Thursday , September 21 2017
Home / ادبی ڈائری / مغلوں کے دور میں مالوہ

مغلوں کے دور میں مالوہ

ڈاکٹر حافظ حاجی ماجد حسین
مہا بھارت کے بعد سے ہندوستان کی تاریخ بڑی دلچسپ اور اقتدار کی جنگ سے بھرپور رہی ہے ۔ ہندوستان پر دسویں صدی میں غیر ملکی لوگوں نے آکر قبضہ کیا۔ سن ایک ہزار عیسوی میں سلطان محمود غزنوی سونے کی چڑیا کہے جانے والے ہندوستان پر حملہ کر کے مال و دولت سمیٹ کر واپس چلا گیا لیکن اس دوران ایران کے طاقتور لوگوں نے یہ محسوس کرلیا کہ ہندوستان پر بآسانی اقتدار بھی حاصل ہوسکتا ہے لہذا ہندوستانی عوام کی نرم گوشی اور شرافت کے بل بوتے پر ساتویں صدی میں محمد بن قاسم اور خلجی نے ہندوستان آکر بڑے علاقہ پر بآسانی اقتدار قائم کرلیا۔ اسکے بعد بارہویں صدی میں سلطان التمش نے ہندوستان آکر اپنی حکمرانی قائم کرلی اور اس کے بعد مغل حکمرانی قائم ہوگئی۔

ہندوستان پرودیشی حکمرانی کا قابض ہونا ایک چھوٹی سی ناعاقبت اندیشی رہی ہے ۔ دراصل دسویں صدی سے ہندوستان پرچوہان راجاؤں کی حکمرانی قائم تھی ۔ بارہویں صدی میں راجپوت راجاؤں نے تلوار کشی اور سنسکرت بھاشا کی تعلیم حاصل کرنے پر شودروں (نچلی ذات کی قوم) پر پا بندی عائد کر رکھی تھی ۔ صرف راجپوتوں کو تلوار کشی کی اجازت تھی اور بیرونی حملہ آوروں (مسلم قوم) کو بلا تفریق فوج میں شمولیت حاصل تھی ۔ لہذا بیرونی فوج کی تعداد راجپوت فوج سے دس گنا ہونے کی وجہ سے بیرونی حملہ آور جنگ میں کامیاب ہوکر ہندوستان پر قابض ہوگئے ۔ یہ ناعاقبت اندیشی(چوک) سے ہندوستان ودیشی حکمرانی میں چلا گیا ۔ ہندوستان پر بیرونی لوگوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کیلئے جدوجہد شروع کردی تھی ۔ سب سے زیادہ جدوجہد راجستھان اور مالوہ میں رہی ۔ ما لوہ میں سن 624 میں راجہ بھوج اول کی حکمرانی قائم تھی۔ سن 712 ء میں سندھ کے محمد بن قاسم نے ہندوستان پرحکمرانی کا آغاز کیا اور سندھ کے حکمراں عبدالرحمن المروٹی نے صوبیدار حبیب بن مراکو فوج کے ساتھ بھیج کر مالوہ پر حکمرانی کیلئے اجین پرحملہ کردیا ۔ اس وقت مالوہ (اجین ) میں سمراٹ و کرامادیہ کی حکمرانی تھی ۔ وکرمادیہ نے شکست محسوس کرتے ہوئے حرجانہ ادائیگی پر صلح کرلی ۔
سن 624 ء میں مالوہ بھارت کی پندرھویں صدی کی سب سے بڑی آزاد سلطنت تھی جو اجمیر ،کالپی ، بیانہ ، چندیری ، رائے پور ، رتن پور ، سرگوجہ ، بیراگڈھ ، جونپور، بگلانا ، علیج پور، کوہ ست پورہ ، دوہد، بانسواڑہ ، کٹھال (پرتاپ گڑھ) ، مند سور، ساگر، اوجین ، بھیلسہ (ودیشہ) رائسین، گوالیار، جونا گڑھ ، تک پھیلی ہوئی تھی لیکن مالوہ دہلی سلطنت کے تحت ہی تھا۔ رتھمپور ، مندسور، سارنگپور، بھیلسہ، ہوشنگ آباد، شادی آباد ، جھانڈو ، دھار ، نایچہ ، وغیرہ ریاستوں میں سلطنت کی اہم چوکیاں قائم تھیں۔
مالوہ میں اقتدار کی تفصیل اس طرح رہی :
*  سن 624 ء میں راجا بھوج (اول) کی آزاد حکومت
*  سن 700 ء میں وکرم آدتیہ کی آزاد اور دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
* سن 712 ء میں عبدالرحمان المروئی کی دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
*  سن 712  اور 916 کے درمیان راجا رام دیو مال دیو چوہان، شیخ سلطان غزنوی کئی آزاد حکومتیں
اسی دور میں راجا دھرم راج کی حکومت دہلی سلطنت کے تحت
اور سلطان کمال الدین کی آزاد حکومت
اسی دور میں چیت مل چوہان کی دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
اور راجا ویر سین کی آزاد حکومت
اور سلطان عالم شاہ حکومت دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
اور راجا کھڈک سین حکومت دہلی  سلطنت کے ماتحت حکمرانی
درمیان میں راجا سکت سین حکومت کی آزاد حکومت
اورسلطان بہادر شاہ کی آزاد حکومت
اور آخر میں سلطان شہاب الدین کی دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
917 ء میں راجا بلہارا کی آزاد حکومت
1010 ء میں راجا بھوج (دوم ) کی آزاد حکومت
1055 ء میں راجا سومیشور  ( اول) راجا دیو پال کی حکومت جو کلیان کا حکمراں تھا
1233 ء میں سلطان التمش کی دہلی سلطنت کی حکمرانی
1265 ء میں غیاث الدین بلبن کی دہلی کی حکمرانی
1280 ء میں راجابھوج (سوم) کی آزاد حکومت
1305 ء میں راجا گوہلک دیو کی آزاد حکومت
1305 ء میں انیل ملک ملتانی کی حکومت دہلی سلطنت کے ماتحت
1390 ء میں صوبیدار دلاور خاں کی حکمرانی دہلی سلطنت کے ماتحت
1401 ء میں صوبیدار دلاور خاں کی خود مختار حکمرانی
1406 ء میں سلطان ہوشنگ شاہ غوری کی دہلی سلطنت کے ماتحت حکمرانی
1435 ء میں سلطان محمد شاہ غوری کی دہلی سلطنت کی حکمرانی
1436 ء میں سلطان محمود خلجی کی دہلی سلطنت کی حکمرانی
1469 ء میں سلطان غیاث الدین کی دہلی سلطنت کی حکمرانی
1500 ء میں سلطان نصرا لدین خلجی کی دہلی سلطنت کی حکمرانی
1511 ء میں سلطان محمود خلجی کی دہلی سلطنت کی حکمرانی
1531 ء میں سلطان بہادر شاہ گجراتی کی دہلی سلطنت کی حکمرانی
1542 ء میں شجاعت خاں کی حکمرانی شیر شاہ سوری سلطنت کے ماتحت
1555 ء میں سلطان ملک بایزید عرف باز بہادر کی آخری حکمرانی دہلی سلطنت کے ماتحت

جب سن 712 ء م یں راجا رام دیو نے مالوہ پر اقتدار قائم کرلیا ۔ اس درمیان مصر سے اندور آکر سید سمان بوم نے مالوہ پر قابض رہ کر 70 سال تک حکمرانی کی ۔اس کے بعد مالوہ پر چوہان خاندان نے حکمرانی قائم کرلی ۔ راجا مالدیو چوہان کے دوران حکومت شیخ سلطان غزنوی نے حملہ کرکے مالوہ پر اقتدار قائم کرلیا ۔اس کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے علاؤالدین کی کمسنی کی وجہ سے اس کے دیوان دھرم راج نے حکمرانی قائم کرلی۔ بیس سال بعد جوان ہوجانے پر علاؤ الدین نے دھرم راج کو قتل کر کے اقتدار حاصل کرلیا ۔ علاؤالدین نے بیس سال تک مالوہ پر حکومت کی ۔ اس کے بعد اس کا بیٹا کمال الدین بارہ سال تک حکمراں رہا ۔اس کے بعد راجا بیر سین نے اقتدار حاصل کرلیا ۔اس دور میں ایک پٹھان مالوہ آیااور کچھ مقامی لوگوں کی حمایت سے راجا کوشکار گاہ میں لے جا کر قتل کردیا اور جلال ا لدین نام سے خود سلطان (بادشاہ) بن گیا ۔ اس نے 22 سال حکومت کی اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا عالم شاہ نے حکمرانی کی۔ اس دوران راجہ بیرسین کے رشتہ دار کھڈک سین نے عالم شاہ کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ جمالیا ۔اس کے بعد راجا مکت سین نے مالوہ پر راج کیا ۔ اس دور میں دکن سے بہادر شاہ نامی ایک شخص نے حملہ کرکے سکت سیین کو مارکر برسراقتدار ہوگیا ۔ بہادر شاہ نے زبردست فوج بناکر دہلی پر ہی حملہ کردیا لیکن دہلی کے سلطان شہاب الدین غوری نے اسے ہراکر مالوہ پر قبضہ کرلیا ۔ اس سے قبل پرتھوی راج کو بھی شکست خوردہ ہونا پڑا تھا ۔ حقیقت میں مالوہ پر بیرونی مسلمانوں کے ذریعہ حملہ کر کے بار بار برسر اقتدار ہونے پر بیشتر وقت دہلی سلطانت کے ماتحت رہا ۔ بیچ بیچ میں ہندو راجا بھی برسر اقتدارہوتے رہے۔
917 ء میں راجا بلہاڑی پر مارمالوہ کا مہاراجا ہوا ۔ برے بڑے راجا ، مہاراجا اس کا احترام کرتے تھے ۔ مالوہ پر پرمارکنبہ کا دبدبہ رہا ۔ 1010 ء میں پھر سے راجا بھوج پر مار (دوم) مالوہ پر برسر اقتدار ہوا ۔ 1055 ء میں کلیان کا راجا سومیشور (اول) مالوہ پرحملہ کر کے راجا بھوج کو ہراکر برسر اقتدار ہوگیا ۔ اس کنبہ کا آخری راجا دیوپال تھا ۔ 1233 ء میں سلطان التمش مالوہ پر حملہ کر کے فلسہ (اجینی) کو جیت کر دہلی چلا گیا ۔ 1280-1310 ء تک راجا بھوج (سوم ) برسر اقتدار رہا۔ 1283 ء میں رتھمپور کے راجا حمیر نے مالوہ پر حملہ کیا جس سے ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ۔ 1305 ء میں راجا مہلک دیو اور اس کے وزیر کوکا نے مالوہ میں خود مختارحکومت قائم کرلی جو ناکام رہی ۔ مہلک دیو مالوہ کا آخری ہندو راجاتھا ۔ 1305 ء میں ہی سلطان علاؤ الدین خلجی کے سپہ سالار عین الملک ملتانی نے مالوہ پرحملہ کر کے بلا مقابلہ جیت حاصل کرلی ۔ راجا مہلک مانڈو قلعہ میں مارا گیا اور مالوہ پھر سے دہلی سلطنت کے ماتحت ہوگیا۔
علاؤ الدین خلجی نے مالوہ فتح کرنے کے بعد مالوہ میں اپنے صوبیدار تعینات کردیئے ۔  اپنے سپہ سالار ملک کافور کو دھارمیں تعینات کر کے حکمرانی قائم کرلی ۔ اس کے بعد مالوہ میں مغل حکومت پھیلتی گئی ۔ شہنشاہ تغلق نے دھار میں لال پتھر کا قلعہ بنوایا ۔ دھار شہر کے چاروں جانب دیواروں (فصیل) تعمیر کرائی۔ دہلی کے دولت آباد میں راجدھانی قائم کرنے کے دوران دھار کے قلعہ میں اپنا خزانہ جمع رکھا ۔

شہنشاہ فیروز تغلق کے دور میں ملک نظام دھار کا صوبیدار مقرر ہوا، اس کے دور میںدہلی سلطنت کمزور ہونے لگی۔ غیاث الدین بلبل کے 1365-1387 ء اور محمد بن فیروز شاہ تغلق کے دور 1389-1394 ء تک مالوہ دہلی سلطنت کے ماتحت رہا ۔ 1390 ء میں دلاور خان غوری کو دھار کا صوبیدار مقرر کیا۔ اس وقت مالوہ کی راجدھانی دھارتھی۔ 30 جنوری 1394 ء کو شہنشاہ تغلق کی موت ہوگئی تو چھوٹا بیٹا محمود شاہ 23 مارچ 1394 ء کو برسر اقتدار ہوا ۔ اس دوران بھارت پرتیمور نے حملہ کر کے 18 ڈسمبر 1398 ء کو سلطان محمود کو شکست دے کر برخاست کردیا ۔ سلطان محمود فرار ہوکر دھار آگیا ۔ جہاں دلاور خاں غوری نے پناہ دی ۔ 1401 ء تک برخاست سلطان محمود دھار میں رہتا رہا ۔ کچھ عرصہ بعد سلطان محمود دھار سے چلا گیا ۔ 1401 ء میں دلاور خان غوری نے دھار پرخود مختار حکومت قائم کر کے عمیدہ شاہ نام سے 1406 ء تک حاکم رہ کر دہلی سلطنت سے آزاد رہا ۔ 1562 ء میں مغلوں کے حملے کے بعد مالوہ دوبارہ دہلی سلطنت کا صوبہ بن گیا جو مغلیہ سلطنت کے برخاست ہوجانے پر مراٹھوں کے قبضہ میں چلاگیا اور مراٹھوں کا اقتدار قائم ہوجانے پر مالوہ مختلف صوبوں میں تقسیم ہوگیا۔
مالوہ کی تہذیب :
مالوہ سلطنت میں ہندی اور سنسکرت زبان کا رواج تھا جبکہ فارسی سرکاری زبان تھی ۔ سلطان محمود خلجی (اول) ہندی زبان کا بڑا عالم تھا ۔ 1439 ء میں اس کے ذریعہ تصنیف کردہ ’’جین کلپ سوتربدھی ساگر ‘‘ نامی سنسکرت میں شائع کتاب بہت مشہور ہے۔ مالوہ کے حکمرانوں کے ذریعہ مانڈو میں شاندار عمارات کی تعمیر کی گئی جس میں جہاز محل ، باز بہادر رانی روپ متی کا محل ، چیرائتی خاں کا محل ، نیل کنٹھ محل ، مسجد کمال مولا ہیں جبکہ اجین میں کالیا دیہہ محل، سادل پور کے محل ، بھیڑیا کا جین مندر مشہور ہے۔
باز بہادر اور رانی روپ متی کی داستاں:
باز بہادر : دہلی سلطنت کے ماتحت شہنشاہ عادل شاہ نے 1542 ء میں شجاعت خاں کو مالوہ کا حاکم مقرر کیا ، اس وقت مالوہ کی حکمرانی سارنگ پور سے چلتی تھی ۔ شجاعت خاں نے اپنے تینوں لڑکوں میں ما لوہ کا اقتدار تقسیم کردیا ۔ بڑے اور منجھلے کو اجین اور رائسین کا اقتدار دے دیا جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے ملک بایزید کو ہنڈیا اور آشٹہ کا اقتدار اور خود سارنگ پورمیں اقتدار سنبھال رکھا۔ 1554 ء میں شجاعت خاں کی موت ہوجانے پر ملک بایزید نے مقابلہ آرائی کر کے مالوہ پر خود مختاری قائم کر کے سارنگ پور سے مانڈو آکر رہنے لگا اور اپنا نام باز بہادر رکھا ۔
رانی روپ متی : رانی روپ متی باز بہادر کی رانی تھی جس کے بارے میں کئی متنازعہ کہانیاں ہیں بتایا جاتا ہے کہ روپ متی دھرم پوری (دھار) کے ایک راجپوت جاگیردار تھان سنگھ راٹھور کی بیٹی تھی ۔ باز بہادر شکار کے دوران نرمدا کنارے روپ متی کو دیکھ کر عاشق ہوگیا اور اس سے شادی کرلی ۔د یگر داستانوں میں بتایا گیا ہے کہ روپ متی ایک گلوکارہ اور طوائف کی لڑکی تھی ۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ روپ متی بڑھو رائے اور ریوا رائے کی بیٹی تھی جو گجراتی برہمن تھے ۔ روپ متی 1538 ء میں سارنگ پور کے پھول پور میں پیدا ہوئی تھی ۔ وہ ایک گلوکارہ اور موسیقار تھی اور اپنی خوبصورتی کے سبب بہت مشہور ہوئی اور سارنگ پور سے مانڈو آکر رانی بن گئی ۔

روپ متی کے کنبہ کو باز بہادر نے بڑی بڑی جاگیریں دیں۔ رانی نے مانڈو کے اپنے رہائشی محل کے نیچے اپنی ماں ریوا کے نام پر تالاب بنوایا جس کا نام ریواکنڈ ہے ۔ ساتھ ہی ایک شیو مند بھی بنوایا ۔ قریب میں روپ متی چھتری نصب کی جہاں سے روپ متی نرمدا کا دیدار کرتی تھی۔
1562 ء میں اکبر کے سپہ سالار رادھم خاں کوکا نے سارنگ پور میں باز بہادر کو شکست دی۔ باز بہادر نے حکم دیا کہ حرم سرا کی تمام خواتین قتل کردی جائیں تاکہ مغلوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں اور خود فرار ہوگیا لیکن مغل فوج نے روپ متی کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔ ادھم خاں نے اس سے شادی کرنا چاہی تو روپ متی نے زہر کھا کر خودکشی کرلی ۔ 1562 ء میں شہنشاہ ا کبر مالوہ آیا تو اس واقعہ پر اس نے بہت افسوس ظاہر کیا اور روپ متی کی لاش کو قبر سے نکلواکر ہاتھی پر رکھ کر شاہی اعزاز کے ساتھ دوبارہ دفن کر کے مقبرہ بنوایا ۔ سارنگ پور میں رانی روپ متی کا مقبرہ آج بھی موجود ہے ۔ 1570 ء میں باز بہادر نے اکبر کے دربار میں خود سپردگی کردی ۔ اکبر نے معافی دیتے ہوئے اعزاز یاب کیا ۔ 1588 ء میں باز بہادر کی موت ہونے پر اس کی وصیت کے مطابق باز بہادر کی لاش آگرہ سے لاکر سارنگ پور میں روپ متی کے پہلو میں دفن کردی گئی۔
مسجد کمال مولا / بھوج شالا : دھار میں ایک بڑے صوفی سنت کمال مولا کے مقبرہ سے ملحق جامع مسجد ہے جو 1395 ء میں سلطان علاؤ الدین خلجی نے بنوائی تھی ۔ ہندو ادیب اس مسجد کو بھوج شالا بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ راجہ بھوج کی سنسکرت کی پاٹھ شالا تھی اور یہاں سرسوتی دیوی کی مورتی تھی جو اب لندن کے میوزیم میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT