Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / مغر بی تہذیب کے اثرات

مغر بی تہذیب کے اثرات

مغر بی تہذیب کے اثرات

امۃ الصبیحہ
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۰۸ میں اﷲ تعالی کا ارشاد ہورہا ہے کہ’’ائے ایمان والو! اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو، کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘۔
اسلام اﷲ تعالی کی طرف سے اتارا ہوا ایک مکمل دین ہے، جس میں انسانوں کیلئے بھلائی ہے، جوانسان اسکے قوانین پر عمل پیرا ہوا وہ نجات پایا اور جس نے شیطان کی پیروی کی اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ شیطان بندوں کو گمراہ کرنے کیلئے اپنے حربہ کا استعمال کرتا ہے۔ آج امت مسلمہ بھی ان حربوں کا شکار ہے، آج مسلمان عیش و عشرت کی زندگی کیلئے احکام خداوندی کو بھلا بیٹھاہے اور دین سے دوری اختیار کرلی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ بحیثیت مسلمان ہمارے لئے قانون اسلام کی پابندی ضروری ہے۔ اور یہ پابندی صرف چند رسومات کی ادائیگی تک محدود نہیں ہے، بلکہ مہد (جھولا) سے لیکر لحد (قبر) تک (پیدائش سے لیکر موت تک) پیش آنے والے ہر مسئلہ میں اسلام اور حضور ﷺ کی پیروی ضروری ہے۔ بے حیائی جو غیرمذہبوں کا شیوہ ہے، جسے ہم اپنا رہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل اپنے مذہب کو پامال کررہی ہے۔ مغربی تہذیب کے ہم اتنے دلدادہ ہوچکے ہیںکہ ہمیں اسلامی روایات بھی فرسودہ معلوم ہورہی ہیں۔
شریعت اسلامیہ نے مرد و زن کو بدکاری، فحاشی اور عریانی و بے حیائی سے محفوظ رہنے کا حکم دیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے کہ ’’ بدکاری کے قریب نہ جاؤ، بیشک یہ بے حیائی ہے‘‘۔ آج غیرمحرم واجنبی سے دوستی و بے حیائی کا کام ایک مشن کے ذریعہ انجام دیا جارہا ہے، دوسری طرف تو بنفس نفیس بالمشافہ انجام پانے والے اس بے حیائی اور بد کاری کے کام کو معاشرہ میں ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کا نا م دیا گیاہے۔ یہود و نصاری کی ان سازشوں کی وجہ سے مسلمان عورتوں کو بے پردہ کیا جارہا ہے، کئی ملکوں پر حجاب پر پابندی لگائی جارہی ہے۔ آزادی کے نام پر مسلمان عورتوں کو بے پردہ کیا جارہا ہے، اس کی عصمت، عفت و پاکدامنی کو سڑکوں، پارکوں، گلیوں، ہوٹلس اور اشتہارات کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔

سورۂ احزاب میں اﷲ فرماتا ہے کہ ’’بے پردہ نہ رہو‘‘ حدیث شریف میں آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’’حیاء ایمان کا جز ہے‘‘ اسلام حیاء اور پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ دین اسلام نے ناجائز تعلقات و فواحش کا ارتکاب تو کیا، انکے قریب جانے سے بھی منع کیا۔ حضرت ابوسعید رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’’تم اپنے سے پہلی قوموں کے پیچھے چلوگے، انکی اطاعت کروگے، انکی تقلید کروگے، جسطرح ہاتھ ہاتھ کے برابر، بالشت بالشت کے برابر ہوگی، توصحابہ نے عرض کیا؟ یارسول اﷲ ﷺ پہلی والی قوموں سے کیا مراد ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا ! یہود و نصاری، ہم سے پہلی والی قومیں، قوم عاد، قوم ثمود بھی انہی بدکاریوں کی وجہ سے ان پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ آج کلمہ گو مسلمان یہود و نصاری کی تقلید کرتا ہے۔ اس دور میں میڈیا ذرائع ابلاغ کے ذریعہ یہود و نصاری کے کارندے اس میڈیا کے ذریعہ برے اخلاق، غلط عقیدوں اور غلط کارستانیوں کو مسلمانوں تک پہنچاتے ہیں، جسکو مسلمانوں نے اپنے گھروں میں اس کو اپنا لیا۔
۱۴؍فبروری ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ جو ایک رومی ایجاد ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ عیسائیوں اور رومن بت پرستوں کا تہوار ہے۔ اس کا نام ایک رومن پادری سے منسوب ہے۔ اس دن کو رومن محبت کے الٰہ یعنی معبود کو پوجنے کے طور پر منایا کرتا ہے۔

افسوس! آج کلمہ پڑھنے والی امت نے اس کو تحقیق کے بغیر اپنے سینے سے لگالیا۔ یہ اہل ایمان کی عید نہیں، بلکہ وہ وعید ہے اور جس نے بھی اس تہوار کو منایا وہ شرکیہ تہوار منایا، اس تہوار میں سرخ گلاب کا ایک دوسرے میں تبادلہ کیا جاتا ہے۔ خوشی و سرور کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اور بے حیائی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
سورۂ اعراف میں اﷲ نے ارشاد فرمایا: ’’آپ فرمادیجئے! بیشک میرے رب نے بے حیائی کو حرام فرمادیا جو ان میں سے ظاہر ہے اور ان میں سے جو باطن ہے‘‘۔ یہود و نصاری کا مقصد، مقصد عین ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کردے۔ ان میں سے وہ ایمانی جذبہ ختم کردے جو کبھی ان کا شعار ہوا کرتا تھا۔
ہماری زندگیوںاور سوچ پر اغیار کا غلبہ ہے، جس کو اپنا کر فخر بھی کیا جارہا ہے، اسلام جن چیزوں سے روک رہاہے، آج مسلمان انہیں چیزوں کو اپنارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT