اور بیرھوم پر محیط 56نشستوں کیلئے17اپریل کو دوسرے مرحلہ کے انتخابات منعقد ہوں گے۔ دوسرے مرحلہ کے انتخابات میں دوبارہ مقابلہ کرنے اور حکمران ترنمول کانگریس کے ہر ایک امیدوار کی آمدنی میں 2011 سے 2016 کے دوران 130 فیصد ( تقریباً 54لاکھ روپئے ) کا اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ 45 ارکان اسمبلی میں 24 کا تعلق ترنمول کانگریس سے ہے ان میں 10ارکان اسمبلی دیگر جماعتوں کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس طرح دوسرے مرحلہ کے 333امیدواروں کی اوسط آمدنی 54.2 لاکھ روپئے ہے اور 56 امیدوار کروڑ پتی ہیں جن میں 23حکمران ترنمول کانگریس کے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT