Tuesday , October 17 2017
Home / مضامین / مفتی سعید کشمیریت کے زندہ مثال تھے!

مفتی سعید کشمیریت کے زندہ مثال تھے!

محمد فیاض الدین
مرحوم مفتی محمد سعید کشمیریت کی زندہ مثال تھے ۔ ایک ایسے زمینی اور تجربہ کار سیاسی قائد جن کی کمی خود ان کی پارٹی پی ڈی پی کو لمبے عرصے تک محسوس ہوگی ۔ جموں و کشمیر کی سیاست میں وہ ایک بڑے چہرے کے طور پر جانے اور مانے جاتے تھے ۔ ان کے اچانک انتقال سے ان کی کمی پورے صوبے کو محسوس ہوگی ۔ مفتی صاحب کا سیاسی قد کچھ ایسے گنے چنے معاصر قائدین میں شمار کیا جاتا رہا ہے ، جنھوں نے بھلے ہی اپنا دائرہ صوبے تک ہی محدود رکھا لیکن جن کی آواز ملک گیر پیمانے پر سنی جاتی رہی ہے ۔ آخر انھیں ملک کا پہلا مسلم وزیر داخلہ سابق وزیراعظم وشواناتھ پرتاپ سنگھ نے ایسے ہی نہیں بنایا تھا ۔ غور طلب ہے کہ اس عہدے پر پہنچنے والے مسلم سیاسی قائد کے طور پر ان کا نام شمار کیا جاتا ہے ۔ مرحوم مفتی سعید جموں و کشمیر کی زمینی پیچیدگیوں اور چیلنجس کو بیحد ایمانداری سے سلجھانے کے قائل رہے ۔ وہ ریاست کے شہریوں کے جذبات اور وقار کی حفاظت کا حساس پہلو اچھی طرح سمجھتے تھے ۔ شاید اسی لئے کئی بار ان کی باتوں کو بے پروائی سے نظر انداز کرنے کی کوشش بھی متعدد قائدین کے ذریعہ کی جاتی رہی ۔ پھر بھی کل ملا کر اپنے صوبے کے ساتھ ہی ملک کے لئے ایک نہایت ذمہ دار سیاستداں کے طور پر ان کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ یہ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے مفتی صاحب کا سیاسی پس منظر ایک کانگریس کی رہی اور ان کی سیاسی اننگز بھی کانگریس سے ہی شروع ہوئی تھی ۔ پھر بھی وہ ایک اہم سیاسی شخصیت بن کر جموں و کشمیر میں کانگریس کے مدمقابل اپنی اہم حیثیت بناسکے تو اس کی اہم وجہ یہی رہی کہ انھوں نے صوبے کی زمینی حقیقت کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا ۔ انھوں نے عام کشمیریوں کی زندگی کی جد وجہد سے اپنے کو ہمیشہ جوڑے رکھا ۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو 12 جنوری کو عمر کی 80 سال ویں سالگرہ مناتے لیکن بدقسمتی سے وہ 80 سال پورے کرنے سے پہلے ہی الوداع کہہ گئے  ۔ مفتی سعید کی پیدائش کشمیر کے بیچ بہارا میں 1936 میں ہوئی تھی ۔ 1987 تک کانگریس کے رکن رہے ، لیکن اسی سال کانگریس چھوڑ کر وی پی سنگھ کی قیادت والے جن مورچہ پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ 1989 میں مفتی سعید ملک کے پہلے مسلم وزیر داخلہ بنے ۔ لیکن آگے چل کر ایک بار پھر پی وی نرسمہاراؤ کی قیادت والی کانگریس میں شامل ہوگئے اور بالآخر کانگریس چھوڑ کر 1999 میں اپنی پارٹی پی ڈی پی یعنی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی تشکیل کی  ۔ جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کو 18 سیٹیں ملیں اور کانگریس کے ساتھ مل کر انھوں نے گٹھ بندھن سرکار بنائی اور 2002 سے 2005 تک پہلی بار جموں و کشمیر کے وزیراعلی رہے ۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات کے بعد پی ڈی پی کو 29 سیٹیں ملیں ۔ کافی غور و خوض کے بعد انھوں نے بی جے پی کی حمایت سے سرکار بنائی اور پھر وزیراعلی بنے ۔ مفتی سعید جموں و کشمیر کے ایسے دوسرے وزیراعلی رہے جن کا عہدے پر رہتے ہوئے انتقال ہوا ۔ ان سے قبل ڈاکٹر شیخ عبداللہ کا بھی وزیراعلی کے منصب پر رہتے ہوئے انتقال ہوا تھا ۔ بہرحال مفتی محمد سعید کی سیاسی وراثت ان کی تجربہ کار بیٹی محبوبہ مفتی کے ہاتھ میں ہے جو اب صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلی بننے کی تیاری کررہی ہیں ۔ مفتی صاحب سیاست کے فلک پر ستارہ بن کر ابھرے اور سیاسی حکمرانی کی نئی عمارت کے آرکیٹکچر ہونے کے ساتھ ہی ریاست میں خوشحال ہندوستانی شروعات کی امید بنے۔ ایسے سیاسی بہادر شخص کو دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش ہے۔

TOPPOPULARRECENT