Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / مغربی کنارہ پر یہودی انتہا پسندوں کے حملہ میں ایک فلسطینی بچہ جاں بحق

مغربی کنارہ پر یہودی انتہا پسندوں کے حملہ میں ایک فلسطینی بچہ جاں بحق

وزیراعظم اسرائیل نتن یاہو برہم، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ، مکانات نذرآتش، تین افراد شدید زخمی

دوما (مغربی کنارہ) ۔ 31 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) آج صبح فلسطین کے ایک موضع پر مشتبہ یہودی حملہ آوروں نے ہلہ بول دیا اور دو مکانات نذرآتش کردیئے۔ ایک بچے کو ہلاک کردیا اور کم و بیش تین افراد کو زخمی کردیا۔ اسرائیلی اور فلسطینی عہدیداروں نے یہ بات بتائی جبکہ وزیراعظم اسرائیل نے اس واقعہ کو دہشت گردانہ حملہ سے تعبیر کیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق حملہ آور دوما میں داخل ہوئے جو نبلس شہر سے بیحد قریب ہے۔ انہوں نے وہاں مکانات کو نذرآتش کردیا اور دیواروں پر نعرے تحریر کرنے لگے جن میں ’’مسیحا زندہ باد‘‘ اور ’’بدلہ‘‘ شامل ہیں۔ مکانات کو نذرآتش کرنے حملہ آوروں نے ان پر بم پھینکے۔ دیڑھ سالہ متوفی بچہ کی شناخت علی کی حیثیت سے ہوئی ہے جبکہ اس کا چار سالہ بھائی اور والدین شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ نبلس میں موجود ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ یہودی حملہ آوروں نے ایک مکان کی کھڑکی کے شیشے توڑ دیئے

اور کوئی جلتی ہوئی شئے اندر پھینکی جس سے مکان کے اندر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی افواج کا کہنا ہیکہ اس حملہ میں تین افراد شدید طور پر اور ایک فرد معمولی زخمی ہوا ہے۔ شدید زخمیوں کو ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ نبلس میں آباد یہودی انتہائی جارحانہ رویہ کے حامل ہیں اور فلسطینیوں پر حملہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ فلسطینی شہری نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت کو اس نوعیت کے حملوں کی روک تھام کیلئے کارروائی کرنی چاہئے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہیکہ اس واقعہ کے بعد مغربی کنارہ کے لئے فوجی ری انفورسمنٹ روانہ کی گئی ہے کیونکہ اندیشہ ہیکہ اس واقعہ کے بعد ردعمل کے طور پر کہیں تشدد نہ پھوٹ پڑے۔ یہودیوں کا عرصہ دراز سے یہ وطیرہ رہا ہیکہ وہ فلسطینیوں کی املاک پر حملہ کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مساجد، گرجاگھروں اور یہاں تک کہ اسرائیلی افواج کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ انتہاء پسند یہودی اسرائیلی حکومت پر یہ کہہ کر تنقیدیں کرتے رہتے ہیں کہ فلسطین کے لئے اس کی (اسرائیلی حکومت) پالیسیاں انتہائی نرم ہیں جبکہ دوسری طرف ایسا بھی ہوا ہیکہ اس نوعیت کے حملوں میں کسی کی ہلاکت بھی نہیں ہوئی۔ ناقدین کا کہنا ہیکہ پولیس حملہ آوروں کو گرفتار کرنے میں کوتاہی سے کام لے رہی ہے جبکہ فلسطینی شہری اسرائیلی فوجیوں کو انتہاء پسند یہودیوں کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کیلئے موردالزام ٹھہرا رہی ہے۔ ان حملوں کو ’’پرائس ٹیگ‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے اور ان کی مذمت تقریباً تمام اسرائیلی سیاسی حلقوں میں کی جارہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے بھی تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے خت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ اسرائیلی افواج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل پیٹر لرنر نے بھی حملوں کے اس واقعہ کو دہشت گردی اور بربریت قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT